ہماری تعلیم

میں سڑک کے کنارے کھڑا تھا کہ میرے پاس موٹر سائیکل سوار دو جوان آ کر رکے جو حلیے اور کپڑوں سے موٹر مکینک لگ رہے تھے۔ ایک نے میرے پیچھے ایک بینک کی طرف اشارہ کیا اور پوچھا کہ "بھائی صاحب کیا یہ نیشنل بینک ہے؟”

میں نے ان کو جواب دیا کہ یہ "بینک الحبیب” ہے۔  وہ دونوں مجھ سے نیشنل بینک کا پتا پوچھ کر روانہ ہو گئے لیکن مجھے عجیب سے کرب میں مبتلا کر گئے۔ بینک کا نام انگریزی کے علاوہ اردو میں بھی لکھا ہوا تھا جو وہ نہیں پڑھ سکتے تھے۔

ہم  نبیﷺ کے پیروکار ہیں جنہوں نے علم حاصل کرنے پر بہت زیادہ زور دیا تھا لیکن ہم نے کیا حاصل کیا؟

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ۱۹۷۳ کے آئین، آرٹیکل ۳۷ بی کے مطابق "حکومت ناخواندگی کو ختم کرے گی اور کم سے کم عرصہ میں  لازمی ثانوی تعلیم مفت مہیا کرے گی”۔ اور اس بات پر عمل کتنا کیا جا رہا ہے وہ آپ بخوبی جانتے ہیں۔ بجٹ میں تعلیم کی مد میں کچھ رقم رکھی جاتی ہے جو بعد میں نامعلوم لوگوں کے کبھی نہ بھرنے والے پیٹ میں منتقل ہو جاتی ہے۔ سرکاری سکولوں میں خصوصاً دیہات میں اکثر بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے۔  وزارتِ تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق ۳۳ فیصد سکولوں کے گرد چاردیواری نہیں، ۲۹ فیصد سکولوں میں پینے کیلیے پانی نہیں، ۵۰ فیصد سکولوں میں بجلی نہیں اور ۶ فیصد سکولوں کی عمارت ہی نہیں۔ بھوت سکولوں کی کہانی الگ ہے۔

الحمداللہ ہمارے ملک کے ۵۵ فیصد لوگ "پڑھے لکھے” ہیں۔ پڑھے لکھے کی تعریف اور تناسب مندرجہ ذیل تصویر میں ملاحظہ فرمائیں:

پاکستان میں شرح خواندگی

ہمیں Entrepreneurship کی کتاب میں پڑھایا گیا تھا کہ پاکستان میں وہ لوگ جو اپنا ذاتی کاروبار شروع کرتے ہیں، ان میں ۶۰ فیصد لوگوں کی تعلیم سکول تک محدود رہتی ہے، ۳۰ فیصد کالج کی تعلیم رکھتے ہیں اور صرف ۱۰ فیصد گریجویٹ یا اعلیٰ فنی تعلیم کے حامل ہوتے ہیں۔ ان لوگوں سے کیا امید رکھی جا سکتی ہے؟ کیا یہ لوگ پاکستانی معیشت کو ترقی دے سکتے ہیں؟

سیاستدان "روٹی، کپڑا اور مکان” کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن تعلیم کو اس نعرے میں شامل کیوں نہیں کرتے؟ تعلیم ہو گی تو روٹی کپڑا اور مکان بھی پیدا ہو جائیں گے ورنہ دوسری صورت میں وہی ہو گا جو اس وقت ملک میں ہو رہا ہے یعنی دہشت گردی، غربت اور بھِک منگوں والی زندگی۔



Advertisements

Posted on مارچ 18, 2010, in متفرقات and tagged , , , , . Bookmark the permalink. 6 تبصرے.

  1. بھولے بادشاہ، آپ لوگ یہ نہیں سوچتے کہ اگر روٹی، کپڑا اور مکان دے دیا تو پارٹی کی سیاست کس نعرے پر چلے گی؟ اس لیے پارٹی کی سیاست کو زندہ رکھنے کے لیے یہ تینوں چیزیں کبھی نہیں دی جائیں گی۔ جب زندہ رہنے کے لیے یہ تین چیزیں ہی فراہم نہيں کی جا رہیں تو تعلیم کس کھیت کی مولی ہے؟

  2. يہ تو مہربانی ہے دينی مدرسوں اور مساجد کی ورنہ سکول کالج کے پڑھے لکھے تو شايد 24 فی صد ہيں

  3. ہر ماں باپ کے اٹھارہ اٹھارہ بچے ہوں گے تو روٹی پوری کرنا مشکل ہے تعليم کو کيا کرنا

  4. اچھا، سیاست داں آپکو تعلیم دے دیں تاکہ آپ انکا مکو ٹھپ دیں!

  5. میں تو کہتا ہوں پوری سیاست ہی ٹھپ دو نا رہے گا بانس اور نا سیاسی بانسری ۔

  1. پنگ بیک: تیزابیت » Blog Archive » حکومت “کمپیوٹر شیڈنگ” کی تیاری میں

تبصرہ کیجیے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: