ماوراء کا خواب

ماوراء نے خواب میں علامہ اقبال کو دیکھا۔ وہ پریشانی میں اِدھر اُدھر ٹہل رہے تھے۔ ماوراء اور علامہ اقبال کے مابین کچھ اس طرح گفتگو ہوئی:

ماوراء : اے شاعرِ مشرق آپ کیوں پریشان ہیں؟

علامہ اقبال: میں اپنی قوم کیلیے پریشان ہوں۔ اس خوابِ غفلت میں سوئی ہوئی قوم کو جگانے کیلیے میں نے کیا کیا پاپڑ نہیں بیلے۔ میں نے ہزاروں اشعار لکھے کہ مسلمان اپنی عظمتِ رفتہ کو یاد کر کے دوبارہ اٹھیں۔ مجھے ڈر ہے کہ میری محنت رائیگاں نہ گئی ہو۔ لڑکی تم مجھے بتاؤ کہ میری قوم اس وقت کس حال میں ہے؟

ماوراء : جناب آپ کو اب فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں آپ کی محنت رنگ لا چکی ہے۔ آپ کے خوابوں کی سرزمین عرضِ پاک اس وقت دنیا کا سب سے خوش حال ملک ہے۔ یہاں مسلمان اسلامی اصولوں کے عین مطابق زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہاں مکمل امن ہے اور اقلیتیں بھی بالکل محفوظ ہیں۔

علامہ اقبال: مجھے اس قوم کے حکمران کے بارے میں بتاؤ

ماوراء : اس وقت قوم کے سب سے زیرک، مدبر اور دانا شخص کے ہاتھ میں قوم کی باگ ڈور ہے۔ یہ شخص قول اور وعدے کا سچا اور پکا ہے۔ جو بات کہتا ہے کر دکھاتا ہے۔ عدلیہ کا احترام اس کے دل میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ آپ نے اپنی شاعری میں جس شاہین کا تذکرہ کیا ہے وہ شاہین یہی ہے۔

علامہ اقبال: کیا وہ میرے فلسفہء خودی سے آگاہ ہے؟

ماوراء : جی ہاں بالکل! اس نے کبھی غیروں کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا۔ اسے شاہین اور کرگس کا فرق اچھی طرح معلوم ہے۔

یہ سُن کر علامہ اقبال کے چہرے پر مسرت اور اطمینان کی لہر دوڑ گئی اور ماوراء کی شرمندگی کے مارے آنکھ کھل گئی۔


Advertisements

Posted on مارچ 2, 2010, in متفرقات and tagged , , , , , . Bookmark the permalink. 16 تبصرے.

  1. چلو علامہ کو ایک چھوٹے سے جھوٹ سے تو سکون مل گیا نا
    ماورا بی بی کی خیر ہے
    وہ چیزوں کو زیادہ سیریس نہیں لیتیں

  2. اب کی بار تو ماورا بچ گئی اسے کہیں احتیاط کریں روحیں جلال میں بھی آ جاتی ہیں ۔ علامہ اقبال کو ایک نیا شکوہ جواب شکوہ ترتیب دینا پڑے گا

  3. میں سمجھتا رہا کہ خواب ميں حقيقت سامنے آتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خير چھوڑے اس قصے کو ۔ يہ بتايئے کہ ميری پياری بھتيجی ماوراء نے آپ کا کيا بگاڑا ہے کہ سارا جھوٹ اُس کے نام مڑھ ديا ہے ؟

  4. ماورا سے کہیں پریشان نہ ہوں انکا یہ جھوٹ ایک دن سچ ثابت ہوگاانشاءاللہ!
    پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ:)

  5. بھءی ہم سوچ رہے ہیں کہ حضرت کے تخیل کی اڑان تو علامہ کے شاہین سے بھی بلند تر ہے۔

  6. واه واه… میرے خواب کو بہت اچھے انداز میں بیان کیا ہے 😀
     
    "…وه شاهین یہی ہے” ها ها ها…سہی کہا. 

     
    ڈفر، میں نے تو اس خواب کو بہت سنجیدگی  سے لیا ہے.

  7. خواب ميں اپنے آپ کو نہيں ديکھا بڑے چالاک ہيں آپ کہ کہيں اقبال ساتھ ہی نہ چلنے کو کہہ ديں ويسے ماوراء نے ان سے ادھر کا حال نہيں پوچھا جنت کی حوروں کے خوائشی جو اپنے ساتھ بے خوائشوں کو بھی لے اڑتے ہيں کيسے تواضع ہو رہی ہے انکی ستر ہزار سے يا لترول سے

    • اس میں میری کوئی چالاکی نہیں اسماء بہن، واقعی ماوراء نے خواب میں علامہ اقبال کو دیکھا تھا

      باقی جن لوگوں کا آپ نے ذکر کیا اللہ بہتر جانتا ہے کہ حوریں ان کا سواگت کر رہی ہیں یا داروغہء جہنم۔

  8. sadiyoon say bathkti howie rooh amar ho gie…. Mawara jee Bari jhooti ho app 😛

  9. شاہین نا کہو۔۔۔ کسی شاہین کو پتہ چل گیا تو بُرا مان جائے گا۔۔۔

  10. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آیٗندہ محتر می و مکر می اقبال صاحب کو دیکھیں تو یہ پیغام دینا مت بھو لئے گا کہ آپ کا مزدور جاپان میں بڑی ھی اچھی اوقات میں ھے۔اور آپ کے شاھیں سے بچا ھوا ھے۔

تبصرہ کیجیے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: