ایک یاد دہانی

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا پیغام

میں آپ کو واضح طور پر بتا دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہو گی اور صرف اردو، اور اردو کے سوا کوئی اور زبان نہیں ہو گی۔ دیگر اقوام کی تاریخ اس امر پر گواہ ہے کہ ایک مشترکہ سرکاری زبان کے بغیر کوئی قوم باہم متحد نہیں ہو سکتی اور نہ کوئی اور کام کر سکتی ہے، پس جہاں تک پاکستان کی سرکاری زبان کا تعلق ہے وہ صرف اور صرف اردو ہی ہو گی۔

( ۲۱ مارچ ۱۹۴۸ ڈھاکہ)

Advertisements

  1. اردو پاکستان بھر کی رابطہ کی زبان ھے- اسکو فروغ دینے سے پاکستان کو استحکام حاصل ھوگا- اردو بر صغیر کے لوگوں کی مانوس زبان ھے-اب آپ اس سے اندازہ لگائیں کہ ھندوستان میں فلمیں اردو میں بنائی جاتی ھیں لیکن ٹائٹل میں ھندی لکھا ھوتا ھے ایک دو فلم سازوں نے خالص ھندی میں فلمیں بنائیں جیسے امر پالی وغیرہ لیکن یہ فلمیں بزنس نہ کرسکیں – جسطرح لوگ ھر بات میں سازش کا پہلو ڈھونڈ لیتے میں نے بھی سازش کا پہلو ڈھونڈ لیا ھے -میرے خیال میں بالا طبقہ نے سوچا کہ یہ مانوس زبان تو غریب کا بچہ بھی پڑھ لے گا پڑھ لے گا تو شعور بھی آجائے گا اور شعور آگیا تو ھماری خاندانی حکومت بھی ختم ھو جائے گی-اسی لئیے اردو کو فروغ نہیں دیا جارھا ھے-مادری زبان/علاقائی زبان کے دلفریب الفاظوں سے بہلایا جارھا ھے اور قومی زبان/برصغیر کی مانوس زبان / پاکستان بنانے والے کی خواھش کی زبان کو ہیچھے دھکیلا جارھا ھے – شاید قائدآعظم نے یہی سوچ کر اردو کو قومی زبان قرار دیا تھا کہ غریب کا بچہ بھی اس مانوس زبان کو سیکھ کر شعور حاصل کر لے گا تو اپنی کلاس کے لوگوں کو قانون ساز اداروں میں بھیج سکے گا جو اسکی کلاس کی بہتری کیلئے قانون سازی کر سکیں گے -جیسے اسوقت اپر کلاس کے لوگ اسمبلیوں میں جا کر صرف اپنی کلاس کے مفاد کیلئے قانون سازی کرتے ھیں- شُکریہ


  2. برادرِ من میں آپ کے ان خدشات سے مکمل طور پر متفق ہوں اور خود بھی ایسے اندیشے رکھتا ہوں ۔ باوجود اس بات کے ، کہ میں انگریزی سکولوں کالجوں میں پڑھا اور اب بھی ایک گوروں کے کالج میں اپنی بقیہ تعلیم مکمل کر رہا ہوں لیکن اس بات کا مان کرنا اور اپنی قومی اقدار کی حفاظت کرنا ہم سب پر ایک جیسا ہی ملی فرض ہے ۔ زبان کسی قوم کی تہذیب اور تاریخ کی اساس ہوتی ہے ہمیں اردو کو فروغ دینا چاہیے ۔ ( ویسے میرے ہم جولی اور ہم جماعت تو روزمرہ کے معمولی الفاظ سے بھِ ناآشنا ہیں کیسے تاسف کی بات ہے ؟؟)


  3. جناح جیسے لیڈر سے ایسی آمرانہ تقریر کی میں توقع نہیں کرتا۔ اور بات پھر تقریر تک نہیں رہی۔ جب بنگالیوں نے اس بات کو تسلیم کرنے سے انکارکیا تو بنگالی طلبا پر گولی بھی چلائی گئی۔ یہ واقعہ ۲۱ فروری کو پیش آیا۔ چنانچہ آج ساری دنیاء میں ۲۱ فروری کو مادری زبان کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ پاکستان میں یہ بات بہت کم لوگوں کو معلوم ہے۔ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ جناح کی اس تقریر نے بنگلہ دیش کی بنیاد رکھ دی تھی۔

  4. مفکرعالم حضرت علامہ عنایت اللہ خان المشرقیؒ نے 1956ء میں منٹو پارک لاہور میں ’’سقوط ڈھاکہ کے بارے میں ۷۱-۱۹۷۰ ء میں درپیش آنیوالے حالات وواقعات کی پیشنگوئی فرمائی اور ان سے نپٹنے کی راہیں واکردیں‘‘ ۔
    خطاب کا ایک حصہ درج ذیل ہے۔
    ——————————–
    ” مسلمان بھائیوں! میں نے مسلما ن قو م کی حالت دیکھتے ہوئے کافی سوچ بچار کے بعد ۱۹۳۱ میں خاکسار تحریک شروع کی تھی جس کا مقصد دنیا میں غلبہ اسلام تھا اور دنیا میں مسلما ن قوم کی بادشاہت قائم کرنا تھا۔ میں چاہتا تھا کہ ہندوستان کا مسلما ن سپاہیانہ زندگی اختیار کرکے آنے والے حالات میں اپنی عزت، جان ومال کو بچاسکے اور مسلمان منظم ہوکر انگریز سے اپنا حق چھین لے اور ہندوستان پر بادشاہت بھی مسلمان کو ملے۔ مگر مسلمان قوم نے میری بات پر توجہ نہیں دی۔ ماسوائے اس کے مجھے پاگل اور دیوانہ سمجھتی رہی جس کا نتیجہ یہ نکلا تقسیم کے وقت مسلمان قوم کو ستر ہزار عصمتوں اور لکھوکھہا انسانوں کی کی قربانی دینی پڑی۔ تقریباً دو کروڑ انسانوں کو گھر بار چھوڑنے پڑے۔ سوا تین کروڑ مسلمانوں کو ہندو کی غلامی اختیا ر کرنی پڑی اتنا بڑا عذاب شاید ہی کسی قوم پر خدا کی طرف سے نازل ہوا ہو۔ میں نے حکومت وقت کو کئی با ر مطلع کیا۔ ۱۹۴۸ء میں مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل میں پیش کرنے کی مخالفت کی کہ اگر یہ مسئلہ سلامتی کونسل میں چلاگیا تو قیامت تک حل نہ ہو سکے گا۔ حکومت ِوقت کو بزور ِ جہاد کشمیر حاصل کرنے کے لئے کہا گیا کہ کشمیر کو ہر حالت میں حاصل کیا جائے۔ اگر کشمیر کو حاصل نہ کیا گیا تو انڈیا تمام دریاؤں کے رخ انڈیا کی طرف پھیر لے گا۔ مگر مجھے ایک مجذوب کی بڑ سے نوزاگیا اور برسر اقتدار طبقہ کے حکم پرڈیڑھ سال کےلئے بغیر مقدمہ چلائے جیل میں ڈال دیا۔ پھر مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستا ن کو آپس میں مضبوط اور طاقتور ایک جان دو قالب میں منقسم کرنے کے لئے پروگرام دیا کہ دونو ں طرف سے تقریباً دس لاکھ انسانو ں کو دونو ں طرف آباد کر دیا جائے تاکہ ان کی تہذیب، کلچر، رہن سہن مشترک ہوجائیں، شادی بیاہ کے بندھن میں ایک دوسرے سے لگاؤ کریں تاکہ کوئی بھی طاقت ملک کے دونوں حصّوں کو آپس سے علیحدہ نہ کر سکے۔ اس پر بھی گورنمٹ نے توجہ نہ دی“ ۔
    ” مسلمانو! میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ ایسا دور آنے والا ہے جوکہ غالباً ۷۱-۱۹۷۰ء کا دور ہوگا۔ اس دور میں میری نگاہیں دیکھ رہی ہیں کہ ہر طرف ایک یورش کا طوفان اٹھ رہا ہوگا۔ ملک کے اندورنی حالات بڑے خراب ہوں گے۔ خو ن خرابہ کا ہر وقت خدشہ ہوگا۔ نسلی اور صوبائی تعصب کو ہر جگہ ہوا دی جارہی ہوگی۔ زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے ہوں گے۔ ملک کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے پروگرام بن رہے ہوں گے، میں تمہیں متنبہ کرتا ہوں کہ اگر ملک کی قیادت مضبوط ہاتھوں میں نہ ہوئی تو جا ن لو اس ملک کا بچنا محال ہوسکتا ہے۔ مشرقی پاکستان مغربی پاکستان سے کٹ جائے گا ۔ ہوسکتا ہے کہ اندورنی خلفشار کی وجہ سے کہیں انڈیا فائدہ اٹھاکر ملک ہڑپ نہ کر لے ہوسکتا ہے کہ غلط قسم کے لوگ برسر اقتدار آکر پاکستان کو ہندو کی غلامی میں نہ دے دیویں ۔ میں تمہیں ۷۱-۱۹۷۰ء کے لئے خبردار کرتا ہوں کہ اُس وقت کے لئے ابھی سے تیاری شروع کر دو اس وقت اس ملک میں ہر فرد اپنے آپ کو منظم کرلے تاکہ ملک کے بیرونی دشمن اور اندرونی دشمن کوئی فائدہ نہ اٹھالیں۔ یاد رکھو کہ اگر تم ایسا نہ کیا تو ایک بہت بڑا عذاب تم پر نازل ہوگا ۔ ۱۹۴۷ء میں تمہارے لئے ایک جائے پناہ تھی جس میں آکر تم محفوظ ہوگئے مگر اب میری نگائیں دیکھ رہی ہیں کہ ایک طرف اٹک کا دریا ہوگا دوسری طرف چین کی سرحدیں ہوں گی تمہارے پاس کہیں جائے پناہ نہ ہوگی تمہیں ہندو کا غلام بنکر رہنا ہوگا ، ہوسکتا ہے کہ تمہاری نسلیں در نسلیں ہندو کی غلام بنکر رہیں۔ اگر تم آزاد رہنا چاہوگے تو تمہیں ہندو مت اختیا ر کرنا پڑے گا جو کہ تمہاری زندگی کا برا دن ہوگا! کہ تم اپنا مذہب سے ہٹ کر دوسرا مذہب اختیا ر کر رہے ہوگے۔ نافرمان قوموں پر خداکا عذاب ان کے اپنے ہی اعمال کی وجہ سے آیا کرتا ہے۔ اس عذاب سے بچنے کےلئے ابھی سے خدا کا سپا ہی بن کر عملاً طاقتور بن جاؤاسی میں تمہاری بہتری ہے۔
    خدا تمہا رے ساتھ ہے۔

    علامہ عنایت اللہ خان المشرقیُ
    بانی خاکسارتحریک

  5. Nation Mourns Death of Legendary Freedom Fighter, Allama Mashriqi
    https://www.facebook.com/AllamaMashriqi.1

تبصرہ کیجیے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: