Monthly Archives: اکتوبر 2010

ایک "نبی” کے مزار کی زیارت

کل شام میں قبرستان میں کچھ عزیز و اقارب کی قبور پر فاتحہ پڑھ کرگزر رہا تھا کہ راستے میں یہ مزار آ گیا۔ اس جگہ سے سالوں بعد گزر ہوا۔ بچپن میں جب میں نے پہلی مرتبہ یہ قبر دیکھی تو سمجھا کہ شاید یہ جنوں دیووں کی کہانیوں والے کسی دیو کی ہے۔ بات بھی کچھ غلط نہ تھی کیونکہ اب تک میرے علم میں ایسا کوئی انسان نہیں آیا جو اتنا دیو قامت ہو۔

اس قبر پر لگے کتبوں کے مطابق یہ قبر "حضرت حام بن نوحؑ” کی ہے۔ بعض کتبوں پر "حام” کی بجائے "ہام” بھی لکھا ہوا ہے۔ یہ مقام روال تحصیل پنڈدادنخان ضلع جہلم کے قبرستان میں واقع ہے۔ ایک کتبے کے مطابق اس مزار کی نشاندہی حافظ شمس الدین آف گلیانہ، گجرات نے ۱۸۹۱ میں کی تھی۔ موجودہ حالت میں یہ مزار ۱۹۹۴ میں بنایا گیا۔

ایک اور کتبے کے مطابق حضرت حام بن نوحؑ کا شجرہ کچھ اس طرح سے ہے: حضرت حامؑ ابن نوحؑ ابن لامک ابن متوشلخ ابن ادریسؑ ابن یارد ابن مہلبیل ابن کنعان ابن انوش ابن شیث ابن آدمؑ۔

اس قبر کی سب سے خاص بات اس کی جسامت ہے جو کہ آپ کی اور میری سوچ سے بھی زیادہ ہے۔ یہ قبر ۷۸ فٹ لمبی ہے۔ چوڑائی کا اندازہ آپ خود کر لیں۔



اس قبر کو دیکھ کر ذہن میں کئی سوال اٹھتے ہیں، مثلاً:

کیا واقعی یہاں وہی دفن ہیں جس کا دعویٰ کیا گیا ہے؟ کیا حضرت نوحؑ کا کوئی بیٹا واقعی ادھر آیا تھا؟ کیا حام نبی ہیں؟ اگر انسان کی عمر ۱۰۰۰ سال ہو سکتی ہے تو کیا اس کا قد بھی ۷۵ فٹ سے زائد ہو سکتا ہے؟

Advertisements
%d bloggers like this: