Monthly Archives: جنوری 2010

گوگل اور مذہب

گوگل مختلف مذاہب کے بارے میں اپنے تلاش کرنے والوں کو کس قسم کی رائے سے نوازتا ہے، ملاحظہ فرمائیے:

Google and Christianity گوگل اور یہودیتگوگل اور ہندومتگوگل اور بدھ متگوگل اور اسلاماسلام اور دیگر مذاہب کے نتائج کا موازنہ کریں۔ گوگل عموماً اپنے نتائج سنسر نہیں کرتا۔ آپ کے خیال میں اس فرق کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟

———————————————————————-

نوٹ: یہ نتائج http://www.google.com.pk  کے ہیں۔ دیگر گوگل ڈومینوں پر نا خوشگوار  نتائج بھی کھل کر سامنے آ سکتے ہیں۔

نام نہاد مہذب لوگ

لوگ فیس بُک پر دلچسپ چیزیں شیئر کرتے رہتے ہیں۔  دلچسپ چیز کو شیئر کرنے کے چکر میں ایک لڑکی کو پولیس کی پوچھ گچھ کا سامنا کرنا پڑا۔  ہوا کچھ یوں کہ ایسکس (برطانیہ) میں ایک اٹھارہ سالہ ماں نے اپنے چھ ماہ کے بیٹے کے منہ میں سگریٹ ڈالا اور اس کی تصویر کھینچ لی۔

Ollie


اِس تصویر کو اُس نے فیس بک پر شیئر کردیا۔ تصویر کو جیسے ہی لڑکی کے آن لائن دوستوں نے دیکھا، وہ فوراً تشویش میں مبتلا ہو گئے۔ انھوں نے پولیس کو مطلع کر دیا۔ پولیس اور سوشل سروس والوں نے ربیکا (بچے کی ماں) کے گھر کا دورہ کیا اور اپنی تسلی کرنے کے بعد اعلان کیا کہ بچے کو کوئی خطرہ نہیں۔

یہ تو تھی کہانی بچے کی جس کے منہ میں اس کی ماں نے دلچسپ اور یادگار تصویر لینے کے چکر میں سگریٹ ڈال دیا۔ اب پولیس کی آمد کے بعد اس کے اور اس کے دوستوں کے تاثرات ان کی اپنی زبان میں

ربیکا نے اپنے سٹیٹس میسج کو کچھ یوں اپڈیٹ کیا:

‘Some w***** reported me to the police abwt picture off ollie.’

اس کے بعد اپنے بیٹے سے محبت کا اظہار ان الفاظ میں کیا:

‘Why Would SomeOne Do That To Me U Ollie No was taking U Yur Mine for lyfee Darlinggg Mummy Loves You :)’

اس پر اس کے ایک دوست نے ہمدردی کا اظہار کیا:

‘Some ppl r nosey f****** aint they!! dw [don’t worry] ur a good mum they wont hassle u 4 long!!!’

ایک اور دوست نے یوں تنقید کی:

‘What chance has the kid got if the family behave like this?’

اور اِس کے بعد یہ تصویر فیس بُک سے ہٹا لی گئی۔

یہ تھی حرکت ایک مہذب، تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ معاشرے میں رہنے والے لوگوں کی، جو ہمیں ذہنی پسماندگی کا طعنہ مارتے نہیں تھکتے ہیں۔

اردو بلاگروں کیلیے تجویز

محمد سعد نے  ایک تبصرے میں اردو بلاگران کیلیے ایک تجویز پیش کی ہے جو ان کی خواہش کے مطابق یہاں ایک پوسٹ کی صورت میں شائع کی جا رہی ہے۔

السلام علیکم ۔ میری تجویز ہے کہ ہر مسلمان اردو  بلاگر کم از کم مہینے میں ایک بار قرآن مجید کی کوئی آیت یا کوئی حدیثِ نبوی ترجمہ اور تشریح کے ساتھ بلاگ پر ضرور لکھا کرے۔ آیت یا حدیث ایسی منتخب کی جائے جو عام لوگوں کی سمجھ میں آسانی سے آ سکے اور اسے سمجھنے میں غلطی کا امکان نہ ہو۔ آہستہ آہستہ تعداد بڑھے گی تو ایک اچھا خاصا ذخیرہ جمع ہو جائے گا جو کہ ہم آج کے مسلمانوں کو واپس مسلمان بنانے میں انتہائی مدد گار ہوگا۔
قرآن مجید کی آیات خود ہاتھ سے نقل کرنا اگر مشکل لگے تو “ذکر” نامی اس سافٹ وئیر سے مدد لی جا سکتی ہے۔
http://zekr.org
امید ہے کہ تمام اردو بلاگر میری اس تجویز پر غور کریں گے۔

%d bloggers like this: