Monthly Archives: جون 2012

زیست برای خورد

جب میں پرائمری سکول میں پڑھتا تھا تو   یہ معلوم ہوا کہ تمام جانداروں کو زندہ رہنے کیلیے ہوا ، پانی اور خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔  ماسٹر جی نے یہ تو بتا دیا مگر خوراک کی وضاحت نہ کی۔ ذہن چونکہ بچوں والا تھا اس لیے خوراک سے مراد روٹی ہی لیتا رہا مگر یہ تجسس بھی کافی عرصہ رہا کہ پودے روٹی کیسے کھاتے ہیں؟ خیر اگلی جماعتوں میں معلوم ہو گیا کہ جاندار اپنی اپنی نوع اور ضرورت کے مطابق روٹی کی علاوہ بھی بہت کچھ کھاتے ہیں اگر مل جائے تو!

مثال کے طور پر کبوتر دانے کھاتا ہے، میاں مٹھو چُوری کھاتا ہے، گدھا گھاس کھاتا ہے، بلی چوہے کھاتی ہے اور کتا جو کچھ کھاتا ہے  وہ آپ اچھی طرح جانتے  ہیں مجھے بتانے کی ضرورت نہیں۔ اگر حضرت انسان کی بات کی جائے تو یہ وہ کچھ کھا جاتا ہے جس کو کوئی اور جاندار ہضم نہ کر سکے اور بعد میں ڈکار تک نہیں لیتا۔ مثلاً بچہ جو چیز ہاتھ میں آ جائے کھا جاتا ہے،  کلرک رشوت کھاتا ہے،  فقیر بھیک مانگ کر کھاتا ہے، غریب گالیاں  کھاتا ہے،  جھوٹا قسم کھاتا ہے،  کمزور مار کھاتا ہے،   پولیس والا حرام کھاتا ہے ، مسلمان سود کھاتا ہے،   ڈاکٹر فیس کھاتا ہے اور سیاستدان ……  عام آدمی ہمیشہ اس  سے فریب کھاتا ہے۔

ہمارے ملک میں دو قومیں ایسی ہیں جن پر آسمانوں سے من و سلویٰ نازل ہوتا ہے۔ ایک تو یہ سیاستدان اور دوسری قوم  وہ جس کا نام بوجۂ خوفِ تاحیات گمشدگی نہیں لیا جا سکتا۔ کبھی کبھی دل میں یہ کفریہ خیال آتا ہے کہ ان دو قوموں پہ خدا  مہربان کیوں ہے؟  شیطانی وسوسوں سے بچنے کیلیے میں دل کو تسلی دے لیتا ہوں کہ ان کا انجام بھی وہی ہے جو بنی اسرائیل کا ہوا تھا۔

ہر انسان اپنی سوچ ،  کردار، حیثیت اور عادت کے مطابق یہ سوچے بغیر کہ اس کی ضرورت بس ایک یا دو روٹی ہی ہے، بہت کچھ کھا جاتا ہے۔ جو نہ کھا سکے وہ دنیا میں  دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کو کوستا ہے مگر اپنا دماغ نہیں استعمال کرتا۔

اور ایک بات جو اکثر میں بھول جاتا ہوں کہ اللہ بھی اپنی مخلوق پر رحم کھاتا ہے۔

%d bloggers like this: