مداری

کسی ملک میں ایک ظالم بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ ساری رعایا اس کے ظلم و ستم سے بہت تنگ تھی۔ ایک دن تنگ آکر رعایا نے بادشاہ کو ملک بدر کر دیا۔

  جب نئے بادشاہ کو منتخب کرنے کا وقت آیا تو ہر طرف بحث شروع ہو گئی۔ مختلف لوگوں نے اپنی اپنی آراء پیش کیں۔ آخر فیصلہ یہ ہوا کہ ملک کے سب سے بے ضرر انسان کو بادشاہ بنایا جائے تاکہ عوام پر کوئی ظلم نہ ہو اور وہ ہنسی خوشی زندگی بسر کر سکیں۔ اس کے بعد عوام نے متفقہ طور پر ایک مداری کو اپنا بادشاہ منتخب کر لیا۔

جب ہمسایہ ممالک کو علم ہوا کہ وہاں اب ایک مداری حکومت کر رہا ہے تو وہ بہت خوش ہوئے اور انہوں نے سازباز کر کے حملہ کر دیا۔ محل میں کسی نے آکر مداری کو اطلاع دی کہ دشمن نے حملہ کر دیا ہے۔ مداری کے کان پر جوں تک نہ رینگی اور وہ اپنے تماشے میں مگن رہا۔ آہستہ آہستہ حملے کی خبر پھیل گئی تو لوگ محل کے باہر اکٹھے ہو گئے۔ دربان نے مداری کو بتایا کہ "بادشاہ سلامت، محل کے باہر سب لوگ جمع ہو گئے ہیں اور کاروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں”۔ یہ سن کر مداری نے ڈگڈگی پکڑی اور اپنے بندر کو لے کر محل سے باہر آیا۔ اس نے لوگوں کو بتایا کہ بے فکر رہو میں کاروائی کرنے لگا ہوں۔

 اور اس کے بعد سب لوگ بندر کا تماشہ دیکھنے میں محو ہو گئے اور انہیں یاد ہی نہ رہا کہ دشمن کی فوجیں ان کے سر پر پہنچ چکی ہیں۔ جب ایک ہرکارے نے آخری بار سب کو خطرے سے آگاہ کیا تو مداری اپنے گدھے پر اپنے سازوسامان سمیت سوار ہو گیا اور یہ کہتے ہوئے وہاں سے چل دیا کہ "جو میں تمہارے لیے کر سکتا تھا کر دیا، اب تم جانو اور تمہارا ملک!”  

Advertisements

Posted on مئی 23, 2011, in متفرقات, سیاست and tagged , , , , . Bookmark the permalink. 18 تبصرے.

  1. زرداری بھاگ رہا ہے کیا؟؟؟

  2. saad abb tum nay madarioun koo naraz kar diya :))

  3. معذرت کے ساتھ جناب یہ مداری کی توہین ہے اسے زرداری مت کہیں بلکہ مداری تو اپنا سامان زرداری پر لاد کر لے گیا تھا۔

  4. اچھے بادشاہ بھی ظلم نہ کریں تو انکے بعد مداری کی ضرورت نہ پڑے ۔

  5. پاکستان کے حالات ایسے ہو چکے ہیں کہ ہر مضحکہ خیز تمثیل اور ہر قسم کا مزاحیہ اور فکاہیہ انداز ہزار سنجیدہ تبصروں سے بہتر لگنے لگتا ہے

  6. مداری کے ذمے پڑ گئی خلقت ۔ قوم تو ہم ہيں ہی نہيں ۔ بھانت بھانت کی جنگلی بوٹيان ہيں

  7. پائی جی صرف بادشاہ ہی مداری نہیں ہے۔ ارباب اختیار سارے ہی مداری ہیں۔

    ان چہرہ بدلنے والوں کو
    انصاف ، حقوق ، وفا سے کیا؟
    یہ ڈاکو ، تاجر ، چور افسر ،
    شاگرد ، استاد مداری ہیں

    آئین ، الیکشن ، یو این او
    انصاف ، حقوق انسانی
    اے بچہ جمہورا یہ باتیں
    جو کرتے ہیں وہ مداری ہیں


  8. یہ مداری کتنا شریف تھا چلا گیا زرداری تو جاتا بھی نھی پتا نھی کب ھماری جان چٹھے گی

  1. پنگ بیک: مداری | Tea Break

تبصرہ کیجیے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: