Monthly Archives: اپریل 2010

شیخ احمد کا پیغام

شیخ احمد نے مدینہ سے یہ خبر بھیجی ہے کہ جمعہ کی ایک رات وہ قرآن کی تلاوت کرتے کرتے سو گئے اور خواب میں حضورپاک ﷺ کی زیارت کی۔  دیکھا کہ حضور پاک ﷺ سامنے کھڑے ہیں اور فرما رہے ہیں:

ایک ہفتے میں سات ہزار لوگ مرے مگر ان میں سچا مسلمان ایک بھی نہ تھا۔ ان میں سے کوئی بھی اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار نہیں تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ برا وقت ہے۔ بیویاں شوہروں کی تابعدار نہیں ہیں، لڑکیاں پردہ کیے بغیر ادھر اُدھر گھومتی ہیں اور اپنے والدین کا احترام نہیں کرتیں۔ امیر غریبوں کی مدد نہیں کرتے اور نہ ہی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ اے شیخ احمد! لوگوں کو کہو کہ نماز پڑھا کریں، روزے رکھا کریں اور زکوٰۃ ادا کیا کریں کیونکہ فیصلے کا دن قریب ہی ہے۔ جب آسمان پر صرف ایک ستارہ رہ جائے گا تو معافی کا دروازہ بند ہو جائے گا۔ قرآن اُٹھا لیا جائے گا اور سورج زمین کے قریب آ جائے گا۔

حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو میری یہ بات سنے اور دوسروں تک پہنچائے میں روزِ قیامت اس کی شفاعت کروں گا اور اسے جنت میں داخل کرواؤں گا۔ جو منکر ہے اس پر جنت کے دروازے بند ہیں۔

اگر کوئی  آدمی اس خبر کو پھیلائے گا تو اس کی دلی مراد تین دن میں پوری ہو گی۔ ایک آدمی جس نے اسے ۴۰ لوگوں میں پھیلایا، اُسے ۸۰ ہزار کا فائدہ ہوا۔ ایک آدمی نے اسے جھوٹا جانا تو اس کا بیٹا مر گیا۔ براہِ مہربانی اسے جھوٹ مت سمجھیے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں میں پھیلائیے۔

یہ وہ کہانی ہے جو ہم بچپن سے سنتے آ رہے ہیں۔ اُس وقت یہ پیغام فوٹو سٹیٹ مشین کی کاپیوں پر ہر جگہ دستیاب ہوتا تھا۔ جس آدمی کے ہاتھ میں یہ پرچہ ہوتا، وہ فوٹو سٹیٹ مشین والے کی طرف رواں ہوتا تاکہ اس کی چالیس کاپیاں کروا کے ثوابِ دارین کے علاوہ مالی فائدہ بھی حاصل کر سکے اور دوسرے لوگ کترا کر گزرتے کہ کہیں انہیں بھی یہ پڑھنے کے بعد پرچہ چھپوانا نہ پڑ جائے۔ اس آدمی کو مالی فائدہ ہوتا یا نہیں مگر فوٹو سٹیٹ مشین والے کو ضرور مالی فائدہ پہنچتا۔

مجھے یہ کہانی اس لیے یاد آئی کہ مجھے آج  یہی پیغام ای میل کی صورت میں موصول ہوا۔ اور جس نے بھیجا وہ ٹرینیڈاڈ کا رہنے والا ہمارا ایک مسلمان بھائی ہے۔ آپ سب کو مبارک ہو کہ صرف ہم ہی نہیں بلکہ ہم سے ہزاروں میل دور ایک چھوٹے سے سمندری جزیرے پر رہنے والے مسلمان بھی بہت با شعور ہیں اور اب اسلام کو کوئی خطرہ نہیں۔

حقیقی زندگی

میرے مطابق حقیقی زندگی کی چند خصوصیات مندرجہ ذیل ہیں:

1. فیس بُک، مائی سپیس، آرکٹ یا کسی بھی سوشل نیٹ ورکنگ سائیٹ پر آپ کا صفحہ یا پروفائل نہ ہو۔

2. کوئی بھی سرچ انجن آپ کو تلاش نہ کر سکے۔

3. انٹر نیٹ پر روزانہ ۲ گھنٹے سے زیادہ وقت نہ برباد کیا جائے۔

4. بلاگنگ بری عادت نہیں مگر یہ ٹینشن نہ ہو کہ اتنے دن سے کوئی پوسٹ نہیں لکھی۔

5. یاہو اور ایم ایس این میسنجر یا دیگر ذرائع سے صنفِ مخالف کے ساتھ آن لائن فلرٹ سے پرہیز  کیا جائے۔

6. اور آپ کے موبائل فون پر ایس ایم ایس یا گھنٹوں بات کرنے والا پیکج بھی نہیں ہونا چاہیے۔

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

نوٹ: اوپر بیان کی گئی باتوں  سے آپ کا متفق ہونا یا میرا ان پر عمل کرنا ہرگز ضروری نہیں! اور  "حقیقی زندگی” کو مذہبی تناظر میں مت لیا جائے۔

slide show: real life vs virtual life

اردو بلاگ ۔ بنائیں یا نہیں؟

یہ پوسٹ ان دوستوں کیلیے ہے جو اردو بلاگ وزٹ کرتے رہتے ہیں اور اسی شش و پنج میں مبتلا ہیں کہ اپنا بلاگ شروع کیا جائے یا نہیں۔


%d bloggers like this: