Monthly Archives: اگست 2010

بچے

پطرس بخاری کے بقول بچوں کی کئی قسمیں ہوتی ہیں۔ کوئی پیارا بچہ ہے اور کوئی ننھا سا بچہ ہے۔ کوئی پھول سا بچہ ہے اور کوئی چاند سا بچہ ہے۔  لیکن یہ سب اس وقت تک کی باتیں ہیں جب تک برخوردار پنگوڑے میں سویا پڑا ہے۔ جہاں بیدار ہونے پر بچے کے پانچوں حواس کام کرنے لگے، بچے نے ان سب خطابات سے بے نیاز ہو کر ایک الارم کلاک کی شکل اختیار کر لی۔

میں پطرس کی بات سے بالکل متفق ہوں کیونکہ میرا اور آپ کا بچپن بھی کچھ ایسا ہی گزرا ہے۔ لیکن فی الحال میں اپنے ایک بھتیجے اور ایک بھتیجی کی شرارتیں اور واقعات بیان کرنے جا رہا ہوں جن کی عمریں چار سال ہیں۔

۱۔ وجہیہ کے گھر کے صحن میں ایک نیلے رنگ کی پانی کی ٹینکی پڑی ہوئی ہے جس میں فالتو پانی سٹور کیا جاتا ہے۔ ایک دن اس نے ٹینکی میں نیل کی پوری بوتل گھول دی تا کہ ٹینکی اور پانی کا رنگ ایک ہو جائے۔

۲۔ ایک دن اس نے ربڑ پلانٹ چکھ لیا۔ ربڑ پلانٹ کا ذائقہ اگر آپ کو معلوم نہیں تو چکھنے کا رسک مت لیں۔ ایک بار یہی کام ایک بکرے نے کیا تو سارا دن دوڑتا اور اچھلتا کودتا رہا۔

۳۔ ایک بار اس نے غسل خانے کے فرش پر اپنے ابا کی ساری شیونگ کریم مل دی۔ پوچھنے پر بتایا کہ اس نے یہ کام مکھیوں کو بھگانے کیلیے کیا ہے۔

۴۔ ایک دن یہ فریج سے کھانسی والے شربت کی بوتل نکال کر پوری بوتل پی گیا۔ اس دن سب گھر والے حیران تھے کہ یہ جھوم جھوم کر کیوں چل رہا ہے۔ اسی طرح جب یہ جھومتا جھومتا گر کے اسی وقت گہری نیند سو گیا تو تب گھر والوں کو خبر ہوئی کہ کچھ غلط ہو گیا ہے۔

۵۔ آخری بار چند دن پہلے جب میں اس کے گھر گیا تو اس دن موصوف نے آٹے کی مَٹی ( باورچی خانے میں موجود آٹا سٹور کرنے والا برتن) میں لوٹا بھر کے پانی ملا دیا۔

۶۔ عائشہ اپنے والد کی بیحد لاڈلی اور ضدی بچی ہے اور اس کی ہر فرمائش فوری طور پر پوری کی جاتی ہے۔ یہ مٹھائی کھانے کی بیحد شوقین ہے۔ روزانہ سکول سے واپسی پر اس کے ابا اس کو گلاب جامن لے کر دیتے ہیں۔ اس کی ماں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ دیکھو روز مٹھائی کھانے سے دانتؤں کو کیڑا لگ جاتا ہے۔ عائشہ نے یہ دلیل ماننے سے انکار کر دیا۔ جب اس کی ماں نے یہ کہا کہ روزانہ گلاب جامن کھانے سے رنگ کالا ہو جاتا ہے تو وہ فوراً بولی: میں صبح سے برفی کھایا کروں گی۔

۷۔ پہلی سحری کے دن اتفاق سے اس کی آنکھ اس وقت کھل گئی جب مسجد سے اعلان ہو رہا تھا کہ کھانا پینا بند کر دیں۔ یہ پریشان ہو گئی کہ ہمیں کھانے پینے سے روک دیا گیا ہے۔ فوراً سوالات پوچھنے شروع کر دیئے کہ یہ لوگ ہمارا کھانا کیوں بند کر رہے ہیں؟ اب ہم کیسے کھائیں گے؟ کافی تفصیل سے اس کو روزے کے بارے میں بتایا گیا تو تب جا کے یہ سوئی۔

آج ۱۴ اگست ہے اور بچے صبح سے ہی صاف ستھرے کپڑے پہنے، جھنڈوں والے رنگ برنگے بیج لگائے اِدھر اُدھر دوڑ رہے ہیں اور کھیل رہے ہیں۔ کچھ ہی گھنٹوں میں ان کے کپڑے گندے ہوں گے، بیج ٹوٹ چکے ہوں گے اور ہاتھوں میں پکڑی جھنڈیاں پھٹ چکی ہوں گی۔ میں اس وقت ان کو دیکھ رہا ہوں اور اپنے بچپن کو مِس کر رہا ہوں۔

%d bloggers like this: