ایک "نبی” کے مزار کی زیارت

کل شام میں قبرستان میں کچھ عزیز و اقارب کی قبور پر فاتحہ پڑھ کرگزر رہا تھا کہ راستے میں یہ مزار آ گیا۔ اس جگہ سے سالوں بعد گزر ہوا۔ بچپن میں جب میں نے پہلی مرتبہ یہ قبر دیکھی تو سمجھا کہ شاید یہ جنوں دیووں کی کہانیوں والے کسی دیو کی ہے۔ بات بھی کچھ غلط نہ تھی کیونکہ اب تک میرے علم میں ایسا کوئی انسان نہیں آیا جو اتنا دیو قامت ہو۔

اس قبر پر لگے کتبوں کے مطابق یہ قبر "حضرت حام بن نوحؑ” کی ہے۔ بعض کتبوں پر "حام” کی بجائے "ہام” بھی لکھا ہوا ہے۔ یہ مقام روال تحصیل پنڈدادنخان ضلع جہلم کے قبرستان میں واقع ہے۔ ایک کتبے کے مطابق اس مزار کی نشاندہی حافظ شمس الدین آف گلیانہ، گجرات نے ۱۸۹۱ میں کی تھی۔ موجودہ حالت میں یہ مزار ۱۹۹۴ میں بنایا گیا۔

ایک اور کتبے کے مطابق حضرت حام بن نوحؑ کا شجرہ کچھ اس طرح سے ہے: حضرت حامؑ ابن نوحؑ ابن لامک ابن متوشلخ ابن ادریسؑ ابن یارد ابن مہلبیل ابن کنعان ابن انوش ابن شیث ابن آدمؑ۔

اس قبر کی سب سے خاص بات اس کی جسامت ہے جو کہ آپ کی اور میری سوچ سے بھی زیادہ ہے۔ یہ قبر ۷۸ فٹ لمبی ہے۔ چوڑائی کا اندازہ آپ خود کر لیں۔



اس قبر کو دیکھ کر ذہن میں کئی سوال اٹھتے ہیں، مثلاً:

کیا واقعی یہاں وہی دفن ہیں جس کا دعویٰ کیا گیا ہے؟ کیا حضرت نوحؑ کا کوئی بیٹا واقعی ادھر آیا تھا؟ کیا حام نبی ہیں؟ اگر انسان کی عمر ۱۰۰۰ سال ہو سکتی ہے تو کیا اس کا قد بھی ۷۵ فٹ سے زائد ہو سکتا ہے؟

Advertisements

Posted on اکتوبر 4, 2010, in مذہب, تاریخ, تصاویر and tagged , , , , , . Bookmark the permalink. 52 تبصرے.

  1. so mysterious and yet u feel like believing that it is so only Allah knows the truth for nw i can only say tht it is mind blowingly fascinating atleast to me however we have better issues to bother about

  2. ايک اور نبی کی قبر؛



  3. ايک اور نبی کی قبر؛

  4. آثار قدیمہ ھے۔متولی صاحب کو کچھ پیسے دے کر ایک دفعہ رات کو اڈھیر کر دیکھ لیتے ہیں۔
    متولی صاحب کو بعد میں بھی نظرانے ملتے رہنے کی گارنٹی دے دیں گے۔
    کیا خیال ہے جی؟ کب شروع کریں؟

  5. اچانک ایک دن کسی کو خیال آیا هو گا که اس چیز کو نوح کے بیٹے کی قبر ڈکلئر کردو
    بس
    ورنە نوح کا زمانہ ایک اندزے کے مطابق دس ہزار سال پہلے کا ہے
    اگر یاسر صاحب پيسے خرچ کرتے هیں تو ان کو آئیڈیا کے مطابق کچھ نکال کائیں اگر میت بھی هو تو اس کے ٹّو لے لیں
    اور ڈی این اے کروا لیں
    جاپان سے
    اےر پھر دنیا کو حیرت میں ڈال دیں یا کم از کم اپنی حیرت تو دور هو گی هی ناں جی

  6. میرا نہیں خیال کہ حضرت آدم اور نوح علیہ سلام کے دور کے انسان اتنے لمبے ہوا کرتے ہوں گے، ویسے اللہ بہتر جانتا ہے اور جہاں تک اس قبر کا تعلق ہے یہ تو بلکل ہی فیک معلوم ہوتی ہے۔ عجیب بات ہے کہ وہ انسان اتنا لمبا تو تھا لیکن اسکی چوڑائی آج کے انسان جتنی ہی تھی۔ کیا اس دور میں بانس نما انسان ہوا کرتے تھے۔ ایسی مشکوک قبروں کو برابر کر کر ختم کردینا چاہئے تاکہ جاہل لوگ گمراہی میں نہ پڑیں۔

    • غالباً آپ نے تصویریں غور سے نہیں دیکھیں۔ آپ صرف اس سبز چادر والے حصے کو ہی قبر سمجھ رہے ہیں۔ قبر وہ نہیں بلکہ اس سے نیچے وہ چبوترہ ہے جس پر وہ چادروں والا ابھار بنا ہوا ہے۔

  7. او بھائی تھوڑی سی سرمایہ کاری سے اچھا کاروبار جم سکتا ہے۔ ہمت کرلیں جی۔

  8. یقین سے کچھ کہا نہیں جاسکتا لیکن اچانک یہ سب
    کچھ تو ہے

  9. السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    بات یہ ہےکہ یہ بات بعیدازقیاس بھی نہیں ہےکیونکہ حضرت آدم علیہ السلام انڈیامیں اتارےگئےتھےتویہ بھی ممکن ہےکہ اس زمانہ میں اس علاقہ میں اتارےگئےہوں۔ واللہ اعلم

    والسلام
    جاویداقبال

  10. سعد
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    تحقیق کرنے علمی طریقہ تو یہ ہوگا کہ چھان پھٹک کی جائے کہ یہ قبر کس کی دریافت ہے ؟؟
    اور اس کے بارے میں معلومات کا ماخذ کیا ہے ؟؟
    جہاں تک معلومات کے ماخذ کی بات آٗئے گی تو کوئی قرآن حدیث میں تو ہوگا نہیں جس سے یقینی علم حاصل ہو
    اس لیے میں کاشف کی بات سے ایگری کروں گا کہ ایسی قبریں برابر کر دینی چاہییں
    واللہ اعلم ۔
    عرفان بلوچ

  11. آپ ہمارے بلاگ پر تشریف لائے، بہت خوشی ہوئی ۔ ہمارا بلاگ تو ہماری پبلیکلی شیئرڈ ڈائری ہے اور اس میں استعمال شدہ الفاظ کی سیلیکشن ابھی تک اپنے بس کی بات نہیں بن پائی ہے ۔
    آپ ہماری نسبت کافی پرانے بلاگر ہیں اور آپکی آبجیکٹیویٹی کو جانے بغیر آپکے اس پارٹیکیولر آرٹیکل پر کیا ہوا تبصرہ شائد مناسب نہ ہو ۔ اسلئے تبصرہ نہ کرنے پر معاف کر دیجئے گا ۔
    امید ہے آنا جانا لگا رہیگا ۔ ایک دفعہ پھر آپکی آمد کا شکریہ ۔

    • log apna wo naam rakhty hain jo naam aur jo kaam unko pasand hu,,,,, shayd apko pata nhi k ajkal k parhy likhy taleem yaafta ghamandi insaan sy wo shareef aur be ilam jahil 1000 guna bahter hy jo deen k liy jhukta hy,,, aur dosry py tamaskhur nhi krta,,, keun k jahil kitna hi khud ko achaa na many laikin apny dil men wo khud ko kam ter samjhta hy,,,, aur yahi islaaam hy,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,, zara sochye

  12. Aoa!
    Saudia main khudai k doran quom e aad k jo dhanchay milay hain wo aaj kal k insan se do gunna baday hain, is liay ye ain mumkin hay k ye aik haqiqi qabar ho or hazrat nooh a.s. K baitay ki he ho!
    Is liay sirf mazarat ki dushmani main qabar k mutaliq toheen aamaiz remarks se parhaiz karna behtar hay!
    Main aap sab ki tarah parha likha nahi hun is liay ye samajhnay se qasir hun keh abdul wahab k aanay se pehlay islam main mazarat ki ziarat kis ne shuru ki or najdi ko kis ne bataya k mazar pe jana shirk hay?
    Agar aisa hay to madina ko no go area bana dena chahiay, wahan sirf quboor he to hain. Shirk ka khasa chance hay wahan!

  13. سعد
    السلام علیکم ورحمۃ اللہ
    تحقیق کرنے علمی طریقہ تو یہ ہوگا کہ چھان پھٹک کی جائے کہ یہ قبر کس کی دریافت ہے ؟؟
    اور اس کے بارے میں معلومات کا ماخذ کیا ہے ؟؟
    جہاں تک معلومات کے ماخذ کی بات آٗئے گی تو کوئی قرآن حدیث میں تو ہوگا نہیں جس سے یقینی علم حاصل ہو
    اس لیے میں کاشف کی بات سے ایگری کروں گا کہ ایسی قبریں برابر کر دینی چاہییں

  14. تحقیق تو ہونی ہی چاہیئے اس کی
    اور بات مذاق میں نہ آرائی جانی چاہیئے ہر بات کا مذاق بھی اچھا نہیں
    اس کا مکمل ایڈرس کسی ٹی وی چینل پر میل کر دیجئے اور پھر کم سے کم آپ نے اپنے طور پر کام کیا
    اب چینل اس کو کتنا چھالتے ہیں یہ ان پر چھوڑ دیں اور میرے خیال سے ایل نہیں 3 سے 4 چینل کو میل کی جائے ورنہ قبضہ گروپ کی آپس میں لڑائی کا اندیشہ ہے
    باقی انسانی فطرت

  15. anyone can make such a grave by spending money. this practice was very common in our city Multan.

  16. ہممم۔۔۔ ہوسکتا ہے کہ یہ فیک ہو لیکن جس طرح جاوید اقبال بھیا نے کہا ہوسکتا ہے کہ یہ حقیقت ہو۔ ہمیں فضول تبصرے کرنے سے پرہیز ہی کرنا چاہئیے۔ خیر میں بھی سوچ رہا ہوں کہ اس کی تحقیق کروا سکوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پُرانی قوموں کے قد نہایت ذیادہ طویل ہوا کرتے تھے۔ سعودیہ میں بھی کچھ ایسی ہی قبریں دریافت ہوئی ہیں جن میں سے نکلنے والے ڈھانچوں کا قد وغیرہ ایک عام انسان سے کہیں گنا بڑا ہے۔ دیکھنے سے تو اُسکو بھی یقین نہیں آتا لیکن ماننا پڑتا ہے۔ آپ اُن اُمتوں کے قدوقامت کے بارے میں خود اندازہ لگا لیں جنکے بارے میں کتب میں آتا ہے کہ وہ پہاڑوں میں رہا کرتے تھے اور درختوں کو ہاتھوں سے پکڑ کر بآسانی جڑوں سمیت اُکھاڑ ڈالتے تھے۔ میں یہ بات یقین سے نہیں کہ سکتا کہ یہ اصل قبر ہے لیکن ہو بھی سکتی ہے۔

  17. عمران علی مغل

    ایسی ہی ایک قبر ہڑپہ میں بھی ہے۔

  18. ماشااللہ اچھا لکھ رہے ہیں آپ۔ پڑھ کر مزا آیا۔ مرزائی پکے مرتد اور دوزخی ہیں۔ میں خود ان کے سخت خلاف ہوں۔

  19. The Grave should dig out i am sure there will be no one buried, Totally Fake and making people fool to make money.

  1. پنگ بیک: Tweets that mention ایک “نبی” کے مزار کی زیارت « سعد کا بلاگ -- Topsy.com

  2. پنگ بیک: ایک “نبی” کے مزار کی زیارت | Tea Break

تبصرہ کیجیے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: