Monthly Archives: جون 2015

سیلفی

موجودہ زمانے میں سب سے زیادہ کس چیز کا رواج ہے؟ اس سوال کا جواب بچہ بچہ جانتا ہے. جی ہاں. سیلفی! 

یہ وہ لت ہے جو اس وقت بلا تفریق مذہب و رنگ و نسل دنیا بھر کے لوگوں کو لگ چکی ہے. خود کو ہیرو سمجھنے والے بچے، نوجوان، جوان اور بڈھے بابے منھ کے طرح طرح کے زاویے بناتے ہوئے موبائل ہاتھ میں لے کر اپنی تصویریں کھینچتے اور فیس بُک پر  شیئر کرتے نظر آتے ہیں. بظاہر ان کا مقصد دنیا کو اپنے حسن سے متاثر کرنا ہوتا ہے لیکن درحقیقت  ان کے دماغ میں کیا کیڑا ہوتا ہے، وہی بہتر جانتے ہیں.

اسی طرح وہ حسن کی دیویاں جو اپنا حسن چھپانا بھی چاہتی ہیں اور رہ بھی نہیں سکتیں، وہ اپنے چہرے پر گھنی زلفوں کا سایہ کر لیتی ہیں تاکہ لفنگوں کی نظرِ بد سے محفوظ بھی رہ سکیں اور اپنا شوق بھی پورا کر سکیں. نقاب پوش حسینائیں بھی سیلفی کی بے حد  دیوانی پائی گئی ہیں. سر کٹی سیلفی بھی ان کی ہی ایجاد ہے.

سیلفی کی ابتدا کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں. فیس بکی علماء اسے علامہ اقبال کی ایجاد قرار دیتے ہیں حالانکہ وہ سیلفی لیتے کبھی بھی نہیں پکڑے گئے. ان علماء نے خودی اور سیلفی کا یہ تعلق حال ہی میں دریافت کیا ہے.

مسٹر بین سیلفی لیتے ہوئے

مسٹر بین سیلفی لیتے ہوئے

ایک دوسرے مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ مسٹر بِین کو اس کا موجد قرار دیتے ہیں جس کے تصویری ثبوت بھی فراہم کیے گئے ہیں.

سیلفی لینے کی سب سے مشہور جگہ باتھ روم ہے جہاں پہلے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی تصویر کھینچی جاتی ہے، پھر  دیگر ضروریات سے فارغ ہو کر دوبارہ اپنی تصویر کھینچی جاتی ہے اور پھر دونوں تصاویر کا موازنہ کر کے جو زیادہ اچھی لگے، اسے فیس بُک یا ٹوئٹر پر پوسٹ کر دیا جاتا ہے.

بعض لوگوں کے بازو چھوٹے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ صحیح طریقے سے سیلفی نہیں لے سکتے کیونکہ کیمرہ زیادہ نزدیک ہونے کی وجہ سے تصویر میں ان کا منھ بہت بڑا آتا ہے. اس اہم مسئلے کا حل سائنس دانوں نے سیلفی اسٹک ایجاد کر کے نکال لیا ہے. یہ ایک چھڑی ہوتی ہے جس کے ایک سرے پر کیمرے والا موبائل اور دوسرے سرے پر چھوٹے بازوؤں والا کارٹون کھڑا ہوتا ہے.

سیلفی لینے کا عمل تنہائی میں زیادہ بہتر طریقے سے کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس وقت کوئی آپ کی حرکتیں نہیں دیکھ رہا ہوتا. بصورت دیگر کوئی سرپھرا آپ سے وہ چھڑی چھین کر آپ کی تشریف پر بھی رسید کر سکتا ہے!

Advertisements
%d bloggers like this: