وہ جو کوئی بھی تھا

اسامہ بن لادننقشِ خیال ۔ عرفان صدیقی

پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد ایک سوگ کی سی کیفیت میں رہی۔ اس لئے نہیں کہ یہ سادہ و معصوم لوگ دہشت گردی سے ناتا رکھتے اور دہشت گردوں سے محبت کرتے ہیں۔ اس لئے بھی نہیں کہ اسامہ بن لادن ان کا محبوب تھا۔ اس لئے کہ ازل ازل سے انسانوں کی فطرت، خدا فراموش فرعونوں سے نفرت کرتی اور ان فرعونوں کو للکارنے والوں کو اپنا اپنا سا سمجھتی ہے۔ فرعونوں کا معتوب، جو کوئی بھی ہو، جیسا بھی ہو، انسانوں کا محبوب بن جاتا ہے۔ کیا اسامہ کی حکمت عملی اسلامی تعلیمات کے مطابق تھی؟ کیا ایک مرد دانا کی طرح وہ زمینی حقیقتوں کا شعور رکھتا تھا؟ کیا اس کے چنے ہوئے راستے نے بالعموم امت مسلمہ کے مفادات کی آبیاری کی؟ ان سوالوں پہ پہلے بھی بحث ہوتی رہی ، آئندہ بھی ہوتی رہے گی، دنیا میں ایسا کوئی شخص پیدا نہیں ہوا جس کے فکر و عمل سے اختلاف کرنے والا کوئی نہ ہو۔ اسامہ پر پہلے بھی سنگ زنی ہوتی رہی، آئندہ بھی نشتر زنی ہوتی رہے گی لیکن اس کی روح اب سود و زیاں کے دنیوی پیمانوں سے بہت دور جا چکی ہے۔ امریکہ ، نیٹو، یورپی یونین، اقوام متحدہ اور شکم پرست ہراول دستوں کی دسترس سے کوسوں آگے۔
ٹیلی فونوں اور پیغامات کا تانتا بندھا رہا کہ اسے شہید، کیوں نہیں کہا جا رہا؟
میں دل گرفتہ اہل وطن کو سمجھاتا رہا کہ معصوم و سادہ دل لوگو! ہم اسے شہید نہیں کہہ سکتے۔ اس لئے کہ شہنشاہ عالم پناہ خفا ہو جائے گا۔ اس لئے بھی کہ ہم دس سال سے، امریکی جنگ کا دست بازو ہیں اور اسامہ ہمارے مخالف لشکر میں سے تھا۔ اس لئے بھی کہ ہم اپنا پیٹ پالنے کے لئے امریکی نان نفقے کے محتاج ہیں۔ اس لئے بھی کہ امریکا دنیا کا تاجدار اور جابر ملک ہے اور ہمارے حکمرانوں کی باگیں اس کے ہاتھ میں ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر اس لئے کہ ’دین غلامی“ میں امریکہ کو آنکھیں دکھانے اور اس سے پنجہ آزمائی کرنے والا غازی کہلا سکتا ہے نہ شہید۔
دو دن سے ٹی ۔ وی چینلوں پر ایک تماشا سا لگا ہے۔ خبریں، تصویریں، فلمیں، تبصرے، تجزیے، امکانات، خدشات۔ میں ریموٹ کے بٹن دبا دبا کر چینل بدلتا اور میڈیا کے چلن دیکھتا رہا۔ ہر پاکستانی چینل پر وہی بولی، بولی جا رہی تھی جو اسامہ کے بارے میں امریکہ، یورپ اور دنیا کے دیگر مسلم بیزار منطقوں میں بولی جاتی ہے۔ ہم اسے مسلسل امریکہ کی آنکھ سے دیکھتے رہے، اس کے بارے میں پھیلائی گئی امریکی کہانیاں دہراتے رہے اور وقفے وقفے سے امریکہ ہی کی زبان میں اس پر تبصرے کرتے رہے۔ غلامی اسی طرح دلوں اور ذہنوں کے اندر گھونسلے بناتی ہے ۔ ہمیں کچھ ضرورت نہیں کہ اس کی زندگی کے نشیب و فراز کا جائزہ لیں اربوں اور کھربوں میں کھیلنے اور سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہونے والا شہزادہ، انجینئرنگ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والا ہونہار نوجوان، اپنے خاندان کی بے کراں دولت لامحدود کاروباری امکانات اور عیش و عشرت سے پُر زندگی سے دستکش ہو کر غریب الوطنی، سخت کوشی، جہدو پیکار اور سامراج دشمنی کے خار زاروں کی طرف کیوں نکل آیا؟ دنیا میں کتنے ہیں جو شہزادگی ٹھکرا کر کسی مقصد کی لگن میں ایسی راہوں پر نکل آتے ہیں جہاں اذیتوں اور مشقتوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا اور جہاں موت سائے کی طرح ساتھ ساتھ چل رہی ہوتی ہے ۔ دو دو ٹکے کی نوکریوں اور رسوائیوں میں گندھی بے ننگ و نام حکومتوں کے لئے اپنی آن اور اپنا ایمان بیچ دینے والوں کی اس دنیا میں کتنے ہیں جو جُنوں کا ایسا سرمایہ رکھتے ہوں؟
جب وہ افغانستان کے پہاڑوں، گھاٹیوں اور میدانوں میں سوویت یونین سے لڑ رہا تھا، جہاد منظم کر رہا تھا، اس کی دولت تحریک مزاحمت کی رگوں میں لہو بن کر دوڑ رہی تھی تو وہ ”عظیم مجاہد“ اور ” بہادر جانباز“ کہلاتا تھا۔ امریکہ اس کی بلائیں لیتا تھا۔ اس کی راہوں میں سرخ قالین بچھاتا تھا، پھر زمانہ بدلا۔ روس دریائے آمو کے اس پار چلا گیا کم و بیش چوتھائی صدی بعد امریکہ اسی اسامہ کی تلاش میں افغانستان پر چڑھ دوڑا۔ اس لئے کہ اسامہ امریکی توسیع پسندی کے خلاف تھا۔ اس کا نعرہ تھا کہ امریکی افواج سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک سے نکل جائیں وہ امریکا کی اسرائیل نوازی پر بھی معترض تھا۔ نائن الیون کے فوراً بعد اعلان ہوا کہ یہ اسامہ کا کیا دھرا ہے ۔ آج تک اس الزام کا کوئی ایک ٹھوس ثبوت سامنے نہیں لایا جا سکا۔ اکتوبر 2001ء میں امریکہ نے افغانستان پر یلغار کر دی۔ دنیا کا سب سے بڑا بارود خانہ اور مہلک ٹیکنالوجی رکھنے والا ملک، بیسیوں عالمی افواج کے ساتھ ایک عشرے تک ٹامک ٹوئیاں مارتا رہا۔ اسامہ نے کہا تھا۔ ”تم مجھے زندہ گرفتار نہیں کر سکتے“ اس نے اپنے جانثار گارڈ سے کہہ رکھا تھا کہ ”جب کبھی مجھے گرفتار کرنے کی کوشش کی جائے تو میرا سینہ چھلنی کر دینا“ ایک معتبر اخباری رپورٹ کے مطابق ایسے ہی ہوا۔ کامل دس برس تک ایک شخص عالمی فرعون کے لہو میں انگاروں کی طرح دہکتا رہا۔ اس کے دل میں ترنیم کش کی طرح پیوست رہا۔ رعونت میں لتھڑے حکمران پہاڑوں سے سر پھوڑتے، وادیوں میں بھٹکتے رہے لیکن ایک ”سرکش باغی“ کو زنجیر نہ ڈال سکے۔
شہنشاہ عالم پناہ بارک اوباما نے کہا ” انصاف ہو گیا۔ یہ پوری دنیا کے لئے خوشی کا دن ہے“ اس نے دہشت گردی کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کا ذکر کیا۔ یتیم ہو جانے والے بچوں، اجڑی آغوش والی ماؤں اور اولاد کھو دینے والے باپوں کا تذکرہ کیا۔ اسرائیلی وزیراعظم نے خوشی کے شادیانے بجائے۔ سارا یورپ جشن کی سی کیفیت میں آگیا۔ بھارت کا چہرہ تمتما اٹھا کابل کے چغہ پوش مسخرے کی باچھیں کھل اٹھیں۔ اور سید عبدالقادر گیلانی کے خانوادے سے تعلق کا دعویٰ کرنے والے سید زادہ ملتان اعلیٰ حضرت یوسف رضا گیلانی نے کہا۔ ”یہ فتح عظیم ہے۔“ اقتدار کی چند روزہ لذتیں بھی انسان کو کتنا کھوکھلا ، کتنا بودا، کتنا خالی خالی سا کر دیتی ہیں۔
ہمارے وزیراعظم نے ہزاروں قتل اسامہ کے کھاتے میں ڈال دیئے۔ انہیں امریکی ڈرونز کا لقمہ بننے والوں کی یاد نہ آئی جو نائن الیون کے ہلاک شدگان سے بہر حال زیادہ ہیں۔ پہلے دفتر خارجہ اور پھر وزیراعظم نے قومی تاریخ کا سب سے لغو، سب سے بے معنی، سب سے بے حمیت اور سب سے لایعنی بیان داغا کہ ”امریکہ نے سب کچھ اپنی اعلان کردہ پالیسی کے مطابق کیا ہے“ کیا معنی ہیں اس بے سروپا جملے کے، سب جانتے ہیں کہ امریکہ نے جو کچھ کیا، وہ اس کی پالیسی اس کی تاریخ، اس کے مزاج اور اس کی رعونت کے عین مطابق ہے لیکن پاکستان کی پالیسی کیا ہے؟ اگرکل امریکہ اپنے اہداف اور اپنی پالیسی کے مطابق ہمارے ایٹمی اثاثوں کے خلاف ایسا ہی آپریشن کر ڈالے تو سید زادہ کیا یہی تسلی دے گا کہ ”یہ امریکی حکومت نے اپنی طے شدہ پالیسی کے مطابق کیا ہے؟“ یہ بے حمیتی کا وہ مقام ہے جس پر بات کرتے ہوئے قلم کو بھی ندامت محسوس ہوتی ہے۔
سوالات ہیں اور ان گنت ہیں۔ کئی گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی قوم اندھیرے میں ہے۔ سوالات کے اس لق و دق جنگل سے کوئی راستہ نہ نکلا تو پاکستان شدید مشکلات کا شکار ہو جائے گا۔ ابھی سے آثار نظر آرہے ہیں کہ اس ڈرامے کے ذریعے حکومت، فوج اور آئی۔ ایس۔ آئی کو مجرم بنا کر عالمی کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا ہے دیکھئے آگے دیکھئے کیا ہوتا ہے؟ اور اوباما کو کون بتائے کہ ہمارے بچے بھی درختوں پر نہیں لگتے، ماؤں کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں اور دنیا اسامہ کے نہ رہنے سے امن نہیں پائے گی، اس دن سکون آشنا ہو گی جب فرعون مزاج امریکہ دوسروں کو بھی انسان سمجھنے لگے گا۔
اب شیخ اسامہ بن لادن کا معاملہ اپنے اللہ کے ساتھ ہے۔ جو ہر انسان کے ظاہری عمل کو بھی دیکھتا ہے اور نیتوں کا حال بھی جانتا ہے۔ اسے ہم جیسے خود فروشوں، بزدلوں، کمزوروں، شکم پرست بونوں اور بندگان امریکہ کی طرف سے ”شہادت“ کے کسی تمغے کی حاجت نہیں۔ اگر وہ اللہ کی میزان میں کم وزن نکلا تو سزا پائے گا۔ اگر اس کے اعمال بارگاہ عالی میں مقبول ٹھہرے تو اس کی لاش سمندر کی مچھلیاں کھائیں یا جنگل کے درندے، وہ شہیدوں کے جلو میں کسی سنہری مسند پر بیٹھا ہو گا۔
اگر شہنشاہ عالم برا نہ مانیں اور اس کی چوکھٹ پہ سجدہ ریز ہمارے حکمران خفا نہ ہوں تو آیئے اس کے لئے دست دعا بلند کریں۔ اللہ اس کی لغزشوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرمائے، اسے اپنے بے پایاں عفو و کرم
سے نوازے اور اسے اپنے بندگان خاص کے مقام سے سرفراز فرمائے۔ آمین


Advertisements

Posted on مئی 7, 2011, in حالاتِ حاضرہ and tagged , , , . Bookmark the permalink. 7 تبصرے.

  1. Aap ka Blog Firefox 4 per sahih nazar nahin aaraha,!

  2. جزاک اللہ خیرا باحسن الجزاء۔ اللھم اغفر المؤمنین والمؤمنات، والمسلمین والمسلمات، الاحیاء منھم والاموات، یا سمیع یا مجیب الدعوات، یا رب العالمین۔

  3. میں نہ تو اس کو ٹھیک سے ذاتی طور پر جانتی ہوں نہ ہی اس کے نظریات سے اتفاق تھا پر مار کٹائی کے بجائے مسلمان ممالک کے اتحاد اور ان کی اصلاح کا کام سنبھالتا تو شائد مسلمان ممالک آج عروج پر آ سکتے تھے

  4. انسانی زندگی کی حثیت سطح آب پر پانی کے ایک بلبلے کی مانند ہے اور ہوا کا اک معمولی ساجھونکا اس کا کام تمام کر سکتا ہے،مگر انسان اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھتا ہے مگر موت کے ہاتھوں ہر کوئی بے بس ہوتا ہے۔ اسامہ کی موت سے القائدہ کی طرف سے شروع کیا ہوا ، دہشت گردی و قتل و غارت گری کا ایک باب اختتام پزیر ہوا۔ القائدہ اور طالبان کے وجود مین آنے پہلے پاکستان مین تشدد اور دہشتگردی نام کی کوئی چیز نہ تھی۔ القائدہ نے طالبان کے ساتھ مل کر قتل و غارت گری کا ایک بازار گرم کر دیا، کاروبار کا خاتمہ ہو گیا،مسجدوں،تعلیمی اداروں اور بازاروں مین لوگوں کو اپنی جانوں کے لالے پڑ گئے اور پاکستان حیرت و یاس کی تصویر بن کر رہ گیا۔ پاکستانی معیشت تباہ ہو گئی اور اس کو ۴۵ ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔
    حقیقت ہے کہ اس دہشت گردی کا زیادہ نشانہ خود مسلمان بنے۔ صرف پاکستان میں 35ہزار سے زیادہ انسان دہشت گردوں کی کارروائیوں کا نشانہ بنے۔سعودی عرب‘ یمن‘ سوڈان‘ عراق اور متعدد دیگر مسلمان ملکوں میں ان گنت افراد جان سے گئے۔ اسامہ خود تو ختم ہو گئے مگر پاکستان لئے دہشت گردی اور نفرتوں کے اثرات چھوڑ گئے‘ جو نہ جانے کب تک ہمیں مشکلات میں مبتلا رکھیں گے۔
    تشدد اور دہشت گردی کا راستہ کبھی آزادی اور امن کی طرف نہیں لے جاتا۔ تشدد کرنے والے بھی اسی طرح کے انجام اور سلوک سے دوچار ہوتے ہیں‘ جو وہ اپنے مخالفوں کے ساتھ روا ر کھتے ہیں۔
    اسامہ اور القائدہ لازم ملزوم تھے، اس کے جانے سے القائدہ کی ریڑہ کی ہڈی ٹوٹ گئی اور اس کا خاتمہ یقینی ہو گیا۔ یہ کیسا جہاد ہے کہ اسامہ میدان جنگ سے دور ایبٹ ٓباد کے ایک پر تعیش بنگلے مین چھپا بیٹھا تھا۔مزید براں قتل و غارت گری کرنے والوں کی زندگی لمبی نہیں ہوتی اور ان کی موت اسی طرح واقع ہوتی ہے۔
    اُسامہ بن لادن کی یمنی بیوی اِمل نے دوران تفتیش حکام کو بتایاہے کہ2007ءمیں ایبٹ آباد میں بلال ٹاﺅن منتقل ہونے سے پہلے القاعدہ کے رہنماءاپنے خاندان کے ساتھ ضلع ہری پور میں ہزارہ کے قریب ایک گاﺅں چک شاہ محمدمیں مقیم تھاجہاں وہ سب تقریباً اڑھائی سال تک قیام پذیر رہے ۔گزشتہ سوموار کو امریکی اسپیشل فورسز کی طرف سے کیا جانے والا آپریشن، جس میں اسامہ بن لادن ہلاک ہوا، اپنے پیچھے بہت سے سوالات چھوڑ گیا ہے۔دہشت گرد گروپوں کے ساتھ نرم رویہ اب ہرگز قابل قبول نہ ہوگا۔ صرف اور محض اس لئے کہ ان سے ریاست کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ حقائق تبدیل ہوچکے ہیں، اگر یہ عسکریت پسند کسی اور کیلئے خطرہ ہیں تو وہ ہمارے لئے بھی خطرہ ہین۔ کوئی اچھا اور برا دہشت گرد نہیں ہوتا، دہشت گرد صرف دہشت گرد ہوتا ہے۔ہمیں اپنی سرزمین دہشتگردی کی کارروائیوں کے لئے ہرگز ہرگز استعمال کرنےکی اجازت نہیں دینی ہوگی۔ایک طویل عرصے سے ہم اپنی قامت سے بڑھ چڑھ کر باتیں کرتے آ رہے ہیں، اب آئندہ یہ کسی طرح بھی ممکن نہ ہوگا۔
    اسامہ بن لاڈن سالہا سال سے پاکستان مین تھا اور طالبان نے اسے تحفظ فراہم کیا ہوا تھا۔ لگتا ہے انہیں نے پیسے کی خاطر اسامہ کی مخبری کر دی اور قتل و غارت گری کا بازار گرم کرنے والا اپنے انجام کو پہنچا۔ اب القائدہ کے دوسرے چھوٹے موٹے لیڈران ،طالبان سے خوفزدہ رہین گے۔ طالبان نے پیسے کی خاطر اسامہ کو بیچ ڈالا اور اب ڈرامے بازی کر رہے ہین۔
    میرے خیال مین اسامہ کے ٹھکانہ کے اخفا کے معاملہ مین الاظواہری اور پاکستانی طالبان ،دونوں ملوث ہین۔ ظواہری ،اسامہ سے مصر کے معاملہ پر بیان نہ دینے کی وجہ سے ناخوش تھا۔ یاد رہے مصری ہونے کی وجہ سے ظواہری کی مصر سے جذباتی وابستگی ہے۔ ظواہری اقتدار کا بھوکا ،لالچی اور غیر وفادارشخص ہے اور ہمیشہ مصریوں کو آگے لانے کی کوشش میں رہتا ہے۔ مزید بران اگر الظواہری کی گذشتہ ۵ تقریروں کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ ظواہری اپنے آپ کو ایک بڑے رول کے لئے پوزیش position)کر رہے ہین۔یہ ظواہری گروپ تھا جس نے اسامہ کو قائل کیا کہ وہ قبائلی علاقہ چھوڑ کر ایبٹ آباد منتقل ہو جائین۔ سیف العدل،کی ایران سے واپسی پر ،اسامہ کو ختم کرنے کا ایک منصوبہ بنایا گیا۔ اسامہ کی ہلاکت سے پہلے ہی القائدہ مین پھوٹ پڑ چکی تھی اور القائدہ دو گروپوں میں تقسیم ہوچکی تھی۔ القائدہ کا تکفیری گروپ اسے کنٹرول کر رہا تھا۔
    جعفر از بنگال و صادق از دکن
    ننگ ملت، ننگ دیں، ننگ وطن
    یہ شعر ملک و ملت کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے والے انہی دو غداروں میر جعفر اور میر صادق کے متعلق ہے، آج بھی دنیا ایسے ہی بدبخت اور روسیاہ غدار موجود ہیں جن پر یہ شعر صادق آتا ہے ۔مسلمانوں مین میر صادق اور میر جعفر جیسے لوگوں کی کمی نہ ہے، عباسی وزیر، ابن علقمی منگولوں سے مل گئے اور سقوط بغداد کا سبب بنے۔ ہمیشہ اس قبیل کے لوگوں نے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا۔اسامہ بن لادن بھی اپنے بھیدیوں کی وجہ سے مارا گیا۔ گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے۔
    میرے خیال میں یہ لوگ ہین الظواہری اور طالبان جنہوں نے ذاتی جاہ و اقتدار ، حسد ،مخاصمت اور پیسے کے لالچ مین اسامہ کی مخبری کر دی۔اپنے آپ کو پاک صاف ظاہر کرنے کے لئے طالبان اب ڈرامہ بازی کر رہے ہین۔
    اسامہ کے جانے سے القائدہ کے مصری اور دوسرے گروپوں مین جانشینی کا جگھڑا اٹھ کھڑا ہو گا اور الظواہری ، جانشین بننے کی پوری کوشش کرے گا۔ ظواہری ، اسامہ کو عبداللہ عظام کی طرح اپنی امارت کی راہ کا روڑا سمجھتا تھا۔ وہ اسامہ سے اس لیئے ناراض تھا کہ اسامہ نے مصر کے معاملہ پر کوئی بیان جاری نہ کیا تھا۔ ظواہری، اسامہ کی طرح القائدہ کو متحد نہ رکھ سکے گا اور نہ دوسرے گروپ اس کو اپنی بیعت دیں گئے، کیونکہ وہ ظواہری کو اسامہ کی ہلاکت کا ذمہ دار سمجھتے ہین۔

  5. افسوس کہ جب وہ ہم میں تھے ہم نے ان کی قدر نہ کی
    اللہ ان کو اور تمام مجاہدین کو جنت الفردوس میں جگلہ عطا فرمائے

  1. پنگ بیک: وہ جوکوئی بھی تھا | Tea Break

تبصرہ کیجیے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: