Monthly Archives: ستمبر 2009

جھوٹا امام مہدی

آج فیس بک پر آوارہ گردی کرتے ہوئے اچانک ایک اشتہار پر نظر پڑی۔ اس اشتہار کو بغور پڑھتے ہی معاملے کی حساسیت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ ریاض احمد گوہر شاہی کے بارے میں پہلے کافی سن رکھا تھا مگر اس کے بارے میں مزید آگاہی اس کی ویب سائٹ پر جانے کے بعد ہوئی۔

gohar shahi ad

امت مسلمہ کو ہر زمانے میں ہی بے شمار فتنوں کا سامنا کرنا پڑا ہےجن میں کئی نبوت اور امام مہدی ہونے کے دعوے دار اٹھے اور اپنی دنیا و آخرت برباد کرنے کے ساتھ ساتھ بے شمار لوگوں کو بھی گمراہ کر کے چلے گئے۔

ان میں سے ایک ریاض احمد گوہر شاہی بھی ہے جس نے امام مہدی ہونے کا دعوہ کیا ہے۔ موصوف کی تصویر چاند ستاروں سورج حجرِ اسود اور نہ جانے کہاں کہاں ظاہر ہو چکی ہے اور اسکی وجہ سے موصوف کے پیروکار حضرت امام جعفر صادق کا یہ قول اس پر فٹ کر رہے ہیں کہ "امام مہدی کا چہرہ چاند میں چمکے گا”۔

اس آدمی کے پیروکاروں کا عقیدہ ہے کہ قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ ؑ کے ہمراہ گوہر شاہی ہی بطور امام مہدی ہو گا۔ اور ایک لطیفہ ملاحظہ فرمائیے کہ ۱۹۹۷ میں حضرت عیسیٰؑ اس دنیا میں دوبارہ تشریف لائے۔ امریکہ کی ریاست نیو میکسیکو کے شہر طاؤس میں حضرت عیسیٰؑ نے گوہر شاہی سے ملاقات کی۔ (اس ملاقات میں کن امور پر تبادلہ خیال ہوا یہ بات ابھی صیغہ راز میں ہے)

ایک اور اہم بات جو کہ بڑے واضح انداز میں ان کی ویب سائٹ پر لکھی گئی ہے، حجرِ اسود پر رنگ پھیر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے حج اور عمرہ موقوف ہو چکا ہے۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں اس سے زیادہ بودی دلیل نہیں سنی۔

مزید تفصیل اس کی سائٹ پر جا کر دیکھیے۔  یہاں اس کی تصاویر بھی دی گئی ہیں وہ دیکھ کر بتائیے کہ یہ شخص کہیں سے بھی امام مہدی لگتا ہے؟

یہ ہم مسلمانوں کی بے حسی ہے کہ ایک بار پھر نبوت اور امامت کے جھوٹے دعویداروں کے پیروکار ہر جگہ ( انٹرنیٹ پربھی ) متحرک ہو گئے ہیں اور لوگوں کو کھلے عام گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

اسی بارے میں ایک فتویٰ: عقائد گوہر شاہی اور اس کے معتقدین کے ساتھ نکاح کا حکم

Advertisements

رہنما

جیمز تھربر کی ایک علامتی کہانی جسے بار بار پڑھنے کی ضرورت ہے

………………………………………………………………………………………………………………………………………

پرانے زمانے کی بات ہے کہ ایک تاریک اور بے ستارہ رات کو ایک الو کسی شاخ پر گم سم بیٹھا تھا۔ اتنے میں دو خرگوش ادھر سے گزرے۔ ان کی کوشش تھی کہ وہ اس درخت کے پاس سے چپ چاپ گزر جائیں لیکن جونہی وہ آگے بڑھے الو پکارا:

"ذرا ٹھہرو۔۔۔۔” اس نے انہیں دیکھ لیا تھا۔

"کون؟” خرگوش مصنوعی حیرت سے چونکتے ہوئے بولے۔ انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ اتنی گہری تاریکی میں بھی کوئی انہیں دیکھ رہا ہے۔

"خرگوش بھائیو۔۔۔ ذرا بات سنو۔۔۔” الو نے انہیں پھر کہا، لیکن خرگوش بڑی تیزی کے ساتھ بھاگ نکلے اور دوسرے پرندوں اور جانوروں کو خبر دی کہ الو سب سے مدبر اور دانا ہے کیونکہ وہ اندھیرے میں دیکھ سکتا ہے۔

لومڑی نے کہا کہ ذرا مجھے اس بات کی تصدیق کر لینے دو، چنانچہ وہ اگلی شب اس درخت کے پاس پہنچی اور الو سے مخاطب ہو کہ کہنے لگی: "بتاؤ میں نے اس وقت کتنے پنجے اٹھا رکھے ہیں؟”

الو نے فوراً کہا: "دو”

اور جواب درست تھا۔

"اچھا یہ بتاؤ یعنی کا مطلب کیا ہوتا ہے؟” لومڑی نے دریافت کیا۔

"یعنی کا مطلب مثال دینا ہوتا ہے۔”

لومڑی بھاگم بھاگ واپس آئی۔ اس نے جانوروں اور پرندوں کو اکٹھا کیا اور گواہی دی کہ الو سب سے مدبر اور سب سے دانا ہے، کیونکہ وہ اندھیرے میں دیکھ سکتا ہے اور پیچیدہ سوالوں کے جواب دے سکتا ہے۔

"کیا وہ دن کی روشنی میں بھی دیکھ سکتا ہے؟” ایک بوڑھے بگلے نے پوچھا۔ یہی سوال ایک جنگلی بلے نے بھی کیا۔

سب جانور چیخ اٹھے کہ دونوں کا سوال احمقانہ ہے۔ پھر زور زور سے قہقہے لگانے لگے۔ جنگلی بلے اور بوڑھے بگلے کو جنگل بدر کر دیا گیا اور متفقہ طور پر الو کو پیغام بھیجا کہ وہ ان سب کا سربراہ اور رہنما بن جائے۔ وہی سب سے ذہین و دانا اور مدبر ہے اور اسی کو ان کی رہبری اور رہنمائی کا حق ہے۔

الو نے یہ عرضداشت فوراً قبول کر لی۔ جب وہ پرندوں اور جانوروں کے پاس پہنچا، دوپہر تپ رہی تھی، سورج کی تیز روشنی چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی اور الو کو کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ وہ پھونک پھونک کر قدم اٹھا رہا تھا جس سے اس کی چال اور شخصیت میں وہ وقار اور رعب داب پیدا ہو گیا جو بڑی شخصیتوں کا خاصہ ہوتا ہے۔ وہ اپنی گول گول آنکھیں کھول کھول کر اپنے چاروں طرف دیکھنے کی کوشش کرتا۔ جانور اور پرندے اس اندازِ نظر سے اور بھی متاثر ہوئے۔

"یہ ہمارا رہنما ہی نہیں، سب کا رہنما ہے۔ یہ تو دیوتا ہے۔۔۔۔ دیوتا۔۔۔۔ دیوتا۔۔۔۔” ایک موٹی مرغابی نے زور سے کہا۔ دوسرے پرندوں اور جانوروں نے بھی اس کی تقلید کی اور زور زور سے رہنما دیوتا۔۔۔۔ کے نعرے لگانے لگے۔

اب الو ۔۔۔ یعنی ان سب کا رہنما آگے آگے اور وہ سب بے سوچےاندھا دھند اس کے پیچھے پیچھے جا رہے تھے۔ روشنی کی وجہ سے اسے نظر تو کچھ نہ آتا تھا۔ چلتے چلتے وہ پتھروں اور درختوں کے تنوں سے ٹکرایا۔ باقی سب کا بھی یہی حال ہوا۔ اس طرح وہ ٹکراتے اور گرتے پڑتے جنگل سے باہر بڑی سڑک پر پہنچے۔ الو نے سڑک کے درمیان چلنا شروع کر دیا۔ باقی سب نے بھی اس کی تقلید کی۔

تھوڑی دیر بعد ایک عقاب نے جو ہجوم کے ساتھ ساتھ اڑ رہا تھا، دیکھا کہ ایک ٹرک انتہائی تیز رفتار کے ساتھ ان کی جانب دوڑا چلا آرہا ہے۔ اس نے لومڑی کو بتایا جو الو کی سیکرٹری کے فرائض سرانجام دے رہی تھی۔

"دیوتا۔۔۔ آگے خطرہ ہے۔” لومڑی نے بڑے ادب سے الو کی خدمت میں گزارش کی۔

"اچھا؟” الو نے تعجب سے کہا۔

"کیا آپ کسی خطرے سے خوف نہیں کھاتے؟” لومڑی نے عرض کی۔

"خطرہ! خطرہ! کیسا خطرہ؟” الو نے پوچھا۔

ٹرک بہت قریب آ پہنچا تھا، لیکن الو بے خبری میں اسی طرح بڑی شان سے اٹھلاتا جا رہا تھا۔ رہبرِ فراز کے پیروکار بھی قدم سے قدم ملائے چل رہے تھے۔ ایک عجب سماں تھا۔

"واہ واہ ۔۔۔۔ ہمارا رہنما ذہین اور مدبر و دانا ہی نہیں بڑا بہادر بھی ہے۔۔۔۔” لومڑی زور سے پکاری اور باقی جانور ایک ساتھ چیخ اٹھے: "ہمارا ذہین اور مدبر۔۔۔”

اچانک ٹرک اپنی پوری رفتار سے انہیں کچلتے ہوئے گزر گیا۔ عظیم دانا اور مدبر رہنما کے ساتھ اس کے احمق پیروکاروں کی لاشیں بھی دور دور تک بکھری پڑی تھیں۔

شیخ صاحب اور فقیر

فقیر: اللہ کے نام پہ کچھ دے دو صاحب!

شیخ صاحب: مانگتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آتی کیا؟ ہر روز منہ اٹھا کے مانگنے چلے آتے ہو

فقیر: ہمارے صدر کو شرم آتی ہے کیا؟ ہم بھی تو اس کی ہی رعایا ہیں

شیخ صاحب: تم کچھ کام دھندہ کیوں نہیں کر لیتے؟

فقیر: آج کل مانگنا ہی سب سے زیادہ منافع بخش دھندہ ہے

شیخ صاحب: شرم کرو

فقیر: پھر وہی بات صاحب! شرم نامی چیز کو ہمارے معاشرے سے رخصت ہوئے عرصہ ہو گیا ہے

شیخ صاحب: کبھی کوئی نیکی کا کام بھی کر لیا کرو

فقیر: نیکی کا زمانہ نہیں رہا صاحب! کبھی آپ نے زکوٰۃ نکالی؟

شیخ صاحب:  میرا سر مت کھاؤ ! چلو بھاگو یہاں سے!

فقیر: ملک سے ہی بھاگ جاؤں گا! لیکن کوئی بڑا ہاتھ مارنے کے بعد!

شیخ صاحب: آدمی سمجھدار لگتے ہو!

فقیر: جی صاحب۔ میں بی اے پاس ہوں۔۔


ایک کہانی

کہانی

ابھی صبح روشنی نہیں ہوئی تھی. ایک جنگل میں ایک بڑے سے درخت کے پاس چھوٹا سا خیمہ لگا تھا جس میں ایک بدو اپنے بچوں کے ساتھ سو رہا تھا۔ بدو نے کچھ مرغ پال رکھے تھے جو درخت کی اونچی شاخ پر بیٹھے اونگھ رہے تھے۔

وقت گزر رہا تھا اور صبح قریب آ رہی تھی۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا سرسرانے لگی۔ ایک بوڑھے مرغ کی آنکھ کھلی۔ اس نے صبح کے آثار دیکھے تو خدا کا شکر ادا کیا اور پورے زور سے اذان دی۔

ایک بھوکی لومڑی نے اذان کی آواز سنی تو درخت کی طرف بھاگی، قریب آئی ۔ ادھر ادھر دیکھا کچھ نہ پایا۔ اوپر کی طرف نگاہ اٹھی۔ اونچی شاخ پر مرغ کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔ جی للچایا کہ اسی کو ناشتہ بنایا جائے، مگر مرغ تھا اونچی شاخ پر اور لومڑی زمین پر۔ مرغے تک پہنچے تو کس طرح؟ سوچنے لگی کہ مرغے کو کس طرح نیچے لائے۔ آخرکار ترکیب ذہن میں آ ہی گئی، وہ چِلّا کر بولی:

"بھائی مرغے! تمہاری پیاری آواز مجھے یہاں کھینچ لائی ہے۔ صبح ہو گئی ہے، درخت سے نیچے اترو تاکہ مل کر نماز پڑھیں۔ تم تو جانتے ہی ہو کہ باجماعت نماز کا بڑا درجہ ہے”۔

مرغا بھی تجربہ کار تھا، لومڑی کی مکاری سمجھ گیا۔ شاخ  پر بیٹھے بیٹھے بولا:

"بی لومڑی! آپ کا آنا مبارک! مگر امام کے بغیر باجماعت نماز کیسے ہو گی؟”

لومڑی نے کہا: "مرغے میاں! تم بھی تو پڑھے لکھے ہو، آؤ تم ہی امام بن جاؤ۔ امام کا انتظار کرتے رہے تو نماز کا وقت گزر جائے گا۔ بس اب نیچے اترو اور نماز پڑھا دو”۔

مرغے نے جواب دیا: "بی لومڑی! آپ گھبرائیں نہیں، امام یہاں موجود ہے۔ ذرا اسے جگا لو۔ یہ دیکھو، سامنے درخت کی جڑ میں سو رہا ہے”۔

لومڑی نے جڑ کی طرف دیکھا تو ایک شخص سویا ہوا نظر آیا۔ اسے دیکھ کر واپس جنگل کو بھاگی۔

مرغے نے چِلا کر کہا: "کہاں جاتی ہو؟ امام کو جگا دو، مل کر نماز پڑھیں گے۔”

لومڑی نے بھاگتے ہوئے جواب دیا: "بھیا!  میرا وضو ٹوٹ گیا ہے، ابھی وضو کر کے آتی ہوں۔”

اخلاقی سبق

اس پرانی کہانی سے حکمت کے کئی پہلو نکلتے ہیں۔ لومڑی نے خوف اور جلد بازی میں جو موقع گنوا دیا، آپ اس سے سبق حاصل کیجیے۔

1. غلط کام کرتے وقت ڈریں مت! ابتدائی ناکامی کی صورت میں دلبرداشتہ مت ہوں۔ یاد رکھیے مستقل مزاجی ہی کامیابی کی کنجی ہے۔

2. پیٹ کی خاطر جھوٹ بولنے میں کوئی حرج نہیں۔ اور بار بار بولنے سے ہی اس پر سچ کا گمان ہو سکتا ہے۔

3. سزا جزا کا مالک رب ہے۔ ہم اپنے اعمال کیلیے صرف اس کے آگے ہی جوابدہ ہیں۔ یہ پولیس اور عدالتیں تو خود چور ہیں، ہمیں ان سے ڈرنے کی ضرورت نہیں!

4. کام نکلوانے کی خاظر "خوشامد” کا کارآمد نسخہ استعمال کیجیے۔

5. اپنے ایمان کو مضبوط کیجیے تاکہ ایسے مشکل مواقع پر وضو نہ ٹوٹ جائے۔



%d bloggers like this: