مذہبی سوالنامہ

سوال ۱: ٹیچی ٹیچی، خیراتی، درشنی اور مٹھن لال کس مخلوق کے نام ہیں؟

1. انسان                               2. جن                       3. فرشتے

سوال ۲:  پیغمبرانہ بیماری کون سی ہے؟

1. بخار                                 2. دردِ سر                   3. پیچش

سوال ۳: نبی کون سی چیز ظاہر کرتا ہے؟

1.معجزہ                               2.کرامت                     3. نشان

سوال ۴: اسلام میں فرضیت جہاد کس دور میں ختم ہوئی؟

1. فتح مکہ کے بعد             2.صلیبی جنگوں کے دور میں            3. انگریزوں کے دور میں

سوال ۵: کیا ایک نبی مندرجہ ذیل عادات کا مالک ہو سکتا ہے؟

> چڑیا پکڑنا     > چھپڑ میں نہانا    > جوتے الٹے پہننا   > چابیاں ریشمی آزاربند کے ساتھ باندھنا   > آوارہ گردی اور فضول خرچی

1. ہاں                               2. نہیں

سوال ۶: کون سی مذہبی کتاب میں سینکڑوں گالیاں درج ہیں؟

1. وید                          2. گرنتھ                     3. روحانی خزائن

سوال ۷: بخار کے علاج کیلیے مرغا ذبح کر کے سر پر باندھنے کا طریقہ کس کی سائنسی ایجاد ہے؟

1. ارسطو                      2. حکیم لقمان               3. مرزا غلام احمد قادیانی

……………………………………………………………………………………………………..

نوٹ: جس سوال کی سمجھ نہ آئے تبصرہ میں پوچھ سکتے ہیں۔


Advertisements

Posted on جولائی 29, 2010, in ختمِ نبوت and tagged , , , . Bookmark the permalink. 63 تبصرے.

  1. ہاہاہاہاہاہاہا
    ایک سوال تو بھول گئے آپ۔۔۔
    دھوبیوں سے معشوق کی دھونے والی شلوار منگوا کر سونگھنا کس بیماری میں علاج کا کام کرتا ہے؟
    ۱- پاگل پن
    2- پاگل پن
    3- پاگل پن

  2. مرزا جی و ہمنواؤں سے معذرت کے ساتھ
    مرزا جو ہوتا خدا کا پیمبر
    ٹٹی میں گر کر نہ مرتا وہ ک ن ج ر

  3. یہ واٹ شالا پروگرام کسی سیریز کا حصہ ہے یا سنگل ایپی سوڈ پروگرام ہے
    اور یہ دھوبی والا کیا قصہ ہے یار؟

    • کچھ کہا نہیں جا سکتا فی الحال۔ یہ تو حالات پر منحصر ہے
      دھوبی کا قصہ جعفر کے بلاگ پر پیش کیا جائے گا مستقبل میں۔

  4. ہمارے ملک میں گذشتہ دو دن کے دوران تین سو لوگ قدرتی آفات اور حادثات میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ ایسے سنجیدہ موضوعات کو بھی زیر بحث لائیں۔ دوسروں کے مذہب کا مذاق اڑانا اچھی بات نہیں ہے۔ خاص طور پر جب آپ چاہتے ہوں کہ لوگ آپ کے مذہبی جذبات کا احترام کریں۔

    • اس موضوع پر چچا اجمل عنیقہ اور دیگر بلاگر لکھ چکے ہیں۔ مجھے بھی اس واقعے کا اتنا ہی دکھ ہے جتنا کہ آپ کو۔
      رہی بات مذہبی جذبات کے احترام والی تو بھائی صاحب میں نے آج کوئی سال بعد اس موضوع پر لکھا ہے کیونکہ میں نے دیکھا تھا کہ یہ لوگ کچھ بلاگ تبصروں میں اپنے مذہب کی تبلیغ شروع ہو گئے تھے۔

    • koun sa dosra Mazhab ………… yeah Qadiyani …. Gustakh-e-Rasool ……. inka koi mazhab nahi aur inki kisi bhi qisim ke himayat …. karnay walay kay baray main logoun kay zehan main shakook ko janam daynay ka bais hoo sakti hay…….. han app nay jo other topics farmai hain unpay bhi likhna chahiya……. Saad abb app ani Next post mojuda halat pay zaroor likhya ga

      • میں آپ کے جذبات کی قدر کرتا ہوں، شکریہ
        پچھلی تحریر حالاتِ حاضرہ پر ہی تھی۔ جس موضوع کی بات نعمان صاحب کر رہے ہیں اس پر ہمارے بلاگر دوست کافی لکھ چکے ہیں۔

    • their religion itself is a blasphemy to our prophet why we should respect them????
      Mirza insulted our prophet PBUH tooooo much….
      he says that mental caliber of Muhammad was less than me….is this respect??????

  5. آپ یہ بھی پوچھنا بھول گئے کہ
    نبی جس قوم پر نازل ہو اس قوم کی مادری زبان پنجابی ہو تو وحی کس زبان میں نازل ہو گی؟
    (۱) اُردو (۲) عربی (۳) انگلش

  6. yeh konsi mazhab ki khidmat hai ?

  7. bohat fit hay …… aur bhi bohat kuch kahna cahiya inko too……. good Job

  8. آپ کے سوال خوب ہیں اور پہلی بار ملاحظہ کیے ہیں
    صابر صاحب کا سوال تو خوب تر ہے

  9. سعد آپ نے مذہب پر لکھا ھے؟ کونسا مذہب؟
    ٹیچی ٹیچی فرشتے ہوتے ہیں جی خلائی قسم کے،
    اور پاک لوگ شاید اس کا پیسٹ بنا کر دانت صاف کرتے ہیں۔
    ٹچی مچی

  10. آپ نے مجھے آدھی صدی قبل پڑھی ہوئی بہت سی باتيں ياد کرا دی ہيں ۔ ميرے بلاگ پر ايک لطف الاسلام صاحب بہت پرچا کرتے يں مرزا غلام احمد کا

  11. :خاموش:
    میں بھی کچھ ملتے جلتے مذاہب اور لوگوں کے عقائد کے بارے لکھنا چاہ رہا تھا لیکن، بلاگستان کے حالات کے پیش نظر فی الحال ہاتھ روک رہا ہوں۔

  12. شکر هے ياسر لطيف همداني اینڈ کمپنی کو اس بلاگ کا نہیں پتہ ورنہ وہ گالیوں کی بارش شروع کردیتا۔ یاسر لطیف ہمدانی مرزا غلام احمد قادیانی کے سچے پیروکار ہیں اس لیے ان کی پیروی کا حق ادا کرتے ہوئے انہوں گالیوں میں کمال حاصل کیا ہے۔

  13. مجھے سب پوسٹ میں محمد صابر کا سوال مزے دار لگا
    یه سلوک کی منزلیں ، یه عسائی عالموں کو شکست ، یه مغربی سیانوں کی واھ واھ ، انگریزی بولنے کی استبداد اور پھر جهاد کو کینسل کرنے والے کاموں ميں مرزا قادیانی اور علامہ قادری ميں اتنی مماثلت کیو ں پائی جاتی ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

  14. کیا مزے لینے مذاق اڑانے کے لئے اب کچھ نہین بچا جو مذہب کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں.

  15. نبی جس قوم پر نازل ہو اس قوم کی مادری زبان پنجابی ہو تو وحی کس زبان میں نازل ہو گی؟
    (۱) اُردو (۲) عربی (۳) انگلش

    جناب اردو اور عربی زبان کو کچھ انگریزی میں تڑکا لگا کر

  16. بہت اچھا سوالنامہ ترتیب دیا ہے۔ معلومات میں خاصا اضافہ ہوا ہے اس بارے میں۔ 😆

  17. ذرا بتائیں تو سہی- کونسی معلومات میں اضافہ ہوا ہے؟

    ویسے جواب یہںاں دیکھے جا سکتے ہیں۔

    http://khokhar976.wordpress.com/

    • چلیے یہ پڑھ لیجیے۔ آپ کے اپنے بندے نے ہی لکھا ہے جسے خدا نے ہدایت دی۔ امید ہے اب آپ کی معلومات میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا

      http://mqalateraheel.blogspot.com/search/label/%D8%AC%DA%BE%D9%88%D9%B9%20%DA%A9%DB%8C%20%D9%88%DB%81%DB%8C%20%D9%85%D9%84%D9%85%D8%B9%20%DA%A9%D8%A7%D8%B1%DB%8C

    • ویسے سوال نمبر ۵، ۶، ۷ کا جواب بھی عنایت فرما کر شکریہ کا موقع دیں۔

      • سوال نمبر پانچ بے تکا ہے۔

        سوال نمبر 6 اور 7 کے حوالہ جات فراہم کر دیں۔ جواب مل جائیں گے۔

        • سوال نمبر ۵ آپکو بے تکا ہی لگے گا لیکن یہ بھی حقیقت ہے اس قبول کیجیے!

          سوال نمبر ۶ کیلیے آپ اس کتاب کا مطالعہ کیجیے۔ یقیناً آپ کی لائبریری میں محفوظ ہو گی۔ یہ بلاگ ہے اور میں یہاں پوری کتاب ٹائپ نہیں کر سکتا۔

          سوال نمبر ۷ کا قصہ:

          سیرت المہدی میں مرزا بشیر احمد قادیانی اس واقعہ کے متعلق یوں رقم طراز ہے:
          "حضرت والدہ صاحبہ یعنی ام المومینین اطال اللہ بقائہا نے مجھ سے بیان کیا۔ کہ ایک دفعہ مرزا نظام الدین صاحب کو سخت بخار ہوا۔ مرزا نظام الدین کے عزیزوں نے حضرت صاحب کو اطلاع دی۔ اور آپ فوراً وہاں تشریف لے گئے اور مناسب علاج کیا۔ علاج یہ تھا کہ آپ نے مرغا ذبح کرا کے سر پر باندھا”۔
          (سیرت المہدی، حصہ سوم، ص ۲۷، از مرزا بشیر احمد قادیانی ابن مرزا قادیانی)

  18. سوال نمبر 6 کا حوالہ یہ ہے۔ تنگ نظری اور نفرت کی حدیں پار ہو جائیں تو ہی ایسی باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔

    ’’ بڑے دھوکہ کی بات یہ ہے کہ اکثر لوگ دشنام دہی اور بیان واقعہ کو ایک ہی صور ت میں سمجھ لیتے ہیں اور ان دونوں مختلف مفہوموں میں فرق کرنا نہیں جانتے۔ بلکہ ایسی ہر ایک بات کو جو دراصل ایک واقعی امر کا اظہار ہو اور اپنے محل پر چسپاں ہو محض اس کی کسی قدر مرارت کی وجہ سے جو حق گوئی کے لازمِ حال ہوا کرتی ہے دشنام ہی تصور کر لیتے ہیں حالانکہ دشنام اور سبّ اور شتم فقط اس مفہوم کا نام ہے جو خلافِ واقعہ اور دروغ کے طور پر محض آزار رسانی کی غرض سے استعمال کیا جائے۔ اور اگر ہر ایک سخت اور آزار دہ تقریر کو محض بوجہ اس کے کہ مرارت اور تلخی اور ایذا رسانی کے دشنام کے مفہوم میں داخل کر سکتے ہیں تو پھر اقرار کرنا پڑے گا کہ سارا قرآن شریف گالیوں سے پُر ہے۔ کیونکہ جو کچھ بُتوں کی ذلّت اور بُت پرستوں کی حقارت اور ان کے بارہ میں لعنت ملامت کے سخت الفاظ قرآنِ شریف میں استعمال کئے گئے ہیں یہ ہرگز ایسے نہیں ہیں جن کے سننے سے بُت پرستوں کے دل خوش ہوئے ہوں بلکہ بلاشبہ ان الفاظ نے ان کے غصّہ کی حالت کی بہت تحریک کی ہو گی۔ کیا خدائے تعالیٰ کا کفّار مکّہ کو مخاطب کر کے یہ فرمانا کہ اِنَّکُم وَمَا تَعبُدُونَ مِن دُونِ اللّٰہِ حَصَبُ جَھَنَّمَ (الانبیاء : ۹۹ ) معترض کے من گھڑت قاعدہ کے موافق گالی میں داخل نہیں ہے۔ کیا خدائے تعالیٰ کا قرآن شریف میں کفار کو شَرُّ البَرِیَّہ قرار دینا اور تمام رذیل اور پلید مخلوقات سے انہیں بدتر ظاہر کرنا یہ معترض کے خیال کے رو سے دشنام دہی میں داخل نہیں ہو گا؟ کیا خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں وَاغلُظ عَلَیھِم (التوبہ:۷۳)نہیں فرمایا کیا مومنوں کی علامات میں اَشِدَّآءُ عَلَی الکُفَّارِ (الفتح:۳۰) نہیں رکھا گیا۔ کیا حضرت مسیح کا یہودیوں کے معزز فقیہوں اور فریسیوں کو سؤر اور کتّے کے نام سے پکارنا اور گلیل کے عالی مرتبہ فرمانروا ہیرو دیس کا لونبڑی نام رکھنا اور معزز سردار کاہنوں اور فقیہوں کو کنجری کے ساتھ مثال دینا اور یہودیوں کے بزرگ مقتداؤں کو جو قیصری گورنمنٹ میں اعلیٰ درجہ کے عزت دار اور قیصری درباروں میں کرسی نشین تھے ان کریہہ اور نہایت دلازار اور خلاف تہذیب لفظوں سے یاد کرنا کہ تم حرامزادے ہو حرامکار ہو شریر ہو بدذات ہو ، بے ایمان ہو ، احمق ہو ، ریاکار ہو ، جہنمی ہو ، تم سانپ ہو ، سانپوں کے بچّے ہو۔ کیا یہ سب الفاظ معترض کی رائے کے موافق فاش اور گندی گالیاں نہیں ہیں

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دشنام دہی اور چیز ہے اور بیان، واقعہ کا گو وہ کیسا ہی تلخ اور سخت ہو دوسری شئے ہے ۔ہر ایک محقّق اور حق گو کا یہ فرض ہوتا ہے کہ سچی بات کو پورے پورے طور پر مخالفِ گم گشتہ کے کانوں تک پہنچا دیوے پھر اگر وہ سچ کو سنکر افروختہ ہو تو ہوا کرے ہمارے علماء جو اس جگہ لَاتَسُبُّوا (الانعام :۱۰۹)آیت پیش کرتے ہیں میں حیران ہوں کہ اس آیت کو ہمارے مقصد اور مدّعا سے کیا تعلق ہے۔ اس آیت کریمہ میں تو صرف دشنام دہی سے منع فرمایا گیا ہے نہ یہ کہ اظہارِ حق سے روکا گیا ہو اور اگر نادان مخالف ،حق کی مرارت اور تلخی دیکھ کر دشنام دہی کی صورت میں اس کو سمجھ لیوے اور پھر مشتعل ہو کر گالیاں دینی شروع کر دے تو کیا اس سے امر معروف کا دروازہ بند کر دینا چاہئے ؟ کیا اس قسم کی گالیاں پہلے کفّار نے کبھی نہیں دیں۔ آنحضرت ﷺ نے حق کی تائید کے لئے صرف الفاظ سخت ہی استعمال نہیں فرمائے بلکہ بُت پرستوں کے ان بُتوں کو جو ان کی نظر میں خدائی کا منصب رکھتے تھے اپنے ہاتھ سے توڑا بھی ہے

    ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سو جاننا چاہئے کہ جن مولویوں نے ایسا خیال کیا ہے کہ گویا عام طور پر ہر ایک سخت کلامی سے خدائے تعالیٰ منع فرماتا ہے۔ یہ ان کی اپنی سمجھ کا ہی قصور ہے ورنہ وہ تلخ الفاظ جو اظہارِ حق کے لئے ضروری ہیں اور اپنے ساتھ اپنا ثبوت رکھتے ہیں وہ ہر ایک مخالف کو صاف صاف سنا دینا نہ صرف جائز بلکہ واجباتِ وقت سے ہے تا مداہنہ کی بلا میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ خدائے تعالیٰ کے برگزیدہ بندے ایسی سخت تبلیغ کے وقت میں کسی لاعِن کی لعنت اور کسی لائمِ کی ملامت سے ہرگز نہیں ڈرے ۔کیا معلوم نہیں کہ آنحضرت ﷺ کے وقت میں جس قدر مشرکین کا کینہ ترقی کر گیا تھا اس کا اصل باعث وہ سخت الفاظ ہی تھے جو ان نادانوں نے دشنام کی صورت پر سمجھ لئے تھے جن کی وجہ سے آخر لِسان سے سنان تک نوبت پہنچی۔ ورنہ اوّل حال میں تو وہ لوگ ایسے نہیں تھے بلکہ کمال اعتقاد سے آنحضرت ﷺ کی نسبت کہا کرتے تھے کہ عَشِقَ مُحَمَّدٌ عَلٰی رَبِّہ یعنی محمد ﷺ اپنے رب پر عاشق ہو گئے۔ ‘‘(ازالہ اوہام۔ روحانی خزائن جلد ۳صفحہ ۱۰۹تا ۱۱۵)
     

  19. بہت اعلیٰ جناب بہت اعلیٰ …..

  20. سعد بھائی!

    اگر اعتراض نہ ہو تو میں یہ سوالنامہ اپنے بلاگ پر شایع کردوں ؟

  21. برائے مہربانی ایک سوال اور شامل کر دیں. کہ استنجا کے ڈھیلے اور گڑ کی ڈلی میں کیا فرق ہوتا ہے. شنید ہے کہ مرزا ایک جیب میں استنجا کا ڈھیلا رکھتا تھا اور دوسسری جیب میں گڑ کی ڈلی اور بے دیھانی میں اسکو یہ ہی نہیں پتا چلتا تھا کہ وہ کیا چیز چاٹ رہا ہے….شنید ہے خود سے نہیں پڑھا…چونکہ معاملہ مرزا کا تھا اس لئے تحقیق کی زحمت نہیں کی :))

  22. سلام وعلیکم بھای صاحب یہ میرا ویب سایٹ ہے اس کو لنک کر کے اور اپنے دوستوں کو ارسال کر دو آپ کی مہربانی ہو گی جزاک اللہ
    http://www.daaljan.wordpress.com
    دالبندین آنلاین

  23. سوالنامہ پڑھ کر بہت پسند آیا۔۔شکریہ

  1. پنگ بیک: مذہبی سوالنامہ « F U N D A M E N T A L I S T

  2. پنگ بیک: مذہبی سوالنامہ | Tea Break

تبصرہ کیجیے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: