Monthly Archives: مارچ 2012

کرکٹیریا


آج شام میرا گزر ایک گروہِ مفکرین کے پاس سے ہوا جو ایک جوہڑ کے کنارے آلتی پالتی مار کر سوگوار بیٹھے ہوئے تھے اور کسی اہم موضوع پر گفت و شنید کر رہے تھے۔ مجھے تجسس ہوا اور جیسے ہی میں ان کے قریب ہوا انھوں نے مجھے اپنے پاس بیٹھنے کی دعوت دی۔ میں تشکرانہ انداز میں مودب ہو کر ان کے پاس بیٹھ گیا اور ان کی باتیں سننے لگا۔ موضوعِ بحث کرکٹ تھا اور وہ لوگ انڈیا کے ہاتھوں پاکستان کی شکست کا ماتم کر رہے تھے۔ ان کی آوازوں میں ایک عجب سا سوز تھا جس سے میں بھی اداس ہو گیا۔

ایک مفکر نے، جن کو  بیٹ پکڑنا بھی نہیں آتا تھا، پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ کی خامیوں کو واضح کیا۔ ایک اور مفکر ، جن کو  میرے گاؤں کی کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ مرتبہ صفر پر آؤٹ ہونے کا اعزاز حاصل ہے، پاکستانی ٹیم  کی بیٹنگ کے مستقبل سے مایوس نظر آئے۔ انھوں نے فرمایا کہ پاکستانی شکست کے پیچھے جوئے کے امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بعد میں مجھے علم ہوا کہ یہ صاحب پاکستان کی جیت کیلیے ۵۰۰ روپے لگا چکے تھے جو کہ ڈوب گئے۔ میں نے مودبانہ انداز میں کہا کہ میچ ہارنے کی وجہ بیٹنگ نہیں باؤلنگ تھی تو سب نے حقارت بھری نظر مجھ پر ڈالی اور پوچھا کہ کیا تم نے میچ دیکھا تھا؟ "میچ تو ہم میں سے کسی نے بھی نہیں دیکھا کیونکہ بجلی ہی نہیں تھی! ” میں نے جواب دیا اور کچھ پل کیلیے سکوت ہو گیا۔

ایک مفکر نے بیان دیا کہ یہ پاکستان اور بھارت کے مابین میچ  نہیں بلکہ خدا اور بھگوان کے درمیان جنگ تھی۔ اس سے پہلے کہ مزید کفر بکا جاتا، میں نے ان سے مصباح الحق  کی میچ کے بارے میں حکمتِ عملی کے بارے میں رائے مانگی۔ مصباح کا نام سنتے ہی سب کے چہرے غصے سےلال  ہو گئے۔ سب سے پہلے ایک بزرگ دانشور نے  فصیح و بلیغ پنجابی میں مصباح الحق کا شجرہ بیان کیا اور پھر اس کی” کمزوریوں”  پر حکیمانہ انداز میں روشنی ڈالی۔اس کے بعد انھوں نے فرمایا کہ مصباح سے اچھا تو وہ جنوبی افریقی ہیجڑہ ہے! اور یہ  مصباح تو پاکستانی مردوں کے نام پر بدنما دھبہ ہے۔ ایک اور مفکر نے مصباح کی شان میں قصیدہ پڑھنے کے بعد مشورہ دیا کہ( اس میں اگر غیرت ہے تو ) خودکشی کر لے۔

اس کے بعد موضوع انڈین ٹیم کی بیٹنگ کی طرف مڑ گیا۔ سب نے ٹنڈولکر کی سنچری نہ ہونے کا افسوس کیا اور کہا کہ اگر وہ سنچری کر جاتا تو پاکستان میچ جیت جاتا۔ پھر ویرات کوہلی، جسے سب پیار سے کوہلو کہہ کر پکار رہے تھے، کی تعریف کی گئی اور جب میں نے تصحیح کی کوشش کی تو مجھے اردو گرامر کے اسرار و رموز سمجھانے کے بعد بتایا گیا کہ کوہلی اور کوہلو میں کچھ خاص فرق نہیں ہے کیونکہ کوہلو کا تعلق بیل سے ہے ، بیل کا گائے سے اور گائے ہندوؤں کے نزدیک انتہائی متبرک جانور ہے جس کی نسبت پر کوہلی کو فخر ہے۔ اس سے پہلے کہ میں یہ انوکھا تعلق سمجھ پاتا، سب نے فائنل میچ میں پاکستان کے ہارنے کی پیشن گوئی کی اور اس پر پیسے بھی لگا نے شروع کر دیے۔

میں وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا اور جب واپس گھر پہنچا تو خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا۔

%d bloggers like this: