مرزا اور عیسائیوں کے مابین مناظرہ


عبداللہ آتھم ایک مرتد عیسائی کے ساتھ مرزا قادیانی کا مناظرہ ہوا۔ مرزا کا دعویٰ تھا کہ میں مثیلِ مسیح ہوں۔ عیسائیوں نے میدانِ مناظرہ میں ایک مردہ لا کر رکھ دیا، ایک کوڑھی اور ایک اندھا لے آئے اور مرزا سے مطالبہ کیا کہ قرآن پاک میں عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہے کہ وہ مردوں کو زندہ، اندھوں کو بینا اور کوڑھیوں کو تندرست کر دیتے تھے۔ اگر تو سچا مسیح ہے تو اپنی مسیحائی دکھا کہ یہ مردہ زندہ ہو جائے، اندھا بینا ہو جائے اور کوڑھی تندرست ہو جائے۔

مرزا نے کہا کہ میں آج رات استخارہ کروں گا اگر اللہ کی طرف سے مجھے ایسا کرنے کی اجازت مل گئی تو میں ایسا کروں گا ورنہ نہیں۔ عیسائیوں نے کہا عیسیٰ علیہ السلام نے کبھی ان کاموں کیلیے استخارہ نہیں کیاتھا تُو جھوٹا ہے حیلے بہانے کرتا ہے۔ بہرحال عیسائیوں نے ایک رات کی مہلت دے دی کہ آپ اللہ تعالیٰ سے صلاح مشورہ کر کے یہ کام کر دکھائیں۔

مرزا قادیانی اگلے دن آیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے مناظرہ بند کرو کیونکہ یہ ماننے والے نہیں اور پیشن گوئی کی کہ آج کی تاریخ ( ۵ جون ۱۸۹۳) سے مخالف مناظر پندرہ ماہ کے اندر اندر بسزائے موت ہاویہ میں جا گرے گا بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور مرزا نے لکھا میں اس وقت یہ اقرار کرتا ہوں اگر یہ پیشن گوئی جھوٹی نکلی یعنی جو فریق خدا کے نزدیک جھوٹ پر ہے پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا اٹھانے کو تیار ہوں، مجھ کو ذلیل کیا جائے، منہ سیاہ کیا جائے، میرے گلے میں رسہ ڈالا جائے، مجھ کو پھانسی دی جائے، ہر ایک بات کیلیے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا ضرور کرے گا ضرور کرے گا۔ زمین و آسمان ٹل جائیں مگر اس کی باتیں نہیں ٹلیں گی اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لیے سولی تیار رکھو اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی سمجھو۔ (جنگ مقدس صفحہ ۱۸۹)

پیشن گوئی کی میعاد ۵ ستمبر ۱۸۹۴ تھی مگر آتھم نے اس تاریخ تک نہ تو عیسائیت سے توبہ کی، نہ اسلام کی طرف رجوع کیا اور نہ ہی بسزائے موت ہاویہ میں گرا۔ مرزا نے اس کو مارنے کیلیے ٹونے ٹوٹکے بھی کیے۔ آخری دن چنوں پر سورۃ الفیل کا وظیفہ بھی پڑھا اور ساری رات قادیان میں مرزا اور مرزائیوں نے بڑی آہ زاری کے ساتھ ’’یا اللہ آتھم مر جائے‘‘ کی دعائیں بھی کیں مگر سب بے سود ہوا۔ نہ آتھم پر ٹونے ٹوٹکوں کا اثر ہوا اور نہ خدا نے مرزا قادیانی کی آہ زاری اور بددعاؤں کو آتھم کے حق میں قبول فرمایا۔ آخرکار مرزا قادیانی اپنے قول کے مطابق جھوٹا، ذلیل، روسیاہ، سب سے بڑا شیطان، سب سے بڑا بدکار اور سب سے بڑا لعنتی ثابت ہوا۔

۵ستمبر کو عیسائی صلیب اور سیاہی لیکر مرزا کا منہ کالا کرنے پہنچ گئے لیکن پولیس نے ان کو آگے نہ بڑھنے دیا۔ وہ بار بار للکارتے رہے کہ او کمینے انسان تو اپنے آپ کو ’’کاسر (توڑنے والا) صلیب‘‘ کہتا ہے لیکن آج صلیبی پولیس کی وجہ سے ہی تیرا سر گردن پر ٹکا ہوا ہے۔ آخر وہ مرزا کے دروازہ پر یہ شعر لکھ کر چلے گئے


ڈھیٹ اور بے شرم بھی ہوتے ہیں دنیا میں مگر

سب پر سبقت لے گئی ہے بے حیائی آپ کی
پنجہ آتھم سے ہے مشکل رہائی آپ کی
توڑ ڈالے گا آتھم نازک کلائی آپ کی


میں عیسائیوں نے اپنی فتح کے جلوس نکالے۔ وہ گلیوں میں ناچتے تھے اور اسلام اور پیغمبر اسلام کا مذاق اڑاتے تھے۔ (سراج منیر صفحہ ۱۸)

اس پیشن گوئی کے غلط ہونے کی وجہ سے مرزا کا سالا مرزا سعید احمد عیسائی ہو گیا اور کئی مرزائی بھی عیسائی ہو گئے۔ (کتاب البریہ صفحہ ۱۰۵)

اس پیشن گوئی اور اپنے جھوٹے ہونے کے باوجود مرزا لکھتا ہے میں بہت پریشان بیٹھا تھا کہ آسمان سے ایک فرشتہ نازل ہوا جو سر سے پاؤں تک لہو لہان تھا۔ اس نے کہا کہ آج آسمان پر سارے فرشتے میری طرح ماتم کر رہے ہیں کہ آج اسلام کا بہت مذاق اڑایا گیا لیکن اس کے باوجود مرزا نے پوری ڈھٹائی سے لکھا جو ہماری فتح کا قائل نہیں اسے ولدالحرام بننے کا شوق ہے۔ (انوارالاسلام صفحہ۱۱)

Advertisements

Posted on جولائی 17, 2009, in مذہب, ختمِ نبوت and tagged , , , , , , , , . Bookmark the permalink. 43 تبصرے.

  1. شکریہ جناب بہت مفید اور معلوماتی مراسلہ ہے ،
    بہت بہت شکریہ
    والسلام

  2. انگریزوں کا پروردہ مسخرہ تھا جی یہ۔۔۔
    اب اس کے پیروکار یہودیوں کے در پر پڑے ہیں۔۔
    معلوماتی تحریر ہے اس بے شرم مسخرے کے بارے میں

  3. ڈھیٹ اور بے شرم بھی ہوتے ہیں دنیا میں مگر
    سب پر سبقت لے گئی ہے بے حیائی آپ کی
    پنجہ آتھم سے ہے مشکل رہائی آپ کی
    توڑ ڈالے گا آتھم نازک کلائی آپ کی

  4. پہلی دفعہ کچھ پڑھا ہے اس کے بارے میں
    ورنہ مجھے تو ان لوگوں سے سخت نفرت ہے

  5. پاکستان میں بہت سی سی دوسری اقلیتیں بھی آباد ہیں ۔ جہاں جہاں پاکستان میں بسنے والی مسلمان اکثریت کو پاکستانی حکومت یا ریاستی اہلکاروں سے شکایات ہیں ۔وہیں ان اقلیتوں کو بھی ریاستی یا حکومتی اداروں سے کچھ شکایات ہوتی ہونگی۔ محرومی نہ صرف اقلیتوں کے حصے میں آئی ہے بلکہ پاکستان میں بسنے والی سوفیصد سے کچھ معمولی سی کم مسلمان اکثریت کے حصے میں بھی متواتر محرومیاں ہی حصے میں آئی ہیں۔ جسکی گواہ ،پاکستان کے باشندوں کی موجودہ ، روز مرہ کی کھٹن زندگی ہے۔ یہاں تک تو اس بات کی سمجھ آتی ہے کہ پاکستان میں بسنے والے سب طبقوں کو حالات اور حکومتی اداروں سے بہت سی شکایات ہیں۔ پاکستان میں بسنے والی دوسری اور بہت سی اقلیتیں جن میں ھندؤ اقلیت بھی شامل ہے ۔وہ بھارت کے مقابلے میں اکثر وبیشتر پاکستان کو ترجیج دیتی ہے۔ جبکہ ان کو بھی پاکستان کے باقی لوگوں کی طرح پاکستانی انتظامیہ اور اداروں سے شکایات ہیں۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اپنے ملک سے ہی غداری کی جائے۔

    مگر پاکستان میں بسنے والی ۔ پاکستان سے بالیدگی حاصل کرنے والی ۔ خوب نشونما پانے والی ۔ کارٹیل کی طرز پہ منظم قادیانی ، مرازئی ، شاید ہی کوئی موقع جانے دیتے ہونگے ۔جس پہ قادیانی ریاست پاکستان پہ ضرب نہ لگاتے ہوں۔ کہنے کو تو یہ بھی پاکستانی شہری ہیں مگر درحقیقت یہ پاکستان کے مخالف نہیں بلکہ پاکستان کے اور مسلمانوں کے وجود کے دشمن ہیں۔

    پاکستان کے نصرانی اپنے نام کے ساتھ مسیح استعمال کرتے ہیں ۔ مثلا بشیر مسیح ، رفاقت مسیح تانکہ کوئی دھوکہ نہ کھائے ، جبکہ کہ پاکستان میں اور دنیا بھر کے مسلمان ممالک میں کافر قرار دئیے گئے یہ لوگ اپنے نام اور عبادات سے اپنے آپ کو مسلمان کہلواتے ہیں اور منافقین کی طرح اندر سے مرزائی اور اوپر سے مسلمان ۔ کبھی آپ پہ یہ ظاہر نہیں کرییں گے کہ یہ مسلمان نہیں بلکہ مرزائی قادیانی وغیرہ ہیں ۔ان سے مسلمانوں اور خاصکر پاکستانی مسلمانوں کو یہیں سے اختلاف شروع ہوتا ہے۔ اور ایک کریلا دوسرا نیم چڑھا کے مصداق یہ پاکستان دشمن لابیوں کے ہاتھ میں کھیلتے ہیں۔ امریکن ، بھارتی، اور خاص کر یہودی ایجنسیز کے لئیے پاکستان کے خلاف متواتر ریشہ دوانیوں میں مصروف رہتے ہیں۔

    آپ کی یہ معلومات بہت سے لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لئیے کافی ہے ۔ اور ایسی درست معلومات کو عام کیا جانا چاہئیے تانکہ مرزا کے پیرؤکاروں کی آنکھوں سے عقیدت کی پٹی کھل سکے۔ اور جنہیں خدا چاہے انھیں ایمان کی روشنی دوبارہ نصیب ہوسکے۔

  6. واقعی زبردست معلومات ہے

  7. اتنی بڑی ذلالت کے باوجود خاریہ پالیسی والے بلکل خارج ہیں اپنی ذمہ داری سے

  8. آتھم کی موت سے متعلق پیشنگوئی

    آتھم کی موت سے متعلق پیشنگوئی
    فہرست مضامین
    Close فہرست بند کریں
    حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کی اس پیشگوئی پر راشد علی وغیرہ کے اعتراض کا مکمل جواب کتاب Three in One میں دیا جا چکا ہے۔اس کے باوجود اس کو پھر پیش کرنا ان کی معقولیّت پر نہیں، اندھی تکذیب میں ہٹ دھرمی پر دلالت کرتا ہے۔اگر تو یہ اس جواب پر علمی طور پر دلائل کے ساتھ بحث کرتے اور یہ ثابت کرتے کہ یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی تو ایسی صورت میں ہم علمی دلائل کے ساتھ اس کا ردّ کرتے۔چونکہ وہ علمی طور پر اس جواب کو ردّ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اس لئے ایک ہی نا معقول رٹ لگا کر تکذیب پر مصرّ ہیں۔

    بہرحال باوجود اس کے کہ اس کا جواب انہیں پہلے دیا جا چکا ہے، یہاں قدرے اختصار سے ہم اس کے بعض پہلو ہدیہ قارئین کرتے ہیں تاکہ ایک حدّ تک حقیقتِ حال کا عمومی خاکہ ان کے سامنے آجائے۔

    پادری عبداللہ آتھم وہ بدبخت شخص ہے جس نے اسلام کو اور بانی اسلام ﷺ کو نعوذ باللہ جھوٹا ثابت کرنے کے لئے حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کے ساتھ مناظرہ کیا تھا، جو ’’ جنگِ مقدّس‘‘ کے نام سے کتابی صورت میں شائع شدہ ہے۔ اس مناظرے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کے ذریعہ اسلام اور بانی اسلام کی حقّانیت کو عقلی ، نقلی ، تاریخی ،واقعاتی اور روحانی دلائل کے ساتھ کما حقّہٗ ثابت فرمایا۔اس طرح اسلام کو ایک کھلا کھلا غلبہ نصیب ہوا۔اسی شکست خوردہ پادری عبداللہ آتھم نے ،جس کی وکالت آج ڈاکٹر راشد علی ،اور اس کے ہمنواوغیرہ کرتے ہیں ، ایک کتاب ’’اندرونہ بائیبل‘‘ بھی لکھی تھی جس میں اس نے ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمّد مصطفی ﷺ کو ( معاذ اللہ) دجّال لکھا تھا۔ اس پر حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام نے اپنے آقا کی غیرت میں تڑپ کر خدا تعالیٰ کے حضور گریہ و زاری کی تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر ایک پیشگوئی کا انکشاف فرمایا۔ آپ اس کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

    ’’ آج رات جو مجھ پر کھلا وہ یہ ہے کہ جبکہ میں نے بہت تضرّع اور ابتہال سے جنابِ الہٰی میں دعا کی کہ تُو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں تیرے فیصلہ کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ سو اس نے یہ نشان بشارت کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلّت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔ اور جو شخص سچ پر ہے اور سچّے خدا کو مانتا ہے اس کی عزّت ظاہر ہو گی۔….‘‘ (جنگِ مقدّس۔ آخری پرچہ۔روحانی خزائن جلد ۶صفحہ۲۹۱،۲۹۲)

    الہامی الفاظ ’’ہاویہ میں گرایا جائے گا‘‘ کا مفہوم اجتہاد کی رو سے حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام نے یہ سمجھا کہ عبداللہ آتھم بسزائے موت ہاویہ( دوزخ) میں گرایا جائے گا۔ چنانچہ اسی پیشگوئی کے آخر میں آپ فرماتے ہیں۔

    ’’ میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیشگوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدا کے نزدیک جھوٹ پرہے وہ آج کی تاریخ سے پندرہ ماہ میں بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔ مجھے ذلیل کیا جائے۔ روسیاہ کیا جائے۔ میرے گلے میں رسّہ ڈال دیا جائے۔ مجھ کو پھانسی دی جائے۔ میں ہر سزا اٹھانے کے لئے تیار ہوں۔‘‘

    یہ پیشگوئی ایسی پر ہیبت تھی کہ پادری عبد اللہ آتھم لرز کر رہ گیا۔یہ اس کی طرف سے رجوع الیٰ الحق کا آغاز تھا۔ اور اس کے بعد، مرتے دم تک اس نے ایک لفظ بھی اسلام یا آنحضرت ﷺ کے خلاف نہ لکھا۔اس نے اس حد تک رجوع الیٰ الحق کیا کہ وہ دلی طور پر عیسائیوں کے عقیدہ ’ الوہیّتِ مسیح ‘ سے بھی متفق نہ رہا۔ چنانچہ اس نے اخبار’’ نور افشاں‘‘ ۲۱ ستمبر ۱۸۹۴ء کی اشاعت میں یہ اعلان بھی شائع کر ایا کہ وہ عیسائیوں کے عقیدہ ابنیّت و الوہیّت کے ساتھ متّفق نہیں۔ اس کے خوف سے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کو بھی اطلاع دی۔ جس کا ذکر آپ ؑ نے اپنی کتاب ’’ انوار الاسلام صفحہ ۲،۳‘‘ پر تحریر فرمایا۔

    پس عبداللہ آتھم نے پیشگوئی کے الہامی الفاظ ’’ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے‘‘ سے فائدہ اٹھایا اسلئے خدا تعالیٰ نے اسے مہلت دی اور وہ پندرہ ماہ کے اندر نہ مرا۔ اس عرصہ میں وہ انتہائی ہمّ و غم میں مبتلا رہا یہانتک کہ اس پر دیوانہ پن کی حالت طاری ہو گئی اور وہ مسلسل اسی اذیّت ناک حالت میں رہا۔ اس کی اس حالت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔

    ’’الہامی پیشگوئی کے رعب نے اس کے دل کو ایک کچلا ہوا دل بنا دیا۔ یہانتک کہ وہ سخت بے تاب ہو ا اور شہر بشہر اور ہر ایک جگہ ہراساں اور ترساں پھرتا رہا اور اس مصنوعی خدا پر اس کا توکّل نہ رہا جس کو خیالات کی کجی اور ضلالت کی تاریکی نے الوہیّت کی جگہ دے رکھی ہے۔ وہ کتّوں سے ڈرا اور سانپوں کا اس کو اندیشہ ہوا اور اندر کے مکانوں سے بھی اس کو خوف آیا اور اس پر خوف اور وہم اور دلی سوزش کا غلبہ ہوا اور پیشگوئی کی پوری ہیبت اس پر طاری ہوئی اور وقوع سے پہلے ہی اس کا اثر اس کو محسوس ہوا اور بغیر اس کے کہ کوئی اس کو امرتسر سے نکالے آپ ہی ہراسان و ترسان و پریشان اور بے تاب ہو کر شہر بشہر بھاگتا پھرا۔ اور خدا نے اس کے دل کارام چھین لیا اور پیشگوئی سے سخت متاثر ہو کر سراسیموں اور خوفزدوں کی طرح جا بجا بھٹکتا پھرا اور الہامِ الہٰی کا رعب اور اثر اس کے دل پر ایسا مستولی ہوا کہ راتیں ہولناک اور دن بیقراری سے بھر گئے۔……. اس کے دل کے تصوّروں نے عظمتِ اسلامی کو ردّ نہ کیا بلکہ قبول کیا۔ اس لئے وہ خدا جو رحیم و کریم اور سزا دینے میں دھیما ہے اور انسان کے دل کے خیالات کو جانچتا اور اس کے تصوّرات کے موافق اس سے عمل کرتا ہے اس نے اس کو اس صورت پر بنایا جس صورت میں فی الفور کامل ہاویہ کی سزا یعنی موت بلا توقف اس پر نازل نہ ہوتی۔ اور ضرور تھا کہ وہ کامل عذاب اس وقت تک تھما رہے جب تک کہ وہ بے باکی اور شوخی سے اپنے ہاتھ سے اپنے لئے ہلاکت کے اسباب پیدا نہ کرے اور الہامِ الہٰی نے بھی اسی طرف اشارہ کیا تھا کیونکہ الہامی عبارت میں شرطی طور پر عذابِ موت کے آنے کا وعدہ تھا ۔نہ مطلق بلاشرط وعدہ۔‘‘ ( انوار الاسلام ۔روحانی خزائن جلد ۹صفحہ ۴، ۵)

    نیز تحریر فرمایا

    ’’یہ غیر ممکن ہے کہ خدا اپنے قراردادہ وعدہ کو بھول جائے کیونکہ شرائط کا لحاظ رکھنا صادق کے لئے ضروری ہے اور خدا اصدق الصادقین ہے۔ ہاں جس وقت مسٹر عبداللہ آتھم اس شرط کے نیچے سے اپنے تئیں باہر کرے اور اپنے لئے شوخی اور بے باکی سے ہلاکت کے سامان پیدا کرے تو وہ دن نزدیک آ جائیں گے اور سزائے ہاویہ کامل طور پر نمودار ہوگی اور یہ پیشگوئی عجیب طور پر اپنا اثر دکھائے گی۔‘‘( انوار الاسلام ۔روحانی خزائن جلد ۹صفحہ ۵)

    ان تحریروں سے یہ بات بالکل کھل جاتی ہے کہ عبداللہ آتھم نے پیشگوئی میں مذکور شرط ’’ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے‘‘ سے فائدہ اٹھایا اور ابتدائی طور پر خدا تعالیٰ کے رحم کے نیچے آگیا۔ حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام نے اس کو اس صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے غیر مبہم الفاظ میں تنبیہہ کردی تھی کہ اب اس پیشگوئی کی معیّن اور آخری صورت یہ ہے کہ بے باکی اور شوخی کے ظہور پر یعنی رجوع الیٰ الحق کے ماننے سے انکار کرنے پر یا رجوع الیٰ الحق کی صورت کو کسی تدبیر سے مشتبہ بنانے کی صورت میں اس کی ہلاکت کے دن نزدیک آجائیں گے اور پھر موت کے ذریعہ سزائے ہاویہ کا وہ جلد شکار ہو جائے گا۔ اور پیشگوئی کا اثر غیر معمولی رنگ میں ظاہر ہو گا۔گویا اب یہ پیشگوئی پادری ڈپٹی عبداللہ آتھم کی بے باکی اور شوخی سے معلّق ہو گئی۔

    ادھر حالات یہ پیدا ہوئے کہ جب عبداللہ آتھم رجوع الیٰ الحق کی شرط سے فائدہ اٹھا کر پندرہ ماہ کے اندر مرنے سے بچ گیا تو عیسائیوں نے اپنی جھوٹی فتح کا نقارہ بجایا، جلوس نکالے اور خوب شور وشرّ اور ہنگامہ آرائی کی اور مسیحِ موعود علیہ السلام کی شان میں گستاخانہ رویّہ اختیار کیا اور بعض سادہ لوح مسلمان بھی اور آپ ؑ سے بغض رکھنے والے راشد علی جیسے لوگ بھی ان کے ہمنوا بن گئے۔ ان حالات میں خدا تعالیٰ سے الہام پا کر حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام نے عبداللہ آتھم کو مباہلہ کا چیلنج دیا اور اس کے ساتھ ایک ہزار روپیہ کا انعام بھی رکھا۔اس دعوتِ مباہلہ میں آپ ؑ نے اسے یہ بھی لکھا کہ اگر وہ

    ’’…… تین مرتبہ ان الفاظ کا اقرار کریں کہ اس پیشگوئی کے عرصہ میں اسلامی رعب ایک طرفۃ العین کے لئے بھی میرے دل پر نہیں آیا اور میں اسلام اور نبی اسلام ؐکو نا حق سمجھتا رہا اور سمجھتاہوں اور صداقت کا خیال تک نہیں آیا اور حضرت عیسٰی ؑ کی ابنیّت اور الوہیّت پر یقین رکھتا رہا اور رکھتاہوں اور ایسا ہی یقین جو فرقہ پروٹسٹنٹ عیسائی رکھتے ہیں اور اگر میں نے خلافِ واقعہ کہا ہے اور حقیقت کو چھپایا ہے تو اے قادر! مجھ پر ایک برس میں عذابِ موت نازل کر۔ اس دعا پر ہم آمین کہیں گے

    اور اگر دعا کا ایک سال تک اثر نہ ہوا اور وہ عذاب نازل نہ ہوا جو جھوٹوں پر نازل ہوتا ہے تو ہم ہزار روپیہ مسٹر عبداللہ آتھم صاحب کو بطور تاوان دیں گے۔‘‘ (انوارالاسلام ۔صفحہ ۶)

    یہ ایک فیصلہ کن اور جامع پیشکش تھی جس سے نہ فرار کی کوئی راہ اس کے لئے باقی رہتی تھی اور نہ حق کو چھپانے کا کوئی حیلہ۔ اس پیشکش کے آخر میں آپؑ نے یہ بھی فرمایا

    ’’پس یقیناً سمجھو کہ اسلام کو فتح حاصل ہوئی اور خدا تعالیٰ کا ہاتھ بالا ہوا اور کلمہ اسلام اونچا ہوا اور عیسائیت نیچے گری۔‘‘

    پادری عبداللہ آتھم نے اس سے گریز کی راہ اختیار کی تو آپ نے اسے دو ہزار روپیہ کا چیلنج دیا۔ اس کو بھی قبول کرنے کی ا س میں جرات نہ ہوئی لیکن اس کے ساتھ ہی وہ اپنے رجوع الیٰ اللہ کو ظاہر کرنے کی بھی ہمّت نہ کر سکا۔ اس پر حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام نے اس کو تیسرا چیلنج دیا جوتین ہزار روپیہ کا تھا۔اس میں آپ نے اس پر حجّت تمام کرنے کے لئے اسے مؤکّد بعذاب قسم کھانے کی بھی تحریض کی۔

    پادری عبداللہ آتھم نے اس چیلنج پر اپنے دو عذر پیش کئے۔ اوّل یہ کہ قسم کھانا ان کے مذہب میں ممنوع ہے۔ دوم یہ کہ پیشگوئی کے زمانہ میں وہ ڈرے تو ضرور ہیں مگر پیشگوئی کے اثر سے نہیں بلکہ اس لئے کہ کہیں ان کو قتل نہ کر دیا جائے۔

    حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام نے اس کے دونوں عذرات اپنے ایک اور اشتہار میں جس میں چار ہزار انعام دینے کا وعدہ تھا ، توڑ دئیے۔ پادری عبداللہ آتھم اس کا کوئی جواب نہ دے سکا۔ اس اشتہار میں حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام نے اس سلسلہ میں اپنا آخری الہام درج فرمایا کہ

    ’’خدا تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ میں بس نہیں کروں گا جب تک قوی ہاتھ نہ دکھلادوں اور شکست خوردہ گروہ کی سب پر ذلّت ظاہر نہ کر دوں۔‘‘

    آپ نے اس الہام کی تشریح کرتے ہوئے یہ حتمی نوٹ لکھاکہ

    ’’اب اگرآتھم صاحب قسم کھا لیویں تو وعدہ ایک سال قطعی اور یقینی ہے جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہیں اور تقدیر مبرم ہے۔ اور اگر قسم نہ کھاویں تو پھر بھی خدا تعالیٰ ایسے مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑے گا۔ جس نے حق کا اخفاء کرکے دنیا کو دھوکا دینا چاہا۔…..‘‘(اشتہار انعامی چار ہزار روپیہ۔مندرجہ انوار الاسلام )

    اس اشتہار انعامی چار ہزار روپیہ کے بعد عبداللہ آتھم قسم کھانے پر آمادہ نہ ہوا بلکہ اس کاقسم سے انکار کمال کو پہنچ گیا۔ اس کے بعد حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام نے یکے بعد دیگرے تین اشتہار اور بھی دئیے جن میں سے آخری اشتہار ۳۰ دسمبر ۱۸۹۵ ء کو دیا گیا۔ اس میں آپ ؑ نے آخری اور فیصلہ کن الفاظ تحریر فرمائے کہ

    ’’اگر پادری صاحبان ملامت کرتے کرتے ان ( آتھم) کو ذبح بھی کر ڈالیں، تب بھی وہ میرے مقابل پر قسم کھانے کے لئے ہرگز نہیں آئیں گے کیونکہ وہ دل میں جانتے ہیں کہ پیشگوئی پوری ہو گئی۔ میری سچائی کے لئے یہ نمایاں دلیل کافی ہے کہ آتھم صاحب میرے مقابل پر میرے مواجہہ میں ہرگز قسم نہیں اٹھائیں گے اگرچہ عیسائی لوگ ان کو ٹکڑے ٹکڑے کردیں۔ اگر وہ قسم کھا لیں تو یہ پیشگوئی بلاشبہ دوسرے پہلو پر پوری ہو جائے گی۔ خدا کی باتیں ٹل نہیں سکتیں۔‘‘(اشتہار۔۳۰ دسمبر ۱۸۹۵ء۔ مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحہ۲۰۴)

    حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام نے آتھم کو قسم کھانے کے علاوہ نالش کرنے کی بھی ترغیب دی تھی، لیکن آ تھم نے نہ قسم کھائی اور نہ نالش کی اور اس طریق سے بتادیا کہ ضرور اس نے رجوع بحق کیا تھا اور چونکہ اس نے علانیہ طور پر زبان سے اس رجوع کا اظہار نہیں کیا اس لئے خدا نے مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑا۔ اور اخفائے حق کی سزا میں آخری اشتہار سے جو ۳۰ دسمبر کو شائع ہوا، سات ماہ کے اندر گرفتِ الہٰی میں آ گیا اور ۲۶ جولائی ۱۸۹۶ ء کو حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کے ذریعہ اسلام کی سچائی اور عیسائیّت کی شکست کو ظاہر کر گیا۔

    یہ پیشگوئی چونکہ رجوع الیٰ الحق کی شرط کے ساتھ مشروط تھی اس لئے اس نے جس حدّ تک اس شرط سے فائدہ اٹھایا، اس حدّ تک اسے بصورتِ موت ہاویہ میں گرنے سے مہلت مل گئی گو جب تک وہ زندہ رہا عملاًایک دوزخ میں ہی رہا۔ لیکن حق کو چھپانے کی وجہ سے بالآخر وہ خدا تعالیٰ کی گرفت سے بچ نہ سکا اور پیشگوئی کی صداقت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہوا بسزائے موت ہاویہ میں گرایا گیاِ ۔

    آخر میں ہم راشد علی کی توجّہ اس بحث کی طرف مبذول کرا دیتے ہیں جو ’’گستاخانِ رسولؐ پر لعنت اور راشد علی کی غیرت‘‘ کے باب میں جواب نمبر۴ میں ’’مولوی جھوٹے ہیں‘‘ کے عنوان کے تحت مذکور ہے۔

    اس جگہ اس کے پیش رو مولویوں نے بھی آتھم کی پیشگوئی کی بابت قسم نہ کھا کر اس کی صداقت پر مہرِ تصدیق ثبت کی تھی جو راشد علی کے جھوٹا ہونے کا کھلا کھلاثبوت ہے۔

    • لطف الاسلام صاحب، آپ کا موقف میں نے بغیر کسی تدوین کے من و عن یہاں شائع کر دیا ہے تا کہ آپ کے دل میں کسک نہ رہے کہ ہماری بات کوئی نہیں سنتا۔
      اور لنک فراہم کرنے کیلیے بھی شکریہ۔

      میں آپ کی تحریر پر تبصرہ نہیں کروں گا، ہمارے مسلمان بھائی کافی باشعور ہیں، وہ دونوں تحریروں کا موازنہ کر کے سچے اور جھوٹے کا اندازہ بخوبی لگا سکتے ہیں۔

      • سعد صاحبٴ اس دلیری کا شکر یہٴ بہت کم لوگوں میں یہ ظرف ہو تا ہے کہ جماعت کے موقف کو شائع کرنے میں تامل سے کام نہیں لیتے۔

        باقی یہ کوڑھی اور اندھے اشخاص والا واقعہ ہوا تو ضرور تھا لیکن اس طرح نہیں۔ اس معاملہ میں لکھنے والے نے لمال بد دیانتی کا ثبوت دیا ہے۔ مرزا صاحب کی کتاب جنگ مقدس میں صیحیح واقعہ محفوظ ہے وہ بھی پڑھ لیں۔

  9. تمام ختم نبوت ہی یقین رکھنے والے اردو اور انگلش بلاگرز سے میری ایک دردمندانہ اپیل ہے ۔ کہ ناموسِ رسالت نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لئیے کوئی ایک ایسا بلاگ یا سائٹ بنائی جائے جہاں پہ قادیانی و احمدی فرقے کا طریقہ واردات ان کی دھوکے بازیاں ۔مکاریاں۔ اور مسلمانوں میں منافقانہ طریقے سے گھل مل کر انھیں انکی سادگی کی وجہ سے گمراہ کرنے کی سازشیں بے نقاب کی جاسکیں اور انکے طریقہ واردات اور اسکے سد باب کا طریقہ کار وضع کیا جاسکے۔

    یا پھر ختم نبوت ہی یقین رکھنے والے اردو اور انگلش بلاگرز حضرات اپنے اپنے بلاگ پہ ایک باقاعدہ سکیشن یا موضوع کے طور پہ پیج بنائیں جو ہمہ وقت بلاگ کے پہلے پیج سے کھول کر دیکھا جاسکے ۔ جس پیج پہ قادیانیوں کی مکاریاں ،طریقہ واردات اور مکروہ سازشیں کھل کر بیان کی گئی ہوں اور احمدیوں کا سد باب بیان کیا گیا ہو ۔

    ہمیں مسلمان ہونے کے ناطے اور نامو س رسالت نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لئیے اور خود پاکستان کو احمدیوں کی مکروہ سازشوں سے بچانے کے لئیے یہ ضرور کرنا چاہئیے۔ یہ ہمارے قلم اور علم کا صدقہ ہوگا ۔اور یہ ہم پہ فرض بنتا ہے۔

    اس سے جہاں کئی ایک فائدے ہونگے وہیں دوایک فائدے یہ ہیں کہ اب ، اردو انگلش میں لکھے گئے بلاگز اور مواد کی روزانہ کے حساب سے مانگ بڑھ رہی ہے اور مسلمان خاصکر پاکستانی اب پہلے سے زیادہ ایسی سائٹ کا وزٹ کرتے ہیں اور وہ قادیانیوں کی گمراہ کن پروپگنڈے سے محفوظ ہوسکیں گے۔

    دوسرا بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ جو بلاگز یا سائٹس احمدیوں کی سازشوں کا لنک نہیں لگائیں گے یا تو وہ بلاگز وغیرہ احمدیوں کے ہونگے یا پھر مشکوک قرار دیتے ہوئے لوگ انکا مواد نہائت احتیاط سے پڑھیں گے۔

    تیسرا بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ قسم قسم کی سائٹس بناکر اپنا ملعون پروپگنڈا ہ کرنے والے احمدیوں قادیانیوں کا حوصلہ پست ہوگا اور وہ اپنی لن ترانیاں بیان کرنے سے باز آئیں گے۔

    باطل اس وقت تک چھایا رہتا ہے جب تک کوئی ننھی سی روشنی نہ کر دے ۔ ایک چراغ کی روشنی باطل کا اندہیر غائب کر دیتی ہے۔ جب اتنے چراغ جلیں گے تو احمدیوں کے جھوٹ کا پردہ چاک ہوجائے گا۔

    آئیں اسکا آغاز کریں اور ان تجاویز کو ہر جگہ پہنچائیں۔
    ورنہ ہم دنیا میں بھی اور یوم قیامت نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بھی شرمندہ ہونگے۔

    اللہ مسلمانوں کا حامی و ناصر ہو اور جھوٹوں پہ خدا کی لعنت ہو۔

    • اس فرض کو پورا کرنے کیلیے کئی بلاگ اور سائیٹیں موجود ہیں مگر میں سمجھتا ہوں کہ اس سلسلے کو مزید پھیلانا چاہیے۔
      جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا ہے ایسے فتنے نئے نئے دلائل کے ساتھ اپنے احیا کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا رد کرنا اور ان کے جھوٹے پراپیگنڈہ کا توڑ کرنا ہم سب پر فرض ہے۔
      میری اس سلسلے میں سب بلاگرز سے گزارش ہے کہ وہ اس بارے میں آپ کی تجویز پر غور کریں شاید روزِ قیامت یہی بات ہماری شفاعت کا سبب بن جائے۔

      جاوید بھائی میں نے آپ کی تحریریں اکثر بلاگز پر پڑھیں ہیں، آپ کی باتیں بہت جاندار ہوتی ہیں۔ آپ خود اپنا بلاگ کیوں نہیں شروع کرتے؟ اگر آپ کا بلاگ موجود ہے تو براہِ کرم مجھے اس کا لنک فراہم کریں۔

  10. لطف اسلام کی اتنی لمبی چوڑی صفائی سے یہ بالکل ثابت نہیں ہوا کہ ہاتھم پادری پندرہ ماہ کے اندر مر گیا یا اس نے اسلام قبول کر لیا۔ اس طرح وہ جیت گیا اور چلینج کرنے والا ہار گیا۔

  11. o جاوید بھائی ۔ ۔۔۔۔آپ خود اپنا بلاگ کیوں نہیں شروع کرتے؟
    سعد بھائی ! آپ سے قبل میرا پاکستان کے افضل صاحب سمیت بہت سے بلاگرز حضرات مجھے بلاگ لکھنے کی پُر خلوس تجویز دے چکے ہیں ۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ ماشاءاللہ ۔ آپ سمیت بہت سے بلاگرز احباب انگلش اردو میں یہ کام نہائت عرق ریزی اور خلوصِ نیت سے کر رہے ہیں۔ اسلئیے میں سمجھتا ہوں کہ میرے بلاگ لکھنے یا لکھنے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ میری مصروفیات کچھ اس قسم کی ہیں کہ جس میں میں وقتی طور پہ بلاگ کو وہ وقت نہیں دے پاؤنگا جس کا تقاضہ بلاگنگ کرتی ہے۔

  12. شکریہ جاوید بھائی۔ میری اس کے باوجود یہی درخواست ہے کہ کبھی آپ کو وقت ملا تو یہ کام آپ ضرور شروع کریں۔

  13. You made some good points there. I did a search on the topic and found most people will agree with your blog.

  14. عبداللہ آتھم ایک مرتد عیسائی کے ساتھ مرزا قادیانی کا مناظرہ ہوا۔ مرزا کا دعویٰ تھا کہ میں مثیلِ مسیح ہوں۔ عیسائیوں نے میدانِ مناظرہ میں ایک مردہ لا کر رکھ دیا، ایک کوڑھی اور ایک اندھا لے آئے اور مرزا سے مطالبہ کیا کہ قرآن پاک میں عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہے کہ وہ مردوں کو زندہ، اندھوں کو بینا اور کوڑھیوں کو تندرست کر دیتے تھے۔ اگر تو سچا مسیح ہے تو اپنی مسیحائی دکھا کہ یہ مردہ زندہ ہو جائے، اندھا بینا ہو جائے اور کوڑھی تندرست ہو جائے۔
    مرزا نے کہا کہ میں آج رات استخارہ کروں گا اگر اللہ کی طرف سے مجھے ایسا کرنے کی اجازت مل گئی تو میں ایسا کروں گا ورنہ نہیں۔ عیسائیوں نے کہا عیسیٰ علیہ السلام نے کبھی ان کاموں کیلیے استخارہ نہیں کیاتھا تُو جھوٹا ہے حیلے بہانے کرتا ہے۔ بہرحال عیسائیوں نے ایک رات کی مہلت دے دی کہ آپ اللہ تعالیٰ سے صلاح مشورہ کر کے یہ کام کر دکھائیں۔
    آپ سچا مسلمان ہونے کا دعوی کرتے ہیں اور لازمی بات ہے جو شخص دوسروں کو اسلام کی طرف بلا رہا ہو اور اور کی غلطیوں کی قلعی کھول رہا ہو تو اس کے لیے تو لازمی ہے کہ ایک سچا مسلمان ہونے کے ناطہ ہر بات کو پوری دیانتداری اور ایمانداری سے پیش کرے گے۔اور اگر وہ شخص جھوٹا ہے تو پھر کبھی بھی وہ یہ حق نہیں رکھتا کہ وہ دوسر ں کو سچائی کے طرف بلائے ۔
    ۱۔ پہلی بات جو بات آپ نے لکھی ہے وہ سرے سے غلط ہے۔ مرزا صاحب نے کہیں بھی یہ نہیں کہا ‘‘کہ میں آج رات استخارہ کروں گا اگر اللہ کی طرف سے مجھے ایسا کرنے کی اجازت مل گئی تو میں ایسا کروں گا ورنہ نہیں۔ عیسائیوں نے کہا عیسیٰ علیہ السلام نے کبھی ان کاموں کیلیے استخارہ نہیں کیاتھا تُو جھوٹا ہے حیلے بہانے کرتا ہے۔ بہرحال عیسائیوں نے ایک رات کی مہلت دے دی کہ آپ اللہ تعالیٰ سے صلاح مشورہ کر کے یہ کام کر دکھائیں۔ ’’
    اب یہ ثبوت آپ کے ذمہ ہے کہ آپ نے بتانا ہے کہ کب مرزا صاحب کہ کہا تھا۔اور اگر ایسا تھا توپھر تو مرزا صاحب کو واقعتا بہت بڑی شکست ہوئی تھی اور پادریوں کو بہت بڑی فتح !!!!!!!!!!!!
    لیکن تاریخ کو مسخ نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی جھوٹ بول کو سچائی کو دبایا جا سکتا ہے۔ میں حیرا ن ہو کہ اس پورے مناظرے کی روداد جنگ مقد س کی صورت میں چھیپی ہوئی موجود ہے اورہماری ویب http://alislam.org/urdu/rk/rk-6-17.pdf پر موجود ہے اور ہر شخص وہان جا کر اس کتاب کا مطالعہ کر سکتاہے تا معلوم ہو کہ یہ صاحب کتنے سچے ہیں۔ اس مناظرے میں عیسائیوں کو غیر معمولی طور شکست فاش ہوئی تھی اور اسلام کی حقانیت اس دن روز روشن کی طرح دنیا پر ظاہر ہو گئی تھی وہ دن اسلام کی فتح کا دن تھا افسو س جسے ہمارے بھائی آج اسلام کی شکست قرار دے ارہے ہیں۔
    اگر آپ عیسائیوں کے اتنے ہمدرد ہیں کہ آپ کے لیے ان کی شکست ناقابل برداشت ہے تو پھر آپ کو آپ کا یہ وطیرہ مبارک ہو۔اور آپ عیسائیوں کی حمایت کرتے رہیں۔اب میں اصل کتاب سے حوالہ پیش کرتا ہوں تا آپ کو معلوم ہو کہ اصل واقعہ کیا تھا حضرت مرزا صاحب فرماتے ہیں ۔ صفہ ۱۵۳ تا ۱۵۶ کتاب جنگ مقدس
    مگر آپ کے مذہب میں حضرت عیسی نے جو نشانیاں نجات یا بندوں یعنی حقیقی ایمانداروں کی لکھی ہیں وہ آپ میں کہا ں موجود ہیں- مثلا جیسے کہ مرقس ۱۷-۱۶ میں لکھا ہے اور وے جو ایمان لائیں گے ان کے ساتھ یہ علامتیں ہونگی کہ وہ میرے نام سے دیووں کونکالینگے اور نئی زبانیں بولیںگے – سانپوں کو اٹھالینگے اور اگر کوئی ہلاک کرنے والی چیز پیئیں گے انہیں کچھ نقصان نہ ہوگا – وے بیماروں پر ہاتھ رکھینگے تو چنگے ہو جائینگے۔ تو اب میں بادب التماس کرتا ہوں اور اگر ان الفاظ میں کچھ درشتی یا مرارت ہو تو اسکی معافی چاہتا ہوں کہ یہ تین بیمار جو آپ نے پیش کئے ہیں یہ علامت تو بالخصوصیت مسیحیوں کیلئے حضرت عیسی قرار دے چکے ہیں اور فرماتےہیں کہ اگر تم سچے ایماندار ہو تو تمہاری یہی علامت ہے کہ بیمار پر ہاتھ رکھو گے تو وہ چنگا ہوجائیگا- اب گستاخی معاف اگر آپ سچے ایماندار ہونے کا دعوی کرتے ہیں تو اسوقت تین بیمار آپ ہی کے پیش کردہ موجود ہیں آپ ان پر ہاتھ رکھدیں اگر وہ چنگے ہو گئے تو ہم قبول کر لیں گے کہ بیشک آپ سچے ایماندار اور نجات یافتہ ہیں ورنہ کوئی قبول کرنے کی راہ نہیں۔ کیونکہ حضرت مسیح تو یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر تم میں رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہوتا تو اگر تم پہاڑ کو کہتے کہ یہاں سے چلا جا تو وہ چلا جاتا۔ مگر خیر میں اس وقت پہاڑ کی نقل مکانی تو آپ سے نہیں چاہتا کیوںکہ وہ ہماری اس جگہ سے دور ہیں لیکن یہ تو بہت اچھی تقریب ہو گئی کہ بیمار تو آپ نے ہی پیش کر دیئے ۔ اب آپ ان پر ہاتھ رکھو ار چنگا کر کے دکھلاو -ورنہ ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہاتھ سے جاتا رہیگا۔ مگر آپ پر یہ واضح رہے کہ یہ الزام ہم پر عائید نہیں ہوسکتا کیونکہ اللہ جل شانہ نے قرآن کریم میں ہماری یہ نشانی نہیں رکھی کہ بالخصوصیت تمہاری یہی نشانی ہے کہ جب تم بیماروں پر ہاتھ رکھو گے تو اچھے ہو جائیں گے۔ ہاں یہ فرمایا ہے کہ میں اپنی رضا اور مرضی کے موافق تمہاری دعائیں قبول کرونگا اور کم سے کم یہ کہ اگر ایک دعا قبول کرنے کے لائق نہ ہو اور مصلحت الہی کے مخالف ہو تو اس میں اطلاع دی جائےگی۔ یہ کہیں نہیں فرمایا کہ تم کو یہ اقتدار دیا جائیگا کہ تم اقتدا ری طور پر جو چاہو گے وہی کر گذرو گے۔ مگر حضرت مسیح کا تو یہ حکم معلوم ہوتو ہے کہ وہ بیماروں وغیرہ کے چنگا کرنے میں اپنے تابعین کو اختیار بخشتے ہیں جیشا کی متی ۱۰ باب ۱ میں لکھا ہے۔ پھر اس نے بارہ شاگردوں کو پاس بلا کر انہیں قدرت بخشی کہ ناپاک روحوں کو نکالیں اور ہر طرح کی بیماری اور دکھ درد کو دور کریں۔ اب یہ آپکا فرض اور آپکی ایمانداری کا ضرور نشان ہوگیا کہ آپ بیماروں کو چنگا کر کے دکھلا دیں یا یہ اقرار کریں کہ ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی ہم میں ایمان نہیں اور آپکو یاد رہے کہ ہر ایک شخص اپنی کتاب کے موافق مو اخذہ کیا جاتا ہے۔ یمارے قرآن کریم میں کہیں نہیں لکھا کہ تمہیں اقتدار دیا جائیگا بلکہ صاف فر ما دیا کہ قل انما الا یا ت عنداللہ یعنی انکو کہدو کہ نشان اللہ تعالے کے پاس ہیں جس نشان کو چاہتا ہے اسی نشان کو ظاہر کرتا ہے بندہ کا اسپر زور نہیں ہے کہ جبر کے ساتھ اس سے ایک نشان لیوے یہ جبر اور اقتدار تو آپ کی ہی کتابوں میں پایا جاتا ہے۔ بقول آپ کے مسیح اقتداری معجزات دکھلاتا تھا اور اس نے شاگردوں کو بھی اقتدار بخشا۔ اور آپکا یہ عقیدہ ہے کہ اب بھی حضرت مسیح زندہ حی قیوم قادر مطلق عالم الغیب دن رات آپ کے ساتھ ہے۔ جو چاہو وہی دے سکتاہے۔ پس آپ حضرت مسیح سے درخواست کریں کہ ان تینوں بیماروں کو آپ کے ہاتھ رکھنے سے اچھا کر دیوِیں تا نشانی ایمانداری کی آپ میں باقی رہ جاوے ورنہ یہ تو مناسب نہیں کہ ایک طرف اہل حق کے ساتھ بحیثیت سچے عیسائی ہونیکے مباحثہ کریں اور جب سچے عیسائی کے نشان مانگے جائیں تب کہیں کہ ہم میں استطاعت نہیں۔ اس بیان سے تو آپ اپنے پر ایک اقبالی ڈگری کراتے ہیں کہ آپکا مذہب اسوقت زندہ مذہب ہے لیکن ہم جس طرح پر خدا تعالی نے ہمارے سچے ایماندار ہونے کے نشان ٹھہرائے ہیں اس التزام سے نشان دکھلانے کو تیار ہیں اگر نشان نہ دکھلا سکیں تو جو سزا چاہیں دیدیں اور جس طرح کی چھری چاہیں ہمارے گلے میں پھیر دیں اور وہ طریق نشان نمائی کا جسکے لئے ہم مامور ہیں وہ یہ ہے کہ ہم خدا تعالی سے جو ہمارا سچا اور قادر خدا ہے اس مقابلہ کے وقت جو ایک سچے اور کامل نبی کا انکار کیا جاتا ہے تضرع سے کوئی نشان مانگیں تو وہ اپنی مرضی سے نہ ہمارا محکوم اور تابع ہو کر جس طرح سے چاہیگا نشان دکھلا ئیگا۔

    اس مباحثہ کے نتائج
    ایام مباحثہ میں ہی میں نبی بخش سوداگر امرتسر اورحضرت قاضی امیر حسین بیعت کرکے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوگے۔ رسالہ نور صفحہ 30
    اسی طرح کرنل الطاف علی خان صاحب رئیس کپور تھلہ جو عیسائیت اختیار کر چکے تھے۔اور بوقت مناحثہ عیسائیوں کی طر ف بیٹھے تھے اسلام لے آئے ۔پس اس عظیم الشان مباحثہ میں نامور پادریوں کی شکست اور حضرت موعودؑ نے جس رنگ میں اسلام کو زندہ مذہب اور آنجضرت کو زندہ نبی اور قرآن مجید کو زندہ کتاب کے طور پیش کیا ۔وہ ایسے امور نہ تھے جن سے عیسائی دنیا متاثر نہ ہوتی ۔چانچہ انگلستان جس کی کئ مشنری سو سائیٹیاں پنجاب اور ہندوستان میں کام کررہی تھی متاثر نہ ہوتی۔چانچہ 1894 میں دنیا بھر کے پادریوں کی عظیم الشان کانفرس لنڈں میں منعقد ہوئی اس کے ایک اجلاس کی صدارات کرتے ہوئے لارڈ بشب آف گلو سڑریورنڈ چارلس جان ایلی کوٹ نے کہا۔
    ‘‘اسلام میں ایک نئی حرکت کے اثار نمایاں ہیں۔مجھےان لوگوں نے جو صاحب تجربہ ہیں بتایا کہ ہندوستان کی برطانوی مملکت میں ایک نئی طرز کا اسلام ہمارے سامنے آرہا ہے اور اس جزیرے مین بھی کہیں کہیں اس کے آثار نظر آرہے ہیں۔۔۔۔یہ ان بدعات کا سخت مخالف ہے جن کی بناء پر محمد(ﷺ)کو پھر وہی پہلی سی عظمت حاصل ہوتی جا رہی ہے۔یہ نئے تغیرات بہ آسانی شناخت کئے جا سکتے ہیں۔پھر یہ نیا اسلام اپنی نوعیت میں مدافعانہ ہی نہین بلکہ جارحانہ حیثیت کا بھی حامل ہے۔افسو س تو اس بات کا ہے کہ ہم سے بعض ذہیں اس کی طر ف مائل ہو رہے ہیں۔
    دی افیشل رپورٹ آف دی مشنری کانفرس آف انگلیکن کمیونیں1894 صفحہ 64
    اس دور کے لوگوں کو یہ باتیں مخالفت کی وجہ سے نظر نہیں آتیں اور بڑی بے باکی اور بے شرمی سے جھوٹ کو بھی ہماری طر ف منسوب کرتے ہوئے نہیں شرماتے۔لیکں اس دور کےعلماء مرزا صاحب کے متعلق کیا رائے رکھتے تھے۔
    مدیر سیاست مولانا سید حبیب صاحبٍ
    اس وقت کہ آریہ اور مسیحی مبلغ اسلام پر بے پناہ حملے کررہے تھے اکے دکے جو عالم دین بھی کہیں موجود تھے وہ ناموس شریعت حقہ کے تحفظ میں مصروف ہوگئے مگر کوئی زیادہ کامیاب نہ ہوا اس وقت مرزا غلام احمد صاحب میدان میں اترے اور انہوں نے مسیحی پادریوں اور آریہ اپدیشکوں کے مقابلہ میں اسلام کی طرف سے سینہ سپر ہونے کا تہیہ کرلیا ۔۔۔ مجھے یہ کہنے میں ذرا باک نہیں کہ مرزا صاحب نے اس فرض کو نہایت خوبی و خوش اسلوبی سے ادا کیا اور مخالفین اسلام کے دانت کھٹے کردےئے۔ (تحریک قادیان ، صفحہ 208)
    ایڈیٹر کرزن گزٹ دہلی ، مرزا حیرت دہلوی صاحب
    مرحوم کی وہ اعلیٰ خدمات جو اس نے آریوں اور عیسائیوں کے مقابلہ میں اسلام کی کی ہیں وہ واقعی بہت تعریف کی مستحق ہیں ۔ اس نے مناظرہ کا بالکل رنگ ہی بدل دیا اور ایک جدید لٹریچر کی بنیاد ہندوستان میں قائم کردی ۔ بحیثیت ایک مسلمان ہونے کہ بلکہ ایک محقق ہونے کے ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ کسی بڑے سے بڑے آریہ اور پادری کو یہ مجال نہ تھی کہ وہ مرحوم کے مقابلہ میں زبان کھول سکتا ۔ (سلسلہ احمدیہ ، صفحہ 189)

  15. سعد صاحب آپ نے نے بہت اچھا بلاگ لکھا ہے اور خاص طور پر احمدیوں کے تبصروں کو شائع کرکے آپ نے اتمام حجت کردی ہے۔ ان بھائیوں (انسانی اعتبار سے) سے گزارس ہے کہ ان قیاس العقل تاویلات اور تشریحات کے چکروں میں الجھ کر وہ دنیا میں اپنا تماشہ تو بنا ہی رہے ہیں آخرت میں بھی بھرکس انکا انتظار کررہی ہے۔
    خدا کے لئے محمد رسول اللہ و علیہ وسلم کی محبت میں کسی کو شریک نہ کریں، خدا کے لئے اپنے عقائد پر کئی بار اور سوچیں۔ توبہ کے دروازے آج بھی کھلے ہیں۔
    رہی بات دلائیل کی تو بھائیوں (انسانی اعتبار سے) ہمیں آپ کی کوئی بھی دلیل محمد صلی اللہ و علیہ وسلم کی محبت میں کسی کو شریک کرنے پر مجبور نہیں کرسکتی، کوئی دلیل بھی نہیں ۔۔۔۔۔

    • شکریہ کاشف صاحب۔ اللہ ان کو ہدایت نصیب کرے آمین

      • محمد رسول اللہ سے محبت کا دعوی اپنی جگہ تو بہت اچھا ہے۔ اور کہنے کو آپ کچھ بھی کہ سکتے ہیں۔درخت ہمیشہ اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ اور جتنا ظلم پاکستان میں اسلام اور محمد رسول کے نام پر کیا جاتاہے اور جتنا اسلام اور پاکستان کو دنیامیں برباد کیا جارہا ہے۔ ان تما م چیزوں کا کوئی بھی تعلق حضرت محمد صلی اللہ سے نہیں ہے۔ جو آواز آپ کی طوف سے لگائی گئی ہے یہ آواز پہلی دفعہ نہیں سنی جا رہی ۔یہی آواز تھی ابو جہل کی حضرت محمد رسول اللہ کے بارے میں یہ عقل کے خلاف اپنے ماں باپ کے عقائد کے خلاف باتیں کر رہا ہے ۔ یہ بے دین ہو گیا۔ اس نے سازش کی ہے ۔ یہ حکومت حاصل کرنا چاہتا ہے۔ وغیرہ ۔اور ہمیں ہر گز تعجب نہیں کہ یہ آوازیں آج پھر حق کے دشمنوں کی طر ف سے اٹھائی جارہی ہیں۔ پس خود ہی دیکھ لو کس نے ازان دی تھی اور روکنے والا کون تھا کون نماز پڑھنا چاہتا تھا اور کون روکنے والا تھا۔ کون حج کرنا چاہتا تھا اور کون تھا جو حج سے روکنے والا تھا۔ پس آج خود ہی دیکھ لو کہ کون یہ کام کرنا چاہتا ہے اور کون ان کو روک رہا ہے۔اور پھر کس پر انعام الہی کی بارش ہو رہی ہے۔ اور وہ جن کا دعوی تھا کہ ہم نافذ کرین گے۔ ہم ان کو زندہ رہنے کا حق بھی نہیں دے گے ان کے ساتھ اللہ تعالی نے جو سلوک کیاہے وہ سب کے سامنے ہے۔ پس موقعہ کے ہے کہ شرارتوں سے باز آجاؤ ورنہ اس کی لاٹھی بے آواز تو ہے لیکن وہ ہمیشہ کے لیے رکی نہیں رہتی۔اب جس طرح پہلے خدا سچوں اور جھوٹوں میں فیصلہ کیاتھا وہ اب بھی کرے گا۔ پس تھوڑا سے انتظار کریں۔

      • تمھارے مولوی تو سمجھتے بھی ہيں اور اسکا اعتراف بھی کرتے ہيں؛

        اب تو کوئی شک نہيں ہونا چاہيئے سوائے انکے جنہوں نے نہ ماننے کا عہد کيا ہوا ہے-

      • تمھارے مولوی تو سمجھتے بھی ہيں اور اسکا اعتراف بھی کرتے ہيں؛

        اب تو کوئی شک نہيں ہونا چاہيئے سوائے انکے جنہوں نے نہ ماننے کا عہد کيا ہوا ہے-

  16. بہت خوب دھجیاں اڑا ڈالیں آپ نے اس کزاب کی
    اس نے تو اتنے مسلمانوں کو گمراہ کیا ہے کے وہ خود بھی نہیں جانتے وہ کیا کر رہے ہیں
    اللہ ظا لموں کو ڈھیل دیتا ہے پر بے خبر نہیں

    مردود کی بوت کا واقعہ بھی کافی دلچسپ ہے
    تحریر ضرور کیجئے گا

  17. عيسائيت کی اسلام کے اوپر اس مبينہ فتح پہ اتنی خوشی کيوں؟

  18. سلام وعلیکم بھای صاحب یہ میرا ویب سایٹ ہے اس کو لنک کر کے اور اپنے دوستوں کو ارسال کر دو آپ کی مہربانی ہو گی جزاک اللہ
    http://www.daaljan.wordpress.com
    دالبندین آنلاین

  19. سعد بھائی آپ کا بلاگ یقینا بہت پسند آیا ۔ آپ بہت ہلکی پھلکی انداز میں حق اور باطل کی وضاحت کرتے ہیں ، جس سے آدمی بات کی تہہ تک بھی پہنچ جاتا ہے اور بور بھی نہیں ہوتا۔

    اللہ تعالٰی آپکو جزائے خیر دے۔

  20. بھائیو! مجھے ہمدردی ہے آپ سے واقعی اسلام کے اتنے برے دن ہیں کہ ایک جاہل خلاف واقعہ باتیں بیان کرتا ہے جس میں اسلام کی بین فتح کو شکست بیان کرتا ہے اور آپ خوش ہو کر بگلیں بجاتے ہیں۔اگر ہمارے آقا موجود ہوتے تو آپ کے دل میں اسلام کے تئیں جذبات دیکھ کر کس قدر خوش ہوتے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں۔اے جاہلو!خدارا قادیانیوں پر الزام تراشی سے قبل ان کی اسلامی خدمات کا جائزہ تو لو۔تم تو ہر دوسرے مسلمان کو کافر بنانے پر تلے ہو وہیں ہیں جو غلبہ اسلام کے لئے تمہارا بھی مقابلہ کر رہے ہیں اور غیروں کا بھی کیا شرم نہیں آتی تمیں۔۔۔؟اللہ نے عقل دی ہے اس کا صحیح استعمال کرو چند جاہل مولویوں کے بہکاوے میں آکر سنی سنائی باتوں پر ایمان لاکر ہٹدھرمی کرنا مسلمانوں کا شیوہ نہیں ہے۔دیکھو ْقادیانیوں کے انکار کا انجام آج تک حکومت پاکستان اور عوام بھگت رہی ہے۔اگر تم شچے ناموس رسول ہو تو اس مسئلہ میں خود کیوں کوشش کرتے ہو خدا کے حضور سجدہ ریز ہوجاو پھر دیکھو وہ خدا کس شان سے ظاہر ہوگا۔وہ خدا اب بھی زندہ ہے خدا رااسے بھی پکارو۔وہ ضرور سچ اور جھوٹ میں نمایں تفریق دکھا دےگا۔خدارا مرزائیت یا اسلام پر منہ کھولنے سے قبل خدا سے مدد ضرور طلب کرنا۔اگر تم نے ایسا نہ کیا تو یقین جانو قیامت کے دن تمہارے کسی مولوی نے تمہارا ساتھ نہیں دینا ہے۔اللہ ہدایت نصیب کر۔آمین

  21. قادیانیوں کے انکار انجام حکومت پاکستان بھگت رہی ہے!!!!!۔۔۔واہ
    یہ جو روز روز کی سازشیں، روشن خیالی کی تحارکیں،رنگ برنگی پریشانیاں ہیں نا۔
    یہ ان لعنتی قادیانیوں کے ساتھ مدینے کے یہودیوں جیسا سلوک نہ کرنے کی وجہ سے ہیں۔ہر ناف پر بال والے لعنتی مرد کی گردن ماری جانی چاھئے۔اور عورتیں لونڈیاں بنا لی جائیں تو پاکستان کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔

  22. الله پاک کی وحی انبیا کی طرف لانے کا کام صرف الله پاک نے حضرت جبرئیل کے سپرد کیا ان کے علاوہ اور کوئی فرشتہ وحی نہیں لاتا تھا.

    رہی بات کہ وحی آتی کس طرح تھی. نبی پاک نے اس کا بھی بیان کیا لکن کسی بھی طریقہ سے وحی اے نبی پاک نے جبریل کا کوئی اور نام نہیں رکھا اس لیے کہ وحی صرف جبریل ہی لاتا تھا.
    مرزا حرامی %١٠٠ جھوٹا تھا. ہر بات میں جھوٹا

  23. بہت حیرانی کی بات ہے کہ کس بات کو درست مانا جائے اور کس کو نہیں، سعد صاحب کی بات میں تعصب ہے اور ایک مستششرق کا طریق کبھی یہ نہیں ہوا کرتا۔میں اس بات سے متفق نہیں کہ اس طرح بغیر تحقیق بات کی جائے،

تبصرہ کیجیے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: