زیست برای خورد

جب میں پرائمری سکول میں پڑھتا تھا تو   یہ معلوم ہوا کہ تمام جانداروں کو زندہ رہنے کیلیے ہوا ، پانی اور خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔  ماسٹر جی نے یہ تو بتا دیا مگر خوراک کی وضاحت نہ کی۔ ذہن چونکہ بچوں والا تھا اس لیے خوراک سے مراد روٹی ہی لیتا رہا مگر یہ تجسس بھی کافی عرصہ رہا کہ پودے روٹی کیسے کھاتے ہیں؟ خیر اگلی جماعتوں میں معلوم ہو گیا کہ جاندار اپنی اپنی نوع اور ضرورت کے مطابق روٹی کی علاوہ بھی بہت کچھ کھاتے ہیں اگر مل جائے تو!

مثال کے طور پر کبوتر دانے کھاتا ہے، میاں مٹھو چُوری کھاتا ہے، گدھا گھاس کھاتا ہے، بلی چوہے کھاتی ہے اور کتا جو کچھ کھاتا ہے  وہ آپ اچھی طرح جانتے  ہیں مجھے بتانے کی ضرورت نہیں۔ اگر حضرت انسان کی بات کی جائے تو یہ وہ کچھ کھا جاتا ہے جس کو کوئی اور جاندار ہضم نہ کر سکے اور بعد میں ڈکار تک نہیں لیتا۔ مثلاً بچہ جو چیز ہاتھ میں آ جائے کھا جاتا ہے،  کلرک رشوت کھاتا ہے،  فقیر بھیک مانگ کر کھاتا ہے، غریب گالیاں  کھاتا ہے،  جھوٹا قسم کھاتا ہے،  کمزور مار کھاتا ہے،   پولیس والا حرام کھاتا ہے ، مسلمان سود کھاتا ہے،   ڈاکٹر فیس کھاتا ہے اور سیاستدان ……  عام آدمی ہمیشہ اس  سے فریب کھاتا ہے۔

ہمارے ملک میں دو قومیں ایسی ہیں جن پر آسمانوں سے من و سلویٰ نازل ہوتا ہے۔ ایک تو یہ سیاستدان اور دوسری قوم  وہ جس کا نام بوجۂ خوفِ تاحیات گمشدگی نہیں لیا جا سکتا۔ کبھی کبھی دل میں یہ کفریہ خیال آتا ہے کہ ان دو قوموں پہ خدا  مہربان کیوں ہے؟  شیطانی وسوسوں سے بچنے کیلیے میں دل کو تسلی دے لیتا ہوں کہ ان کا انجام بھی وہی ہے جو بنی اسرائیل کا ہوا تھا۔

ہر انسان اپنی سوچ ،  کردار، حیثیت اور عادت کے مطابق یہ سوچے بغیر کہ اس کی ضرورت بس ایک یا دو روٹی ہی ہے، بہت کچھ کھا جاتا ہے۔ جو نہ کھا سکے وہ دنیا میں  دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کو کوستا ہے مگر اپنا دماغ نہیں استعمال کرتا۔

اور ایک بات جو اکثر میں بھول جاتا ہوں کہ اللہ بھی اپنی مخلوق پر رحم کھاتا ہے۔

Advertisements

Posted on جون 14, 2012, in متفرقات and tagged , , . Bookmark the permalink. 14 تبصرے.


  1. بر محل و بر موقع تحریر، پڑھ کر مزا آ گیا۔
    اللہ تبارک و تعالیٰ حلال کی کھانے کی توفیق دے، آمین یا رب
    خوبصورت تحریر کیلئے شکریہ قبول کریں


  2. جی۔۔۔دو وقت کی روٹی ملے اور کوئی بیستی کرنے والا نا ہو تو زندگی تو اللہ میاں نے نہایت ہی حسین بنائی ہے


  3. مختصر مگر پر اثر تحریر ہے ۔۔۔۔ شکریہ


  4. بہت خوب۔۔۔!
    اچھی تحریر ہے۔


  5. اب تو بچوں کے لیے کوئی دوسری تیسری کتاب لکھ ہی دیجیے، آپکا میٹریل اصل میں پہلی کتاب کے قابل نہیں


  6. کتنا پیارا لکھا ھے آپ نے مزا آیا 


  7. سعد بھیا ماشاءاللہ اچھا لکھا ہے۔ مزیدار تحریر ہے میٹھی سی خصوصاً اگر جملہ 🙂
    میں بھی حضرت انسان کو اِس قسم کی خوراک کھاتے دیکھ کر بہت پریشان ہوتا ہوں اور عموماً اِس عنوان پر لکھنے کا جی بھی چاہتا ہے۔ شائید مستقبل قریب میں ہی لکھ پاؤں۔
    دُعا ہے اللہ سے کہ وہ ہمیں حرام سے بچا کر حلال کھانے کی توفیق عطا فرما دیں

تبصرہ کیجیے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: