Monthly Archives: جون 2010

اور ایک سال گزر بھی گیا

آج اس بلاگ کو بنائے بلکہ گھسیٹے ایک سال مکمل ہو گیا ہے۔ لفظ "گھسیٹنا” اس لیے مناسب لگتا ہے کیونکہ یہاں تحریروں کی اوسط 2.5 فی مہینہ بنتی ہے جو کہ بلاگنگ کے لحاظ سے اتنی اچھی نہیں۔

بلاگ بنایا تو شوقیہ تھا مگر بعد میں گلے پڑ گیا۔ بلاگ کے وجود میں آتے ہی میرے دوستوں اور دشمنوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا۔  کئی بار ذہن میں یہ خیال بھی آیا کہ بلاگ کو ڈیلیٹ کر کے رفوچکر ہو جاؤں ۔ اس کی وجہ شاید رائٹرز بلاک نما بیماری تھی یا سستی یا پھر دیگر مصروفیات۔  بہرحال ابھی تو یہ سلسلہ ( نامعلوم مدت تک ) جاری ہے۔  میں کوئی عظیم بلاگر تو ہوں نہیں کہ ایک سال مکمل ہونے پر تاثرات بیان کرنا شروع کر دوں بلکہ اس پوسٹ کا مقصد صرف اور صرف آپ لوگوں کا شکریہ ادا کرنا ہے۔

میں تمام دوست و دشمن اردو بلاگروں اور تبصرہ نگاروں کا بیحد شکر گزار و ممنون ہوں اور آپ کی عظمت کو سلام پیش کرتا ہوں کہ آپ لوگوں نے پورا ایک سال مجھے برداشت کیا!


وقت ضائع کرنے کے طریقے

اگر آپ فارغ بیٹھے ہیں اور کچھ کرنا چاہتے ہیں مگر کرنے کو کچھ نہیں ہے تو یہ کام کی پوسٹ آپ کیلیے ہے۔ خالی دماغ شیطان کا گھر ہوتا ہے لہذٰا آپ مندرجہ ذیل طریقوں میں سے ایک طریقہ آزمائیں اور اپنا وقت ضائع کریں۔

1. کسی قریبی مارکیٹ میں چلے جائیں اور مختلف دکانوں میں داخل ہو کر ان تمام چیزوں کے بھاؤ معلوم کریں جو آپ کبھی مستقبل میں بھی خریدنا پسند نہیں کریں گے۔ اگر دکاندار زیادہ چرب زبان ہو تو اشیاء میں دو چار کیڑے نکالیں اور منہ بناتے ہوئے وہاں سے اگلی دکان کی طرف روانہ ہو جائیں۔

2. ٹیلی فون اٹھائیں اور کوئی نامعلوم نمبر ملا دیں۔ سلام دعا کرنے کے بعد بال بچوں کا حال پوچھیں ۔  ظاہر ہے کہ وہ آپ کا نام پوچھے گا مگر آپ اگلے بندے کو سسپنس میں رکھیں اور کہیں کہ میاں بوجھو تو جانیں۔ جب وہ زیادہ اصرار کرے تو گلے شکوے شروع کر دیں کہ تم تو مجھے بھول ہی گئے، اب پہچانتے ہی نہیں ہو! جب وہ تنگ آ جائے تو کہیں کہ تم فلاں ہی ہو نا؟ اور اس کے انکار پر سوری رانگ نمبر کہہ کر کال ختم کر دیں۔ تمام گفتگو دوستانہ انداز میں کریں تاکہ اگلا بندہ آپ کو کوئی دوست سمجھ کر بدتمیزی نہ کر سکے۔ آپ یہ عمل کئی بار دہرا سکتے ہیں۔ خواتین اس تجویز پر عمل کرنے کی فحش غلطی ہر گز نہ کریں۔

3. ایک پیچ کس لیں اور گھر میں موجود کوئی مشینری کھول دیں۔ اس کے تمام پرزے علیحدہ کر دیں اور اب اس کو دوبارہ جوڑنے کی کوشش کریں۔ مثال کے طور پر اپنے کمپیوٹر کا کی بورڈ کھولیں اوراس کے تمام بٹن نکال دیں۔ اب ان پر موجود گرد و غبار صاف کریں اور دوبارہ جوڑیں۔ اس عمل میں آپ کے کم از کم دو یا تین گھنٹے ضائع ہو جائیں گے۔ آپ اگر تمام بٹن صحیح جگہ پر واپس لگانے میں کامیاب ہو گئے تو آپ واقعی ذہین ہیں۔  اس تجویز پر عمل کرنے کی صورت میں آپ کے کسی مالی نقصان کا میں ہرگز ذمہ دار نہیں۔

4. ایک کاغذ اور پینسل لیں۔ اپنے پیدا ہونے سے لے کر نوکری شروع کرنے تک ان تمام اخراجات کو لکھیں جو آپ کے والدین نے آپ پر کیے۔ یہاں آپ اندازوں سے بھی کام چلا سکتے ہیں۔ وہ تمام چیزیں اور ان کی مالیت لکھیں جو آپ کو یاد ہیں اور جو یاد نہیں اندازے سے ان کی مالیت لکھیں۔ اس طرح ایک طویل لسٹ تیار ہو جائے گی اور آپ ماضی کا طویل سفر بھی طے کر لیں گے۔ آخر میں ٹوٹل کریں۔ ٹوٹل دیکھنے کے بعد حیران مت ہوں اور نہ ہی یہ سوچیں کہ اگر آپ پیدا نہ ہوتے تو آپ کے والدین کی کتنی بڑی بچت ہو سکتی تھی۔

5. اگر اوپر والی تجویز زیادہ مشکل محسوس ہوتی ہے تو پھر اپنے سالانہ اخراجات کا تخمینہ لگائیں۔

6. کچن میں چلے جائیں اور کچھ ایسی نئی چیز بنائیں جو آج سے پہلے نہ کسی نے بنائی ہو اور نہ ہی کسی نے کھائی ہو۔ تجربہ کامیاب ہو یا ناکام، گھر میں موجود دوسرے لوگوں کو تیار کردہ ڈش چکھا کر داد وصول کریں۔ ایمرجنسی کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

7. اپنے کمپیوٹر کی ہارڈ ڈسک کو ڈی فریگمنٹ کریں یا اپنے قیمتی ڈیٹا کو بیک اپ کریں۔ اس کام پر کئی گھنٹے صرف ہوں گے۔

8. اگر آپ خاتون ہیں تو اپنا میک اپ کریں۔

9. اگر آپ سائنس میں دلچسپی رکھتے ہیں تو آئن سٹائن یا کسی اور سائنسدان کی پیش کردہ تھیوری کو پڑھ کر سمجھنے کی کوشش کریں۔ اگر آپ کو سمجھ آ جائے تو کسی دوسرے فرد کو سمجھانے کی کوشش کریں۔

10. اگر آپ دفتر میں ہیں تو ایک کاغذ پر اپنے باس کا کارٹون بنائیں اور چغل خوروں اور باس کے علاوہ سب کو دکھائیں۔

11. پرانا اخبار لے لیں اور اس پر موجود لوگوں کی تصویروں پر مختلف اقسام کی عینکیں اور مونچھیں بنائیں۔

12. اگر آپ سست واقع ہوئے ہیں  اور ہلنے جلنے کے موڈ میں نہیں تو پھر سو جائیں۔

ان باتوں کے علاوہ کوئی تجویز آپ کے ذہن میں بھی ہے تو تبصرہ میں  ضرور لکھیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کا بھلا ہو سکے۔

ایک طریقہ یہ بھی


اگر آپ نے فلم ٹرمینیٹر دیکھی ہے تو آپ مندرجہ ذیل تصویر کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں:

وجۂ نزول

ایک امریکی کی سوچ

جیفرے شیلڈن گرین ایک سابقہ امریکی میرین فوجی تھا جس سے میری جان پہچان فیس بُک کے ذریعے ہوئی۔  گو کہ ہماری دوستی زیادہ عرصہ نہ چل سکی مگر اس دوران اس کے ساتھ میری لمبی چوڑی بحث چلتی رہی جس سے مجھ پر بعض ایسی باتوں کا بھی انکشاف ہوا جو مجھے پہلے معلوم نہ تھیں۔ اس کے نظریات ایک عام امریکی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں جو ہر جگہ ہمیں امریکی پالیسیوں میں نظر آتے ہیں۔

پہلا سوال جو اس نے مجھ سے کیا وہ یہ تھا کہ "اسلامی تعلیمات دہشت گردی پر کیوں زور دیتی ہیں؟”۔ میں نے اس کو بتایا کہ اسلام سلامتی کا مذہب ہے اور اس کی تعلیمات کا دہشت گردی سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں! اس نے پوچھا "اگر اسلام میں دہشت گردی نہیں تو تم لوگ جہاد کس چیز کو کہتے ہو؟”۔ اس کے جواب میں میں نے جہاد کی تعریف اور اسکی اقسام بیان کیں۔ میں نے اس پر واضح کیا کہ جب کسی مسلمان ملک پر کافر ملک حملہ آور ہو جائے تو جارحیت کے شکار مسلمان ملک کے ہر فرد پر جہاد فرض ہو جاتا ہے۔ اگر مسلمان ملک کمزور ہو اور حملہ آور ملک سے مقابلہ کرنے کی سکت اور وسائل نہ رکھتا ہو تو اس کے قریب ترین ہمسایہ ملک یا ممالک کے مسلمانوں پر جہاد فرض ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کی مدد کریں جو مصیبت میں ہیں۔ اگر ہمسایہ مسلمان ممالک بھی کمزور ہوں تو مزید ان کے ہمسایہ ممالک اور اسی طرح بالآخر ساری دنیا کے مسلمانوں پر جہاد فرض ہو جاتا ہے۔

ان ساری تفصیلات کا مقصد اسے یہ سمجھانا تھا کہ مسلمان چاہے دنیا کے کسی بھی کونے سے تعلق رکھتے ہوں، اپنے مظلوم عراقی، فلسطینی اور افغان بھائیوں کیلیے کیا جذبات رکھتے ہیں اور ان کی مدد کرنے کی کیوں کوشش کرتے ہیں۔

مسئلہ فلسطین پر اس کا موقف وہی تھا جو امریکی حکومت کا ہے کہ اسرائیل اپنے دفاع کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اس نے مجھے بتایا کہ حماس اور حزب اللہ دہشت گرد تنظیمیں ہیں اور ایران و شام جیسے دہشت گرد ممالک کی امداد سے چل رہی ہیں۔ یہ شطرنج کے مہرے ہیں اور اصل کھلاڑی ایران و شام وغیرہ ہیں۔  جب میں نے اسے اسرائیلی جارحیت کی مثالیں دیں تو اس نے ان کا دفاع یہ کہہ کر کیا کہ بات اتنی بھی نہیں ہوئی جتنی تم بڑھا چڑھا کر بیان کر رہے ہو۔ یہ سب من گھڑت قصے کہانیاں اور سازشی نظریات ہیں۔

اتفاق سے انہی دنوں اسرائیل غزہ پر چڑھ دوڑا اور اس نے غزہ پر وحشیانہ بمباری شروع کر دی۔  میں نے اس سے پوچھا کہ اب تو تم روز ٹی وی پر بھی دیکھتے ہو اس اندھا دھند بمباری میں روزانہ درجنوں لوگ ہلاک ہو رہے ہیں، بتاؤ اس کی کیا تو جیہہ پیش کرتے ہو؟ اس نے وجہ بیان کی کہ "دراصل یہ ہلاکتیں حماس کی وجہ سے ہو رہی ہیں کیونکہ حماس ان ہلاک ہونے والے لوگوں کو ’ڈھال‘ کے طور پر استعمال کر رہی ہے”۔ ایک میرین کے منہ سے میں یہ انوکھی وضاحت سن کر حیران رہ گیا۔

میں اس وقت یہ سوچ رہا ہوں کہ اگر میرا اس کے ساتھ رابطہ ہوتا تو میں اس سے پوچھتا کہ حماس اور حزب اللہ بقول تمہارے دہشت گرد سہی مگر اس امدادی جہاز کے کارکنوں کا کیا گناہ تھا جنہیں بلاوجہ موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اور وہ اس گھناؤنے فعل کی بھی ایک عجیب و غریب دلیل دیتا۔

میں نے جیفرے سے پوچھا کہ  سچ بتاؤ تم امریکی لوگ اسرائیل کی اتنی حمائت کیوں کرتے ہو؟ اس نے جواب دیا "میرے دوست یہ ہماری مذہبی کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ یہودیوں کی ہر ممکن مدد کرو”۔ میں نے اسے بتایا کہ کس طرح ان یہودیوں نے اپنی تحریف شدہ تورات کو تمہاری انجیل میں گھسیڑا اور کیسے اپنے لوگ تمہارے مذہبی رہنما بنائے جو بعد میں پوپ کے عہدے تک پہنچے تو اس نے میری بات کو سازشی نظریہ کہہ کر رد کر دیا۔

میں نے آخری جذباتی وار کیا "کیا تم لوگ اس بات کو بھول گئے ہو کہ یہ وہی قوم ہے جس نے تمہارے عیسیٰ ؑ کو سولی پر لٹکا دیا تھا؟”۔

اس نے جواب دیا کہ "ہم یہودی قوم کے اس کام کے لیے احسان مند ہیں کہ انھوں نے عیسیٰ ؑ کو سولی پر چڑھا دیا  اور اس طرح ہمارے گناہوں کا کفارہ ادا ہو گیا”۔


فٹبال ورلڈ کپ: حکمت عملی

source: dunno

%d bloggers like this: