Monthly Archives: مئی 2011

مداری

کسی ملک میں ایک ظالم بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ ساری رعایا اس کے ظلم و ستم سے بہت تنگ تھی۔ ایک دن تنگ آکر رعایا نے بادشاہ کو ملک بدر کر دیا۔

  جب نئے بادشاہ کو منتخب کرنے کا وقت آیا تو ہر طرف بحث شروع ہو گئی۔ مختلف لوگوں نے اپنی اپنی آراء پیش کیں۔ آخر فیصلہ یہ ہوا کہ ملک کے سب سے بے ضرر انسان کو بادشاہ بنایا جائے تاکہ عوام پر کوئی ظلم نہ ہو اور وہ ہنسی خوشی زندگی بسر کر سکیں۔ اس کے بعد عوام نے متفقہ طور پر ایک مداری کو اپنا بادشاہ منتخب کر لیا۔

جب ہمسایہ ممالک کو علم ہوا کہ وہاں اب ایک مداری حکومت کر رہا ہے تو وہ بہت خوش ہوئے اور انہوں نے سازباز کر کے حملہ کر دیا۔ محل میں کسی نے آکر مداری کو اطلاع دی کہ دشمن نے حملہ کر دیا ہے۔ مداری کے کان پر جوں تک نہ رینگی اور وہ اپنے تماشے میں مگن رہا۔ آہستہ آہستہ حملے کی خبر پھیل گئی تو لوگ محل کے باہر اکٹھے ہو گئے۔ دربان نے مداری کو بتایا کہ "بادشاہ سلامت، محل کے باہر سب لوگ جمع ہو گئے ہیں اور کاروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں”۔ یہ سن کر مداری نے ڈگڈگی پکڑی اور اپنے بندر کو لے کر محل سے باہر آیا۔ اس نے لوگوں کو بتایا کہ بے فکر رہو میں کاروائی کرنے لگا ہوں۔

 اور اس کے بعد سب لوگ بندر کا تماشہ دیکھنے میں محو ہو گئے اور انہیں یاد ہی نہ رہا کہ دشمن کی فوجیں ان کے سر پر پہنچ چکی ہیں۔ جب ایک ہرکارے نے آخری بار سب کو خطرے سے آگاہ کیا تو مداری اپنے گدھے پر اپنے سازوسامان سمیت سوار ہو گیا اور یہ کہتے ہوئے وہاں سے چل دیا کہ "جو میں تمہارے لیے کر سکتا تھا کر دیا، اب تم جانو اور تمہارا ملک!”  

شیطان

برسوں پہلے پاکستان کے ایک مشہور شہر میں، جس کی وجہ شہرت  وہاں کے انسانوں کے علاوہ مرغے بھی ہیں، ایک ایسے بچے کی پیدائش ہوئی جس پر بعد میں پورا ملک شرمندہ ہوا۔ بچے کے دادا اپنے گاؤں کے مشہور زلف تراش تھے اور انہوں نے اس فن میں بہت نام کمایا اور اس فن کو اپنے بیٹے میں منتقل کیا۔ جب یہ بچہ پیدا ہوا تو اسی خوشی میں بچے کے ابا نے کئی دیگیں پکوائیں اور علاقے کے تمام حجاموں کو اپنی خوشی میں شریک کیا۔

یہ بچہ جب تھوڑا بڑا ہوا تو اس کے ماں باپ اس کی شرارتوں سے عاجز آ گئے۔ وہ  زیادہ تر کپڑوں سے بے نیاز گلیوں میں گھومتا پھرتا اور راہ چلتے لوگوں کو نت نئے القابات سے نوازتا۔ جب وہ سکول داخل ہوا تو اس کے بدن پر کپڑے تو آ گئے مگر اس کی شیطانیوں میں اضافہ ہو گیا۔  اس کی سب سے بڑی فنکاری جس سے سب چھوٹے بڑے نالاں تھے، جھوٹ میں مہارت تھی۔ وہ بڑی چالاکی سے طویلے کی بلا بندر کے سر ڈال دیتا۔ اسی مہارت کے باعث اس نے زندگی میں بہت ترقی کی۔

دورانِ تعلیم لوگوں کے روایتی نسلی تعصب اور پھبتیوں سے بچنے کیلیے اس نے اپنے نام کے ساتھ راجہ کی بجائے ملک کا اضافہ کیا تاکہ کسی کو کوئی شک نہ ہو۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ پولیس میں بھرتی ہوا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ سب سے زیادہ مال اسی محکمہ میں ہے اگر کوئی کھانے والا ہو تو۔ دورانِ نوکری اس کے جوہر کھلے اور وہ ترقی کرتا محکمے کا سربراہ بن بیٹھا مگر جب اس کی حرکتیں برداشت سے باہر ہو گئیں تو حکومت نے اس کی چھٹی کر دی۔

 اس وقت تک وہ اپنے علاقے میں کافی مشہور ہو چکا تھا لہٰذا اس نے عوام کی خدمت کرنے کیلیے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا اور ایک مشہور سیاسی پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی میں پہنچ گیا اور اس کے ایک کارنامے سے پارٹی نے خوش ہو کر اسے وزیر بنا دیا۔

آج  کل وہ اپنے انوکھے  بیانات کی وجہ سے ملک اور بیرونِ ملک بے حد مقبول ہے۔ اہم ملکی معاملات پر وہ معنی خیز خاموشی  اختیار کر لیتا ہے اور پھر جب وہ بولتا ہے تو  ایسا محسوس  ہوتا ہے جیسے بند گٹر کھلنے پر اردگرد  کی فضا بدبودار ہو گئی ہو اور لوگوں کی سانس بند ہو جائے۔

وہ جو کوئی بھی تھا

اسامہ بن لادننقشِ خیال ۔ عرفان صدیقی

پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد ایک سوگ کی سی کیفیت میں رہی۔ اس لئے نہیں کہ یہ سادہ و معصوم لوگ دہشت گردی سے ناتا رکھتے اور دہشت گردوں سے محبت کرتے ہیں۔ اس لئے بھی نہیں کہ اسامہ بن لادن ان کا محبوب تھا۔ اس لئے کہ ازل ازل سے انسانوں کی فطرت، خدا فراموش فرعونوں سے نفرت کرتی اور ان فرعونوں کو للکارنے والوں کو اپنا اپنا سا سمجھتی ہے۔ فرعونوں کا معتوب، جو کوئی بھی ہو، جیسا بھی ہو، انسانوں کا محبوب بن جاتا ہے۔ کیا اسامہ کی حکمت عملی اسلامی تعلیمات کے مطابق تھی؟ کیا ایک مرد دانا کی طرح وہ زمینی حقیقتوں کا شعور رکھتا تھا؟ کیا اس کے چنے ہوئے راستے نے بالعموم امت مسلمہ کے مفادات کی آبیاری کی؟ ان سوالوں پہ پہلے بھی بحث ہوتی رہی ، آئندہ بھی ہوتی رہے گی، دنیا میں ایسا کوئی شخص پیدا نہیں ہوا جس کے فکر و عمل سے اختلاف کرنے والا کوئی نہ ہو۔ اسامہ پر پہلے بھی سنگ زنی ہوتی رہی، آئندہ بھی نشتر زنی ہوتی رہے گی لیکن اس کی روح اب سود و زیاں کے دنیوی پیمانوں سے بہت دور جا چکی ہے۔ امریکہ ، نیٹو، یورپی یونین، اقوام متحدہ اور شکم پرست ہراول دستوں کی دسترس سے کوسوں آگے۔
ٹیلی فونوں اور پیغامات کا تانتا بندھا رہا کہ اسے شہید، کیوں نہیں کہا جا رہا؟
میں دل گرفتہ اہل وطن کو سمجھاتا رہا کہ معصوم و سادہ دل لوگو! ہم اسے شہید نہیں کہہ سکتے۔ اس لئے کہ شہنشاہ عالم پناہ خفا ہو جائے گا۔ اس لئے بھی کہ ہم دس سال سے، امریکی جنگ کا دست بازو ہیں اور اسامہ ہمارے مخالف لشکر میں سے تھا۔ اس لئے بھی کہ ہم اپنا پیٹ پالنے کے لئے امریکی نان نفقے کے محتاج ہیں۔ اس لئے بھی کہ امریکا دنیا کا تاجدار اور جابر ملک ہے اور ہمارے حکمرانوں کی باگیں اس کے ہاتھ میں ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر اس لئے کہ ’دین غلامی“ میں امریکہ کو آنکھیں دکھانے اور اس سے پنجہ آزمائی کرنے والا غازی کہلا سکتا ہے نہ شہید۔
دو دن سے ٹی ۔ وی چینلوں پر ایک تماشا سا لگا ہے۔ خبریں، تصویریں، فلمیں، تبصرے، تجزیے، امکانات، خدشات۔ میں ریموٹ کے بٹن دبا دبا کر چینل بدلتا اور میڈیا کے چلن دیکھتا رہا۔ ہر پاکستانی چینل پر وہی بولی، بولی جا رہی تھی جو اسامہ کے بارے میں امریکہ، یورپ اور دنیا کے دیگر مسلم بیزار منطقوں میں بولی جاتی ہے۔ ہم اسے مسلسل امریکہ کی آنکھ سے دیکھتے رہے، اس کے بارے میں پھیلائی گئی امریکی کہانیاں دہراتے رہے اور وقفے وقفے سے امریکہ ہی کی زبان میں اس پر تبصرے کرتے رہے۔ غلامی اسی طرح دلوں اور ذہنوں کے اندر گھونسلے بناتی ہے ۔ ہمیں کچھ ضرورت نہیں کہ اس کی زندگی کے نشیب و فراز کا جائزہ لیں اربوں اور کھربوں میں کھیلنے اور سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہونے والا شہزادہ، انجینئرنگ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والا ہونہار نوجوان، اپنے خاندان کی بے کراں دولت لامحدود کاروباری امکانات اور عیش و عشرت سے پُر زندگی سے دستکش ہو کر غریب الوطنی، سخت کوشی، جہدو پیکار اور سامراج دشمنی کے خار زاروں کی طرف کیوں نکل آیا؟ دنیا میں کتنے ہیں جو شہزادگی ٹھکرا کر کسی مقصد کی لگن میں ایسی راہوں پر نکل آتے ہیں جہاں اذیتوں اور مشقتوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا اور جہاں موت سائے کی طرح ساتھ ساتھ چل رہی ہوتی ہے ۔ دو دو ٹکے کی نوکریوں اور رسوائیوں میں گندھی بے ننگ و نام حکومتوں کے لئے اپنی آن اور اپنا ایمان بیچ دینے والوں کی اس دنیا میں کتنے ہیں جو جُنوں کا ایسا سرمایہ رکھتے ہوں؟
جب وہ افغانستان کے پہاڑوں، گھاٹیوں اور میدانوں میں سوویت یونین سے لڑ رہا تھا، جہاد منظم کر رہا تھا، اس کی دولت تحریک مزاحمت کی رگوں میں لہو بن کر دوڑ رہی تھی تو وہ ”عظیم مجاہد“ اور ” بہادر جانباز“ کہلاتا تھا۔ امریکہ اس کی بلائیں لیتا تھا۔ اس کی راہوں میں سرخ قالین بچھاتا تھا، پھر زمانہ بدلا۔ روس دریائے آمو کے اس پار چلا گیا کم و بیش چوتھائی صدی بعد امریکہ اسی اسامہ کی تلاش میں افغانستان پر چڑھ دوڑا۔ اس لئے کہ اسامہ امریکی توسیع پسندی کے خلاف تھا۔ اس کا نعرہ تھا کہ امریکی افواج سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک سے نکل جائیں وہ امریکا کی اسرائیل نوازی پر بھی معترض تھا۔ نائن الیون کے فوراً بعد اعلان ہوا کہ یہ اسامہ کا کیا دھرا ہے ۔ آج تک اس الزام کا کوئی ایک ٹھوس ثبوت سامنے نہیں لایا جا سکا۔ اکتوبر 2001ء میں امریکہ نے افغانستان پر یلغار کر دی۔ دنیا کا سب سے بڑا بارود خانہ اور مہلک ٹیکنالوجی رکھنے والا ملک، بیسیوں عالمی افواج کے ساتھ ایک عشرے تک ٹامک ٹوئیاں مارتا رہا۔ اسامہ نے کہا تھا۔ ”تم مجھے زندہ گرفتار نہیں کر سکتے“ اس نے اپنے جانثار گارڈ سے کہہ رکھا تھا کہ ”جب کبھی مجھے گرفتار کرنے کی کوشش کی جائے تو میرا سینہ چھلنی کر دینا“ ایک معتبر اخباری رپورٹ کے مطابق ایسے ہی ہوا۔ کامل دس برس تک ایک شخص عالمی فرعون کے لہو میں انگاروں کی طرح دہکتا رہا۔ اس کے دل میں ترنیم کش کی طرح پیوست رہا۔ رعونت میں لتھڑے حکمران پہاڑوں سے سر پھوڑتے، وادیوں میں بھٹکتے رہے لیکن ایک ”سرکش باغی“ کو زنجیر نہ ڈال سکے۔
شہنشاہ عالم پناہ بارک اوباما نے کہا ” انصاف ہو گیا۔ یہ پوری دنیا کے لئے خوشی کا دن ہے“ اس نے دہشت گردی کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کا ذکر کیا۔ یتیم ہو جانے والے بچوں، اجڑی آغوش والی ماؤں اور اولاد کھو دینے والے باپوں کا تذکرہ کیا۔ اسرائیلی وزیراعظم نے خوشی کے شادیانے بجائے۔ سارا یورپ جشن کی سی کیفیت میں آگیا۔ بھارت کا چہرہ تمتما اٹھا کابل کے چغہ پوش مسخرے کی باچھیں کھل اٹھیں۔ اور سید عبدالقادر گیلانی کے خانوادے سے تعلق کا دعویٰ کرنے والے سید زادہ ملتان اعلیٰ حضرت یوسف رضا گیلانی نے کہا۔ ”یہ فتح عظیم ہے۔“ اقتدار کی چند روزہ لذتیں بھی انسان کو کتنا کھوکھلا ، کتنا بودا، کتنا خالی خالی سا کر دیتی ہیں۔
ہمارے وزیراعظم نے ہزاروں قتل اسامہ کے کھاتے میں ڈال دیئے۔ انہیں امریکی ڈرونز کا لقمہ بننے والوں کی یاد نہ آئی جو نائن الیون کے ہلاک شدگان سے بہر حال زیادہ ہیں۔ پہلے دفتر خارجہ اور پھر وزیراعظم نے قومی تاریخ کا سب سے لغو، سب سے بے معنی، سب سے بے حمیت اور سب سے لایعنی بیان داغا کہ ”امریکہ نے سب کچھ اپنی اعلان کردہ پالیسی کے مطابق کیا ہے“ کیا معنی ہیں اس بے سروپا جملے کے، سب جانتے ہیں کہ امریکہ نے جو کچھ کیا، وہ اس کی پالیسی اس کی تاریخ، اس کے مزاج اور اس کی رعونت کے عین مطابق ہے لیکن پاکستان کی پالیسی کیا ہے؟ اگرکل امریکہ اپنے اہداف اور اپنی پالیسی کے مطابق ہمارے ایٹمی اثاثوں کے خلاف ایسا ہی آپریشن کر ڈالے تو سید زادہ کیا یہی تسلی دے گا کہ ”یہ امریکی حکومت نے اپنی طے شدہ پالیسی کے مطابق کیا ہے؟“ یہ بے حمیتی کا وہ مقام ہے جس پر بات کرتے ہوئے قلم کو بھی ندامت محسوس ہوتی ہے۔
سوالات ہیں اور ان گنت ہیں۔ کئی گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی قوم اندھیرے میں ہے۔ سوالات کے اس لق و دق جنگل سے کوئی راستہ نہ نکلا تو پاکستان شدید مشکلات کا شکار ہو جائے گا۔ ابھی سے آثار نظر آرہے ہیں کہ اس ڈرامے کے ذریعے حکومت، فوج اور آئی۔ ایس۔ آئی کو مجرم بنا کر عالمی کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا ہے دیکھئے آگے دیکھئے کیا ہوتا ہے؟ اور اوباما کو کون بتائے کہ ہمارے بچے بھی درختوں پر نہیں لگتے، ماؤں کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں اور دنیا اسامہ کے نہ رہنے سے امن نہیں پائے گی، اس دن سکون آشنا ہو گی جب فرعون مزاج امریکہ دوسروں کو بھی انسان سمجھنے لگے گا۔
اب شیخ اسامہ بن لادن کا معاملہ اپنے اللہ کے ساتھ ہے۔ جو ہر انسان کے ظاہری عمل کو بھی دیکھتا ہے اور نیتوں کا حال بھی جانتا ہے۔ اسے ہم جیسے خود فروشوں، بزدلوں، کمزوروں، شکم پرست بونوں اور بندگان امریکہ کی طرف سے ”شہادت“ کے کسی تمغے کی حاجت نہیں۔ اگر وہ اللہ کی میزان میں کم وزن نکلا تو سزا پائے گا۔ اگر اس کے اعمال بارگاہ عالی میں مقبول ٹھہرے تو اس کی لاش سمندر کی مچھلیاں کھائیں یا جنگل کے درندے، وہ شہیدوں کے جلو میں کسی سنہری مسند پر بیٹھا ہو گا۔
اگر شہنشاہ عالم برا نہ مانیں اور اس کی چوکھٹ پہ سجدہ ریز ہمارے حکمران خفا نہ ہوں تو آیئے اس کے لئے دست دعا بلند کریں۔ اللہ اس کی لغزشوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرمائے، اسے اپنے بے پایاں عفو و کرم
سے نوازے اور اسے اپنے بندگان خاص کے مقام سے سرفراز فرمائے۔ آمین


طاقت کی حکومت

کہتے ہیں کہ کسی جنگل میں ایک شیر شکار کو نکلا۔ اس نے اپنے ساتھ لومڑی اور گیدڑ کو بھی ملا لیا۔ شام کو جب شکار کی تقسیم کا وقت آیا تو شیر نے دونوں کو حکم دیا کہ شکار تقسیم کیا جائے۔ گیدڑ اور لومڑی نے عرض کی کہ "آپ تقسیم فرمائیں”۔

لومڑی اور گیدڑ کی یہ عاجزی دیکھ کر شیر نے شکار کے تین حصے کیے۔ ایک حصہ اپنے سامنے رکھ لیا کہ "میں بھی شکار میں شامل تھا”۔

دوسرا حصہ بھی اپنے سامنے گھسیٹ لیا اور دونوں کو بتایا کہ "میں چونکہ بادشاہ ہوں لہٰذا اس حصے پر میرا حق ہے”۔

اور تیسرے حصے پر اپنا پنجہ رکھ دیا اور کہا کہ "اگر ہمت ہے تو اٹھا لو”۔

اتنی ذلالت اور بے عزتی کے باوجود بھی لومڑی اور گیدڑ جب اپنے اپنے قبیلوں میں واپس گئے تو خوشی کے مارے پھولے نہیں سماتے تھے کہ انہیں بھی بادشاہ کے ہمراہ شکار کھیلنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔  

%d bloggers like this: