Monthly Archives: مارچ 2010

بہترین ویب براؤزر؟

via thenextweb

ہماری تعلیم

میں سڑک کے کنارے کھڑا تھا کہ میرے پاس موٹر سائیکل سوار دو جوان آ کر رکے جو حلیے اور کپڑوں سے موٹر مکینک لگ رہے تھے۔ ایک نے میرے پیچھے ایک بینک کی طرف اشارہ کیا اور پوچھا کہ "بھائی صاحب کیا یہ نیشنل بینک ہے؟”

میں نے ان کو جواب دیا کہ یہ "بینک الحبیب” ہے۔  وہ دونوں مجھ سے نیشنل بینک کا پتا پوچھ کر روانہ ہو گئے لیکن مجھے عجیب سے کرب میں مبتلا کر گئے۔ بینک کا نام انگریزی کے علاوہ اردو میں بھی لکھا ہوا تھا جو وہ نہیں پڑھ سکتے تھے۔

ہم  نبیﷺ کے پیروکار ہیں جنہوں نے علم حاصل کرنے پر بہت زیادہ زور دیا تھا لیکن ہم نے کیا حاصل کیا؟

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ۱۹۷۳ کے آئین، آرٹیکل ۳۷ بی کے مطابق "حکومت ناخواندگی کو ختم کرے گی اور کم سے کم عرصہ میں  لازمی ثانوی تعلیم مفت مہیا کرے گی”۔ اور اس بات پر عمل کتنا کیا جا رہا ہے وہ آپ بخوبی جانتے ہیں۔ بجٹ میں تعلیم کی مد میں کچھ رقم رکھی جاتی ہے جو بعد میں نامعلوم لوگوں کے کبھی نہ بھرنے والے پیٹ میں منتقل ہو جاتی ہے۔ سرکاری سکولوں میں خصوصاً دیہات میں اکثر بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے۔  وزارتِ تعلیم کے اعداد و شمار کے مطابق ۳۳ فیصد سکولوں کے گرد چاردیواری نہیں، ۲۹ فیصد سکولوں میں پینے کیلیے پانی نہیں، ۵۰ فیصد سکولوں میں بجلی نہیں اور ۶ فیصد سکولوں کی عمارت ہی نہیں۔ بھوت سکولوں کی کہانی الگ ہے۔

الحمداللہ ہمارے ملک کے ۵۵ فیصد لوگ "پڑھے لکھے” ہیں۔ پڑھے لکھے کی تعریف اور تناسب مندرجہ ذیل تصویر میں ملاحظہ فرمائیں:

پاکستان میں شرح خواندگی

ہمیں Entrepreneurship کی کتاب میں پڑھایا گیا تھا کہ پاکستان میں وہ لوگ جو اپنا ذاتی کاروبار شروع کرتے ہیں، ان میں ۶۰ فیصد لوگوں کی تعلیم سکول تک محدود رہتی ہے، ۳۰ فیصد کالج کی تعلیم رکھتے ہیں اور صرف ۱۰ فیصد گریجویٹ یا اعلیٰ فنی تعلیم کے حامل ہوتے ہیں۔ ان لوگوں سے کیا امید رکھی جا سکتی ہے؟ کیا یہ لوگ پاکستانی معیشت کو ترقی دے سکتے ہیں؟

سیاستدان "روٹی، کپڑا اور مکان” کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن تعلیم کو اس نعرے میں شامل کیوں نہیں کرتے؟ تعلیم ہو گی تو روٹی کپڑا اور مکان بھی پیدا ہو جائیں گے ورنہ دوسری صورت میں وہی ہو گا جو اس وقت ملک میں ہو رہا ہے یعنی دہشت گردی، غربت اور بھِک منگوں والی زندگی۔



ماوراء کا خواب

ماوراء نے خواب میں علامہ اقبال کو دیکھا۔ وہ پریشانی میں اِدھر اُدھر ٹہل رہے تھے۔ ماوراء اور علامہ اقبال کے مابین کچھ اس طرح گفتگو ہوئی:

ماوراء : اے شاعرِ مشرق آپ کیوں پریشان ہیں؟

علامہ اقبال: میں اپنی قوم کیلیے پریشان ہوں۔ اس خوابِ غفلت میں سوئی ہوئی قوم کو جگانے کیلیے میں نے کیا کیا پاپڑ نہیں بیلے۔ میں نے ہزاروں اشعار لکھے کہ مسلمان اپنی عظمتِ رفتہ کو یاد کر کے دوبارہ اٹھیں۔ مجھے ڈر ہے کہ میری محنت رائیگاں نہ گئی ہو۔ لڑکی تم مجھے بتاؤ کہ میری قوم اس وقت کس حال میں ہے؟

ماوراء : جناب آپ کو اب فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں آپ کی محنت رنگ لا چکی ہے۔ آپ کے خوابوں کی سرزمین عرضِ پاک اس وقت دنیا کا سب سے خوش حال ملک ہے۔ یہاں مسلمان اسلامی اصولوں کے عین مطابق زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہاں مکمل امن ہے اور اقلیتیں بھی بالکل محفوظ ہیں۔

علامہ اقبال: مجھے اس قوم کے حکمران کے بارے میں بتاؤ

ماوراء : اس وقت قوم کے سب سے زیرک، مدبر اور دانا شخص کے ہاتھ میں قوم کی باگ ڈور ہے۔ یہ شخص قول اور وعدے کا سچا اور پکا ہے۔ جو بات کہتا ہے کر دکھاتا ہے۔ عدلیہ کا احترام اس کے دل میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ آپ نے اپنی شاعری میں جس شاہین کا تذکرہ کیا ہے وہ شاہین یہی ہے۔

علامہ اقبال: کیا وہ میرے فلسفہء خودی سے آگاہ ہے؟

ماوراء : جی ہاں بالکل! اس نے کبھی غیروں کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا۔ اسے شاہین اور کرگس کا فرق اچھی طرح معلوم ہے۔

یہ سُن کر علامہ اقبال کے چہرے پر مسرت اور اطمینان کی لہر دوڑ گئی اور ماوراء کی شرمندگی کے مارے آنکھ کھل گئی۔


%d bloggers like this: