بچے

پطرس بخاری کے بقول بچوں کی کئی قسمیں ہوتی ہیں۔ کوئی پیارا بچہ ہے اور کوئی ننھا سا بچہ ہے۔ کوئی پھول سا بچہ ہے اور کوئی چاند سا بچہ ہے۔  لیکن یہ سب اس وقت تک کی باتیں ہیں جب تک برخوردار پنگوڑے میں سویا پڑا ہے۔ جہاں بیدار ہونے پر بچے کے پانچوں حواس کام کرنے لگے، بچے نے ان سب خطابات سے بے نیاز ہو کر ایک الارم کلاک کی شکل اختیار کر لی۔

میں پطرس کی بات سے بالکل متفق ہوں کیونکہ میرا اور آپ کا بچپن بھی کچھ ایسا ہی گزرا ہے۔ لیکن فی الحال میں اپنے ایک بھتیجے اور ایک بھتیجی کی شرارتیں اور واقعات بیان کرنے جا رہا ہوں جن کی عمریں چار سال ہیں۔

۱۔ وجہیہ کے گھر کے صحن میں ایک نیلے رنگ کی پانی کی ٹینکی پڑی ہوئی ہے جس میں فالتو پانی سٹور کیا جاتا ہے۔ ایک دن اس نے ٹینکی میں نیل کی پوری بوتل گھول دی تا کہ ٹینکی اور پانی کا رنگ ایک ہو جائے۔

۲۔ ایک دن اس نے ربڑ پلانٹ چکھ لیا۔ ربڑ پلانٹ کا ذائقہ اگر آپ کو معلوم نہیں تو چکھنے کا رسک مت لیں۔ ایک بار یہی کام ایک بکرے نے کیا تو سارا دن دوڑتا اور اچھلتا کودتا رہا۔

۳۔ ایک بار اس نے غسل خانے کے فرش پر اپنے ابا کی ساری شیونگ کریم مل دی۔ پوچھنے پر بتایا کہ اس نے یہ کام مکھیوں کو بھگانے کیلیے کیا ہے۔

۴۔ ایک دن یہ فریج سے کھانسی والے شربت کی بوتل نکال کر پوری بوتل پی گیا۔ اس دن سب گھر والے حیران تھے کہ یہ جھوم جھوم کر کیوں چل رہا ہے۔ اسی طرح جب یہ جھومتا جھومتا گر کے اسی وقت گہری نیند سو گیا تو تب گھر والوں کو خبر ہوئی کہ کچھ غلط ہو گیا ہے۔

۵۔ آخری بار چند دن پہلے جب میں اس کے گھر گیا تو اس دن موصوف نے آٹے کی مَٹی ( باورچی خانے میں موجود آٹا سٹور کرنے والا برتن) میں لوٹا بھر کے پانی ملا دیا۔

۶۔ عائشہ اپنے والد کی بیحد لاڈلی اور ضدی بچی ہے اور اس کی ہر فرمائش فوری طور پر پوری کی جاتی ہے۔ یہ مٹھائی کھانے کی بیحد شوقین ہے۔ روزانہ سکول سے واپسی پر اس کے ابا اس کو گلاب جامن لے کر دیتے ہیں۔ اس کی ماں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ دیکھو روز مٹھائی کھانے سے دانتؤں کو کیڑا لگ جاتا ہے۔ عائشہ نے یہ دلیل ماننے سے انکار کر دیا۔ جب اس کی ماں نے یہ کہا کہ روزانہ گلاب جامن کھانے سے رنگ کالا ہو جاتا ہے تو وہ فوراً بولی: میں صبح سے برفی کھایا کروں گی۔

۷۔ پہلی سحری کے دن اتفاق سے اس کی آنکھ اس وقت کھل گئی جب مسجد سے اعلان ہو رہا تھا کہ کھانا پینا بند کر دیں۔ یہ پریشان ہو گئی کہ ہمیں کھانے پینے سے روک دیا گیا ہے۔ فوراً سوالات پوچھنے شروع کر دیئے کہ یہ لوگ ہمارا کھانا کیوں بند کر رہے ہیں؟ اب ہم کیسے کھائیں گے؟ کافی تفصیل سے اس کو روزے کے بارے میں بتایا گیا تو تب جا کے یہ سوئی۔

آج ۱۴ اگست ہے اور بچے صبح سے ہی صاف ستھرے کپڑے پہنے، جھنڈوں والے رنگ برنگے بیج لگائے اِدھر اُدھر دوڑ رہے ہیں اور کھیل رہے ہیں۔ کچھ ہی گھنٹوں میں ان کے کپڑے گندے ہوں گے، بیج ٹوٹ چکے ہوں گے اور ہاتھوں میں پکڑی جھنڈیاں پھٹ چکی ہوں گی۔ میں اس وقت ان کو دیکھ رہا ہوں اور اپنے بچپن کو مِس کر رہا ہوں۔

Advertisements

Posted on اگست 14, 2010, in متفرقات and tagged , , , . Bookmark the permalink. 42 تبصرے.

  1. بہت زبردست!
    کھانسی کی دوائی کی بوتل پی کر ہم بھی مستانی چال چل کر سو گئے تھے۔
    اب بھی جب سب جمع ہو تے ہیں تو یاد کرکے ہنستے ہیں۔

  2. بہت اچھی تحریر ہے۔ بچپن کا دور ہی ایسا ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے، ٹی وی پر آئس کریم کا اشتہار دیکھ کر سامنے پڑے صابن کو اٹھا کر کھا لیا تھا، آئس کریم سمجھ کر۔

  3. آج کل میرے بھانجا بھانجی بھی ہمارے گھر رہنے آے ہوے ہیں …کل میری بھانجی نے پورے منہ پہ ٹالکم پوڈر تھوپ لیا اور فرمانے لگیں دیکھو میں گوری ہو گئی ….

  4. یہ بکرے کو ربڑ پلانٹ کھلانے کا واقعہ ہمارے ہاں بھی پیش آ چکا ہے۔ اور آپ کی بیان کی گئی تفصیل سے اتفاق ہے۔ 🙂

  5. بہت خوب۔ بچے زبردست ہوتے ہیں۔ ان کے پاس لاتعداد اوریجنل آئیڈ یاز ہوہتے ہیں۔

  6. بچوں سے شیطان یونہی پناہ نہیں مانگتا

  7. دلچسپ ۔ تاہم میں بچپن میں انتہائی شریف بچہ تھا اگرچہ اب خاندان کی رائے بدل گئی ہے۔
    وسلام

  8. خوبصورت تحریر۔ بچپنا واقعی نا بھولنے والی عمر ہے۔ گو مجھے بہت کچھ یاد نہیں ہے لیکن آج کل کے بچوں کو دیکھ کر میں بہت محظوظ ہوتا ہوں۔

  9. اسی لئے کہتے ہیں بچے دو ہی اچھے باقی کا مچھے پتہ نہیں۔ایک بات اور اپنے بچے چاہے کتنے ہی برے کیوں نہ ہوں کتنا ہی تنگ کرتے ہوں پھر بھی اپنے ہی اچھے لگتے ہیں ۔ بیوی کتنی ہی فرمابردار اور خوبصورت کیوں نہ ہو مگر لگتی دوسرے کی ہی اچھی ہے۔

  10. مزیدار تحریر ہے۔ واقعی بچے من کے سچے۔۔۔
    ویسے یہ کھانسی کی شربت پینے والا معاملہ تو ہمارے ساتھ بھی ہوچکا ہے، بچپن میں۔
    😉

  11. شیطان دو طرح کی مخلوقات سے پناہ مانگتا ہے۔۔۔ بچوں سے اور حکمرانوں سے۔۔۔۔۔

  12. بہت خوب
    بچے واقعی بچے ہوتے ہیں

  13. Its really very nice post. bachay waqai yar bhut cute hotay hai.. i like it very much.

  14. کل کی ہی سنئے
    جی میرا بھانجا اجکل ٹینکی کی کے مرمت کا فائدہ آٹھاتے ہوئے پورے گھر کے جوتے پانی والی ٹینکی میں پھینک چکا ہے۔۔اور وہ پانی مرمت کی وجہ سے گندا ہو چکا ہے اس لیے اوپر والی ٹینکی میں چڑھا نہیں سکتے اور جوتے پانی کی نیچے پہنچ چکے ہیں۔۔ اور ہم سب ننگے پائوں پھرنے پھرانے پہ مجبور۔۔۔

  15. ہاہاہا۔۔۔ شاہ جی آپکا بھانجا بھی لگتا ہے کہ آپ پر ہی گیا ہے۔
    کچھ بچے ایسے بھی ہوتے ہیں: http://adilbaiya.blogspot.com/2010/09/blog-post.html

  16. السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
    بہت خوب، واقعی بچپن واقعی ایک ایساتحفہ ہےجس کویادکرکےہرایک کےدل کی کلی کھل جاتی ہے۔
    یہ دولت بھی لے لو یہ شہرت بھی لے لو
    بھلے چھین لو مجھ سے میری جوانی
    مگر مجھ کو لوٹادو بچپن کا ساون
    وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی

    محلے کی سب سے پرانی نشانی
    وہ بڑھیا جسے بچے کہتے تھے نانی
    وہ نانی کی باتوں میں پریوں کا ڈھیرا
    وہ چہرے کی جہریوں میں میں صدیوں کا پھیرا
    بھلائے نہیں بھول سکتا ہے کوئی
    وہ چھوٹی سی راتیں وہ لمبی کہانی

    کھڑی دھوپ میں اپنے گھر سے نکلنا
    وہ چڑیاں وہ بلبل وہ تتلی پکڑنا
    وہ گھڑیا کی شادی میں لڑنا جھگڑنا
    وہ جھولوں سے گرنا وہ گر کہ سنبھلنا
    وہ پیتل کے چھلوں کے پیارے سے تحفے
    وہ ٹوٹی ہوئی چوڑیوں کی نشانی

    کبھی ریت کے اونچے ٹیلوں پہ جانا
    گھروندے بنانا بنا کہ مٹانا
    وہ معصوم چاہت کی تصویر اپنی
    وہ خوابوں خیالوں کی جاگیر اپنی
    نہ دنیا کا غم تھا نہ رشتوں کا بندھن
    بڑی خوبصورت تھی وہ زندگانی

    والسلام
    جاویداقبال

  17. میرے الحمد لللہ تین بچے ہیں بری بیٹی درمیان میں بیٹا اور پھر بیٹی. بیٹے کی عمر ساڑھے ٣ سال اور چھوٹی بیٹی کی امر ٢ سال. بیٹا ماشا الله کسی کو تکلیف میں دیکھ نہیں سکتا. چھوٹی بیٹی کو ایک بری عادت پڑ گئی تھی سیدھے ہاتھ کا انگوٹھا چوسنے کی بہت جتن کیے مگر چھوڑنے پر تیار نہیں ہوئی. تنگ آکر ہم نے انگوٹھے میں ٹیپ باندھ دیا . اب بیٹی انگوٹھا منہہ میں لے کر جائے تو برا سا منہہ بنائے اور ہاتھ باہر نکال لے آخر تنگ آکر اسنے رونا شروع کر دیا. ہم نے بھی اسے چپ کرانے کی کوشش نہیں کی. بیٹا دیکھ رہا تھا اور بار بار آکر ہم سے اپنی زبان میں کہنے لگا کہ” پاپا تانب لو لئی اے” (پاپا ! زینب رو رہی ہے ) میں نے کہا رونے دو… کافی دیر اسکے پاس بیٹھا دیکھتا رہا جب چپ نہیں ہوئی تو بیٹے نے اسکا الٹا ہاتھ پکڑا اور الٹے انگوٹھے کو اسکے منہہ میں ڈال دیا. 🙂

  1. پنگ بیک: Tweets that mention بچے « سعد کا بلاگ -- Topsy.com

تبصرہ کیجیے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: