شیطان

برسوں پہلے پاکستان کے ایک مشہور شہر میں، جس کی وجہ شہرت  وہاں کے انسانوں کے علاوہ مرغے بھی ہیں، ایک ایسے بچے کی پیدائش ہوئی جس پر بعد میں پورا ملک شرمندہ ہوا۔ بچے کے دادا اپنے گاؤں کے مشہور زلف تراش تھے اور انہوں نے اس فن میں بہت نام کمایا اور اس فن کو اپنے بیٹے میں منتقل کیا۔ جب یہ بچہ پیدا ہوا تو اسی خوشی میں بچے کے ابا نے کئی دیگیں پکوائیں اور علاقے کے تمام حجاموں کو اپنی خوشی میں شریک کیا۔

یہ بچہ جب تھوڑا بڑا ہوا تو اس کے ماں باپ اس کی شرارتوں سے عاجز آ گئے۔ وہ  زیادہ تر کپڑوں سے بے نیاز گلیوں میں گھومتا پھرتا اور راہ چلتے لوگوں کو نت نئے القابات سے نوازتا۔ جب وہ سکول داخل ہوا تو اس کے بدن پر کپڑے تو آ گئے مگر اس کی شیطانیوں میں اضافہ ہو گیا۔  اس کی سب سے بڑی فنکاری جس سے سب چھوٹے بڑے نالاں تھے، جھوٹ میں مہارت تھی۔ وہ بڑی چالاکی سے طویلے کی بلا بندر کے سر ڈال دیتا۔ اسی مہارت کے باعث اس نے زندگی میں بہت ترقی کی۔

دورانِ تعلیم لوگوں کے روایتی نسلی تعصب اور پھبتیوں سے بچنے کیلیے اس نے اپنے نام کے ساتھ راجہ کی بجائے ملک کا اضافہ کیا تاکہ کسی کو کوئی شک نہ ہو۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ پولیس میں بھرتی ہوا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ سب سے زیادہ مال اسی محکمہ میں ہے اگر کوئی کھانے والا ہو تو۔ دورانِ نوکری اس کے جوہر کھلے اور وہ ترقی کرتا محکمے کا سربراہ بن بیٹھا مگر جب اس کی حرکتیں برداشت سے باہر ہو گئیں تو حکومت نے اس کی چھٹی کر دی۔

 اس وقت تک وہ اپنے علاقے میں کافی مشہور ہو چکا تھا لہٰذا اس نے عوام کی خدمت کرنے کیلیے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا اور ایک مشہور سیاسی پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی میں پہنچ گیا اور اس کے ایک کارنامے سے پارٹی نے خوش ہو کر اسے وزیر بنا دیا۔

آج  کل وہ اپنے انوکھے  بیانات کی وجہ سے ملک اور بیرونِ ملک بے حد مقبول ہے۔ اہم ملکی معاملات پر وہ معنی خیز خاموشی  اختیار کر لیتا ہے اور پھر جب وہ بولتا ہے تو  ایسا محسوس  ہوتا ہے جیسے بند گٹر کھلنے پر اردگرد  کی فضا بدبودار ہو گئی ہو اور لوگوں کی سانس بند ہو جائے۔

Advertisements

Posted on مئی 13, 2011, in طنز و مزاح and tagged , , . Bookmark the permalink. 23 تبصرے.

  1. ابے کا نام ملک فیروز نائی بھی لکھ دینا تھا جی

  2. یہ تو بتایا ہی نہیں کہ رنگ برنگی ٹائیاں بھی ادھر ادھر سے خوب جمع کررکھی ہیں اس نے۔ اور نائی ہونے کے باوجود موچھوں کی تراش خراش کبھی کبھار ہی کرتا ہے۔۔۔

  3. آپ معلوم نہيں کس والے کی بات کر رہے ہيں ہمارے حکمرانوں ميں ايک سے زيادہ ہيں جن ميں سے ايک اُگوکی سيالکوٹ کا ہے ۔ ايک سندھ کا مالدار ہے اور ۔ ۔ ۔ چھڈو جی مِٹی پاؤ

  4. اچھا تو یہ پیدائشی راجہ ہے۔

    اس کا کب بجے گا باجا۔۔۔ہیں جی

  5. اس عذاب سے جان چھوٹی تو اک اور عذاب آ جائے گا۔ اور ہر عذاب پر جان چھوٹںے کی دعائیں ہوتی آئی ہیں اور ہوا کریں گی۔
    عذاب کی ایک اور قسم کے اگلے سیزن کی پہلی قسط صوبہ خیبر میں آ چکی۔

  6. اوہ تو یہ واقعی نائی ہے

  7. کیا نائی کافر سے بھی برا ہوتا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟

    • یہ بات کسی پڑھے لکھے سے پوچھیں نا مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں 😛
      اور میرے ایک دوست کے بقول اگر وہ کٹ لگا دے تو کافر سے بھی برا!!!۔

  8. سعد بھائی کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ اشارہ کس کی جانب ہے …کہیں آپ عبدالرحمان ملک عرف ٹائرپنکچر والے کی تو بات نہیں کر رہے جو خیر سے ملک کا وزیر داخلہ بھی ہے ؟

  9. واقعی راجہ تھا یا آپنے لکھا؟؟

  1. پنگ بیک: شیطان | Tea Break

تبصرہ کیجیے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: