بلاگ محفوظات

شیخ صاحب اور فقیر

فقیر: اللہ کے نام پہ کچھ دے دو صاحب!

شیخ صاحب: مانگتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آتی کیا؟ ہر روز منہ اٹھا کے مانگنے چلے آتے ہو

فقیر: ہمارے صدر کو شرم آتی ہے کیا؟ ہم بھی تو اس کی ہی رعایا ہیں

شیخ صاحب: تم کچھ کام دھندہ کیوں نہیں کر لیتے؟

فقیر: آج کل مانگنا ہی سب سے زیادہ منافع بخش دھندہ ہے

شیخ صاحب: شرم کرو

فقیر: پھر وہی بات صاحب! شرم نامی چیز کو ہمارے معاشرے سے رخصت ہوئے عرصہ ہو گیا ہے

شیخ صاحب: کبھی کوئی نیکی کا کام بھی کر لیا کرو

فقیر: نیکی کا زمانہ نہیں رہا صاحب! کبھی آپ نے زکوٰۃ نکالی؟

شیخ صاحب:  میرا سر مت کھاؤ ! چلو بھاگو یہاں سے!

فقیر: ملک سے ہی بھاگ جاؤں گا! لیکن کوئی بڑا ہاتھ مارنے کے بعد!

شیخ صاحب: آدمی سمجھدار لگتے ہو!

فقیر: جی صاحب۔ میں بی اے پاس ہوں۔۔


%d bloggers like this: