بلاگ محفوظات

ہمدردی

بھولا چھٹی کے وقت دفتر سے گھر جانے کیلیے نکلا۔ تھوڑے ہی فاصلے پر اسے ایک آدمی نے رکنے کا اشارہ کیا اور لفٹ مانگی۔ آدمی حلیے سے پڑھا لکھا اور معزز معلوم ہوتا تھا لہٰذا اس نے اسے اپنے ساتھ موٹر سائیکل پر بٹھا لیا۔
"کیوں نہ میں آپ کو ایک سبق آموز قصہ سناؤں؟ وقت اچھا کٹ جائے گا”۔ معزز آدمی نے رستے میں پوچھا
"ضرور”۔ بھولا خوش اخلاقی سے بولا
"ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی شجر کی ٹہنی پر ایک بلبل اداس بیٹھا تھا۔ وہ سارا دن کھاتا پیتا اور گانا گاتا رہا تھا nightingaleاور اسے پتا ہی نہ چلا کہ کب شام ہوئی اور کب اندھیرا چھا گیا۔ بلبل اسی پریشانی میں تھا کہ اب آشیاں تک کیسے پہنچے ، ایک جگنو اس کی مدد کو پہنچا۔ جگنو نے روشنی کر کے بلبل کو راستہ دکھایا اور اسے منزل تک پہنچا دیا”۔ معزز آدمی نے کہانی سنائی اور اتنے میں اس کا سٹاپ آگیا اور وہ موٹر سائیکل سے اتر گیا۔
"کہانی سنانے کا شکریہ مگر یہ میں بچپن میں ہی سن چکا ہوں”۔ بھولے نے کہا
"دراصل آپ نے بچپن میں جو کہانی سنی وہ ادھوری تھی۔ بقیہ کہانی یہ ہے کہ جیسے ہی جگنو بلبل کو چھوڑ کر واپس جانے کیلیے مڑا، بلبل جسے گھر پہنچ کر دوبارہ بھوک لگ چکی تھی، نے چونچ بڑھائی اور جگنو کو ہڑپ گیا”۔ معزز آدمی نے بتایا
"اوہ… مگر اس کہانی سے اخلاقی سبق کیا ملتا ہے؟” بھولے نے پوچھا!
"یہ تو آپ کو گھر پہنچ کر ہی معلوم ہو گا”۔ معزز آدمی نے بھولے کو جواب دیا اور اس کا شکریہ ادا کر کے چل دیا۔
جب وہ سوچ میں ڈوبا گھر پہنچا تو اسے معلوم ہوا کہ اس کی جیب میں بٹوا نہیں ہے۔ اب اسے کہانی کا اخلاقی سبق اچھی طرح سمجھ آ گیا اور ساتھ ہی ابا جی کا قول بھی کہ بیٹا اس زمانے میں سبق بھی مفت میں نہیں ملتا!

انقلابی بھینسا

 

کسی جنگل میں ایک بھینسا رہتا تھا۔ جنگل کے جس حصے میں وہ قیام پذیر تھا وہاں گھاس کی کافی قلت تھی۔ وہ چرنے کیلیے جنگل کے دیگر قطعوں میں جانے سے ڈرتا تھا کیوں کہ وہاں دیگر جانوروں کا راج تھا اور وہ اسے ادھر پھٹکنے نہیں دیتے تھے اور اسے مار بھگاتے تھے۔ اس صورتحال کی وجہ سے بھینسا بہت کمزور ہو گیا۔ 

ایک رات بھینسا سویا ہوا تھا کہ اسے خواب میں ایک بزرگ بھینسے کی روح کی زیارت ہوئی۔ انہوں نے اسے حالات تبدیل کرنے کیلیے جنگل کی سیاست میں عملی حصہ لینے کا مشورہ دیا اور کامیابی کی بشارت بھی دی۔ صبح اٹھ کر بھینسے نے بزرگ بھینسے کی روح کے مشورے پر عمل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

ابتدا میں بھینسے نے اپنے قطعہ کے کمزور جانوروں کو اکٹھا کیا اور انہیں ان کے بنیادی حقوق سے آگاہ کیا۔ آہستہ آہستہ جانوروں کا ایک گروہ اس کا ہم خیال بن گیا اور انہوں نے جنگل کے دیگر قطعوں میں ابھی اپنے انقلابی نظریات کا پرچار کرنا شروع کر دیا۔ وقت گزرتا گیا اور بھینسے کے گرد بے شمار جانور اکٹھے ہو گئے جن میں اکثر خونخوار درندے بھی شامل تھے۔ اب بھینسے نے انہیں جنگل کا کنٹرول حاصل کرنے کا حکم دے دیا اور جنگل میں ایک نہ ختم ہونے والا خون خرابہ شروع ہو گیا۔

جنگ کے دوران جب بھینسے پر بھی حملے ہوئے تو وہ جان بچانے کیلیے ایک دور دراز جنگل میں بھاگ گیا اور وہاں پناہ حاصل کی۔ وہاں کی آب و ہوا اور خوراک بھینسے کو خوب راس آئی اور اس کی گردن اور منہ خوب موٹے ہو گئے اور پیٹ کا حجم تین گنا ہو گیا۔ 

اب بھینسا وہاں موٹاپے کی وجہ سے عجیب و غریب آواز میں ڈکراتا پھرتا ہے اور وہاں سے اپنے گروہ کو جنگی ہدایات بھیجتا رہتا ہے اور اس کے گروہ کے جانور جنگل میں اقتدار کی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 

بعض جانور اسے مشورہ دیتے ہیں کہ واپس اپنے جنگل میں چلے جاؤ مگر بھینسا انتہائی سیانا ہو چکا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ انقلاب اپنے رہنما کا خون مانگتا ہے اور بھینسے کو اپنی جان بہت پیاری ہے۔ 

طاقت کی حکومت

کہتے ہیں کہ کسی جنگل میں ایک شیر شکار کو نکلا۔ اس نے اپنے ساتھ لومڑی اور گیدڑ کو بھی ملا لیا۔ شام کو جب شکار کی تقسیم کا وقت آیا تو شیر نے دونوں کو حکم دیا کہ شکار تقسیم کیا جائے۔ گیدڑ اور لومڑی نے عرض کی کہ "آپ تقسیم فرمائیں”۔

لومڑی اور گیدڑ کی یہ عاجزی دیکھ کر شیر نے شکار کے تین حصے کیے۔ ایک حصہ اپنے سامنے رکھ لیا کہ "میں بھی شکار میں شامل تھا”۔

دوسرا حصہ بھی اپنے سامنے گھسیٹ لیا اور دونوں کو بتایا کہ "میں چونکہ بادشاہ ہوں لہٰذا اس حصے پر میرا حق ہے”۔

اور تیسرے حصے پر اپنا پنجہ رکھ دیا اور کہا کہ "اگر ہمت ہے تو اٹھا لو”۔

اتنی ذلالت اور بے عزتی کے باوجود بھی لومڑی اور گیدڑ جب اپنے اپنے قبیلوں میں واپس گئے تو خوشی کے مارے پھولے نہیں سماتے تھے کہ انہیں بھی بادشاہ کے ہمراہ شکار کھیلنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔  

رہنما

جیمز تھربر کی ایک علامتی کہانی جسے بار بار پڑھنے کی ضرورت ہے

………………………………………………………………………………………………………………………………………

پرانے زمانے کی بات ہے کہ ایک تاریک اور بے ستارہ رات کو ایک الو کسی شاخ پر گم سم بیٹھا تھا۔ اتنے میں دو خرگوش ادھر سے گزرے۔ ان کی کوشش تھی کہ وہ اس درخت کے پاس سے چپ چاپ گزر جائیں لیکن جونہی وہ آگے بڑھے الو پکارا:

"ذرا ٹھہرو۔۔۔۔” اس نے انہیں دیکھ لیا تھا۔

"کون؟” خرگوش مصنوعی حیرت سے چونکتے ہوئے بولے۔ انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ اتنی گہری تاریکی میں بھی کوئی انہیں دیکھ رہا ہے۔

"خرگوش بھائیو۔۔۔ ذرا بات سنو۔۔۔” الو نے انہیں پھر کہا، لیکن خرگوش بڑی تیزی کے ساتھ بھاگ نکلے اور دوسرے پرندوں اور جانوروں کو خبر دی کہ الو سب سے مدبر اور دانا ہے کیونکہ وہ اندھیرے میں دیکھ سکتا ہے۔

لومڑی نے کہا کہ ذرا مجھے اس بات کی تصدیق کر لینے دو، چنانچہ وہ اگلی شب اس درخت کے پاس پہنچی اور الو سے مخاطب ہو کہ کہنے لگی: "بتاؤ میں نے اس وقت کتنے پنجے اٹھا رکھے ہیں؟”

الو نے فوراً کہا: "دو”

اور جواب درست تھا۔

"اچھا یہ بتاؤ یعنی کا مطلب کیا ہوتا ہے؟” لومڑی نے دریافت کیا۔

"یعنی کا مطلب مثال دینا ہوتا ہے۔”

لومڑی بھاگم بھاگ واپس آئی۔ اس نے جانوروں اور پرندوں کو اکٹھا کیا اور گواہی دی کہ الو سب سے مدبر اور سب سے دانا ہے، کیونکہ وہ اندھیرے میں دیکھ سکتا ہے اور پیچیدہ سوالوں کے جواب دے سکتا ہے۔

"کیا وہ دن کی روشنی میں بھی دیکھ سکتا ہے؟” ایک بوڑھے بگلے نے پوچھا۔ یہی سوال ایک جنگلی بلے نے بھی کیا۔

سب جانور چیخ اٹھے کہ دونوں کا سوال احمقانہ ہے۔ پھر زور زور سے قہقہے لگانے لگے۔ جنگلی بلے اور بوڑھے بگلے کو جنگل بدر کر دیا گیا اور متفقہ طور پر الو کو پیغام بھیجا کہ وہ ان سب کا سربراہ اور رہنما بن جائے۔ وہی سب سے ذہین و دانا اور مدبر ہے اور اسی کو ان کی رہبری اور رہنمائی کا حق ہے۔

الو نے یہ عرضداشت فوراً قبول کر لی۔ جب وہ پرندوں اور جانوروں کے پاس پہنچا، دوپہر تپ رہی تھی، سورج کی تیز روشنی چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی اور الو کو کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ وہ پھونک پھونک کر قدم اٹھا رہا تھا جس سے اس کی چال اور شخصیت میں وہ وقار اور رعب داب پیدا ہو گیا جو بڑی شخصیتوں کا خاصہ ہوتا ہے۔ وہ اپنی گول گول آنکھیں کھول کھول کر اپنے چاروں طرف دیکھنے کی کوشش کرتا۔ جانور اور پرندے اس اندازِ نظر سے اور بھی متاثر ہوئے۔

"یہ ہمارا رہنما ہی نہیں، سب کا رہنما ہے۔ یہ تو دیوتا ہے۔۔۔۔ دیوتا۔۔۔۔ دیوتا۔۔۔۔” ایک موٹی مرغابی نے زور سے کہا۔ دوسرے پرندوں اور جانوروں نے بھی اس کی تقلید کی اور زور زور سے رہنما دیوتا۔۔۔۔ کے نعرے لگانے لگے۔

اب الو ۔۔۔ یعنی ان سب کا رہنما آگے آگے اور وہ سب بے سوچےاندھا دھند اس کے پیچھے پیچھے جا رہے تھے۔ روشنی کی وجہ سے اسے نظر تو کچھ نہ آتا تھا۔ چلتے چلتے وہ پتھروں اور درختوں کے تنوں سے ٹکرایا۔ باقی سب کا بھی یہی حال ہوا۔ اس طرح وہ ٹکراتے اور گرتے پڑتے جنگل سے باہر بڑی سڑک پر پہنچے۔ الو نے سڑک کے درمیان چلنا شروع کر دیا۔ باقی سب نے بھی اس کی تقلید کی۔

تھوڑی دیر بعد ایک عقاب نے جو ہجوم کے ساتھ ساتھ اڑ رہا تھا، دیکھا کہ ایک ٹرک انتہائی تیز رفتار کے ساتھ ان کی جانب دوڑا چلا آرہا ہے۔ اس نے لومڑی کو بتایا جو الو کی سیکرٹری کے فرائض سرانجام دے رہی تھی۔

"دیوتا۔۔۔ آگے خطرہ ہے۔” لومڑی نے بڑے ادب سے الو کی خدمت میں گزارش کی۔

"اچھا؟” الو نے تعجب سے کہا۔

"کیا آپ کسی خطرے سے خوف نہیں کھاتے؟” لومڑی نے عرض کی۔

"خطرہ! خطرہ! کیسا خطرہ؟” الو نے پوچھا۔

ٹرک بہت قریب آ پہنچا تھا، لیکن الو بے خبری میں اسی طرح بڑی شان سے اٹھلاتا جا رہا تھا۔ رہبرِ فراز کے پیروکار بھی قدم سے قدم ملائے چل رہے تھے۔ ایک عجب سماں تھا۔

"واہ واہ ۔۔۔۔ ہمارا رہنما ذہین اور مدبر و دانا ہی نہیں بڑا بہادر بھی ہے۔۔۔۔” لومڑی زور سے پکاری اور باقی جانور ایک ساتھ چیخ اٹھے: "ہمارا ذہین اور مدبر۔۔۔”

اچانک ٹرک اپنی پوری رفتار سے انہیں کچلتے ہوئے گزر گیا۔ عظیم دانا اور مدبر رہنما کے ساتھ اس کے احمق پیروکاروں کی لاشیں بھی دور دور تک بکھری پڑی تھیں۔

ایک کہانی

کہانی

ابھی صبح روشنی نہیں ہوئی تھی. ایک جنگل میں ایک بڑے سے درخت کے پاس چھوٹا سا خیمہ لگا تھا جس میں ایک بدو اپنے بچوں کے ساتھ سو رہا تھا۔ بدو نے کچھ مرغ پال رکھے تھے جو درخت کی اونچی شاخ پر بیٹھے اونگھ رہے تھے۔

وقت گزر رہا تھا اور صبح قریب آ رہی تھی۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا سرسرانے لگی۔ ایک بوڑھے مرغ کی آنکھ کھلی۔ اس نے صبح کے آثار دیکھے تو خدا کا شکر ادا کیا اور پورے زور سے اذان دی۔

ایک بھوکی لومڑی نے اذان کی آواز سنی تو درخت کی طرف بھاگی، قریب آئی ۔ ادھر ادھر دیکھا کچھ نہ پایا۔ اوپر کی طرف نگاہ اٹھی۔ اونچی شاخ پر مرغ کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔ جی للچایا کہ اسی کو ناشتہ بنایا جائے، مگر مرغ تھا اونچی شاخ پر اور لومڑی زمین پر۔ مرغے تک پہنچے تو کس طرح؟ سوچنے لگی کہ مرغے کو کس طرح نیچے لائے۔ آخرکار ترکیب ذہن میں آ ہی گئی، وہ چِلّا کر بولی:

"بھائی مرغے! تمہاری پیاری آواز مجھے یہاں کھینچ لائی ہے۔ صبح ہو گئی ہے، درخت سے نیچے اترو تاکہ مل کر نماز پڑھیں۔ تم تو جانتے ہی ہو کہ باجماعت نماز کا بڑا درجہ ہے”۔

مرغا بھی تجربہ کار تھا، لومڑی کی مکاری سمجھ گیا۔ شاخ  پر بیٹھے بیٹھے بولا:

"بی لومڑی! آپ کا آنا مبارک! مگر امام کے بغیر باجماعت نماز کیسے ہو گی؟”

لومڑی نے کہا: "مرغے میاں! تم بھی تو پڑھے لکھے ہو، آؤ تم ہی امام بن جاؤ۔ امام کا انتظار کرتے رہے تو نماز کا وقت گزر جائے گا۔ بس اب نیچے اترو اور نماز پڑھا دو”۔

مرغے نے جواب دیا: "بی لومڑی! آپ گھبرائیں نہیں، امام یہاں موجود ہے۔ ذرا اسے جگا لو۔ یہ دیکھو، سامنے درخت کی جڑ میں سو رہا ہے”۔

لومڑی نے جڑ کی طرف دیکھا تو ایک شخص سویا ہوا نظر آیا۔ اسے دیکھ کر واپس جنگل کو بھاگی۔

مرغے نے چِلا کر کہا: "کہاں جاتی ہو؟ امام کو جگا دو، مل کر نماز پڑھیں گے۔”

لومڑی نے بھاگتے ہوئے جواب دیا: "بھیا!  میرا وضو ٹوٹ گیا ہے، ابھی وضو کر کے آتی ہوں۔”

اخلاقی سبق

اس پرانی کہانی سے حکمت کے کئی پہلو نکلتے ہیں۔ لومڑی نے خوف اور جلد بازی میں جو موقع گنوا دیا، آپ اس سے سبق حاصل کیجیے۔

1. غلط کام کرتے وقت ڈریں مت! ابتدائی ناکامی کی صورت میں دلبرداشتہ مت ہوں۔ یاد رکھیے مستقل مزاجی ہی کامیابی کی کنجی ہے۔

2. پیٹ کی خاطر جھوٹ بولنے میں کوئی حرج نہیں۔ اور بار بار بولنے سے ہی اس پر سچ کا گمان ہو سکتا ہے۔

3. سزا جزا کا مالک رب ہے۔ ہم اپنے اعمال کیلیے صرف اس کے آگے ہی جوابدہ ہیں۔ یہ پولیس اور عدالتیں تو خود چور ہیں، ہمیں ان سے ڈرنے کی ضرورت نہیں!

4. کام نکلوانے کی خاظر "خوشامد” کا کارآمد نسخہ استعمال کیجیے۔

5. اپنے ایمان کو مضبوط کیجیے تاکہ ایسے مشکل مواقع پر وضو نہ ٹوٹ جائے۔



%d bloggers like this: