بلاگ محفوظات

کرکٹ نیوز

جاوید میانداد جنہیں ناقص پاکستانی بیٹنگ کو سدھارنے کیلیے عارضی طور پر مشیر رکھا گیا ہے اور جس پر دیگر تمام کرکٹ ٹیموں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے، کل سری لنکا پہنچے۔ سری لنکا پہنچتے ہی انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے پاس پاکستانی بیٹنگ کو مضبوط کرنے کا تعویز ہے۔ بعد میں انہوں نے اس تعویز کی فوٹو کاپیاں کرا  کے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بیٹسمینوں میں تقسیم کیں۔ جب کھلاڑیوں نے تعویز کھول کر اسے پڑھا تو اس میں مندرجہ ذیل باتیں لکھی ہوئی تھیں:

تعویز برائے فتح  ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ ۲۰۱۲ سری لنکا

تمام بلے بازوں کو سختی کے ساتھ ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ پہلے دس اوور روک کر کھیلیں تاکہ وکٹ بچائی جا سکے۔

اگلے آٹھ اوور سنگلز اور ڈبلز لے کرگزارا کریں۔ آخری دو اووروں میں چوکے لگانے کی اجازت ہے مگر چھکے کی کوشش مت کریں کیونکہ اس کوشش میں آپ کیچ آؤٹ ہو سکتے ہیں۔

یہ پڑھتے ہی شاہد آفریدی حیرت کے مارے بے ہوش ہو گئے۔ ہوش میں آنے کے بعد انہوں نے پہلا سوال یہ پوچھا کہ اتنے رنوں کا دفاع کون کرے گا؟  جواب میں میانداد نے سعید اجمل کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اسے کیا آلو چھولے بیچنے کیلیے ٹیم میں رکھا ہے؟

بھارت سے خبر ملی ہے کہ وہاں ینگ کرکٹرز ایسوسی ایشن نے سچن ٹنڈولکر کے خلاف ایک مظاہرہ کیا ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ سچن ٹندولکر، جو کہ اشوکِ اعظم کے زمانہ سے کرکٹ کھیل رہے ہیں، کو اب کرکٹ ٹیم کی جان چھوڑ دینی چاہیے تاکہ نوجوان کھلاڑیوں کو بھی قومی کرکٹ ٹیم میں شامل ہونے کا موقعہ مل سکے۔ سچن ٹنڈولکر نے اس مطالبے کو بچگانہ قرار دے کر مسترد کر دیا اور مظاہرین کو وڈیو گیمز پر کرکٹ کی پریکٹس کرنے کا مشورہ دیا۔ چندر گپت موریہ کے دور کے بعض بھارتی کرکٹروں نے سچن ٹنڈولکر کی حمایت میں بیان دیئے ہیں۔

کرکٹ کی دیوانی پاکستانی گونگوں اور بہروں کی تنظیم نے اپنے اعلامیے میں کرکٹ ورلڈ کپ کی کامیابی کیلیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ساتھ ہی اپنے اس دکھ اور حسرت کا اظہار بھی کیا کہ وہ کرکٹ کی کمنٹری سننے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ اس کے فوری ردعمل کے طور پر ٹی وی چینل والوں نے بہروں کیلیے ایک خصوصی ٹرانسمیشن چلانے کا اعلان کیا جس میں اشاروں کی زبان میں کرکٹ میچ کی کمنٹری نشر کی جائے گی۔ اس پروگرام کی میزبانی مستقبل میں مستقل  جاوید میانداد کریں گے۔

کرکٹ کی تازہ ترین خبروں کیلیے  روزانہ وزٹ کرتے رہیے "صبرنامہ ڈاٹ کام”۔

Advertisements

کرکٹیریا


آج شام میرا گزر ایک گروہِ مفکرین کے پاس سے ہوا جو ایک جوہڑ کے کنارے آلتی پالتی مار کر سوگوار بیٹھے ہوئے تھے اور کسی اہم موضوع پر گفت و شنید کر رہے تھے۔ مجھے تجسس ہوا اور جیسے ہی میں ان کے قریب ہوا انھوں نے مجھے اپنے پاس بیٹھنے کی دعوت دی۔ میں تشکرانہ انداز میں مودب ہو کر ان کے پاس بیٹھ گیا اور ان کی باتیں سننے لگا۔ موضوعِ بحث کرکٹ تھا اور وہ لوگ انڈیا کے ہاتھوں پاکستان کی شکست کا ماتم کر رہے تھے۔ ان کی آوازوں میں ایک عجب سا سوز تھا جس سے میں بھی اداس ہو گیا۔

ایک مفکر نے، جن کو  بیٹ پکڑنا بھی نہیں آتا تھا، پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ کی خامیوں کو واضح کیا۔ ایک اور مفکر ، جن کو  میرے گاؤں کی کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ مرتبہ صفر پر آؤٹ ہونے کا اعزاز حاصل ہے، پاکستانی ٹیم  کی بیٹنگ کے مستقبل سے مایوس نظر آئے۔ انھوں نے فرمایا کہ پاکستانی شکست کے پیچھے جوئے کے امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بعد میں مجھے علم ہوا کہ یہ صاحب پاکستان کی جیت کیلیے ۵۰۰ روپے لگا چکے تھے جو کہ ڈوب گئے۔ میں نے مودبانہ انداز میں کہا کہ میچ ہارنے کی وجہ بیٹنگ نہیں باؤلنگ تھی تو سب نے حقارت بھری نظر مجھ پر ڈالی اور پوچھا کہ کیا تم نے میچ دیکھا تھا؟ "میچ تو ہم میں سے کسی نے بھی نہیں دیکھا کیونکہ بجلی ہی نہیں تھی! ” میں نے جواب دیا اور کچھ پل کیلیے سکوت ہو گیا۔

ایک مفکر نے بیان دیا کہ یہ پاکستان اور بھارت کے مابین میچ  نہیں بلکہ خدا اور بھگوان کے درمیان جنگ تھی۔ اس سے پہلے کہ مزید کفر بکا جاتا، میں نے ان سے مصباح الحق  کی میچ کے بارے میں حکمتِ عملی کے بارے میں رائے مانگی۔ مصباح کا نام سنتے ہی سب کے چہرے غصے سےلال  ہو گئے۔ سب سے پہلے ایک بزرگ دانشور نے  فصیح و بلیغ پنجابی میں مصباح الحق کا شجرہ بیان کیا اور پھر اس کی” کمزوریوں”  پر حکیمانہ انداز میں روشنی ڈالی۔اس کے بعد انھوں نے فرمایا کہ مصباح سے اچھا تو وہ جنوبی افریقی ہیجڑہ ہے! اور یہ  مصباح تو پاکستانی مردوں کے نام پر بدنما دھبہ ہے۔ ایک اور مفکر نے مصباح کی شان میں قصیدہ پڑھنے کے بعد مشورہ دیا کہ( اس میں اگر غیرت ہے تو ) خودکشی کر لے۔

اس کے بعد موضوع انڈین ٹیم کی بیٹنگ کی طرف مڑ گیا۔ سب نے ٹنڈولکر کی سنچری نہ ہونے کا افسوس کیا اور کہا کہ اگر وہ سنچری کر جاتا تو پاکستان میچ جیت جاتا۔ پھر ویرات کوہلی، جسے سب پیار سے کوہلو کہہ کر پکار رہے تھے، کی تعریف کی گئی اور جب میں نے تصحیح کی کوشش کی تو مجھے اردو گرامر کے اسرار و رموز سمجھانے کے بعد بتایا گیا کہ کوہلی اور کوہلو میں کچھ خاص فرق نہیں ہے کیونکہ کوہلو کا تعلق بیل سے ہے ، بیل کا گائے سے اور گائے ہندوؤں کے نزدیک انتہائی متبرک جانور ہے جس کی نسبت پر کوہلی کو فخر ہے۔ اس سے پہلے کہ میں یہ انوکھا تعلق سمجھ پاتا، سب نے فائنل میچ میں پاکستان کے ہارنے کی پیشن گوئی کی اور اس پر پیسے بھی لگا نے شروع کر دیے۔

میں وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا اور جب واپس گھر پہنچا تو خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا۔

اگر پاکستان کرکٹ ورلڈ کپ جیت جاتا تو

%d bloggers like this: