بلاگ محفوظات

کرکٹیریا


آج شام میرا گزر ایک گروہِ مفکرین کے پاس سے ہوا جو ایک جوہڑ کے کنارے آلتی پالتی مار کر سوگوار بیٹھے ہوئے تھے اور کسی اہم موضوع پر گفت و شنید کر رہے تھے۔ مجھے تجسس ہوا اور جیسے ہی میں ان کے قریب ہوا انھوں نے مجھے اپنے پاس بیٹھنے کی دعوت دی۔ میں تشکرانہ انداز میں مودب ہو کر ان کے پاس بیٹھ گیا اور ان کی باتیں سننے لگا۔ موضوعِ بحث کرکٹ تھا اور وہ لوگ انڈیا کے ہاتھوں پاکستان کی شکست کا ماتم کر رہے تھے۔ ان کی آوازوں میں ایک عجب سا سوز تھا جس سے میں بھی اداس ہو گیا۔

ایک مفکر نے، جن کو  بیٹ پکڑنا بھی نہیں آتا تھا، پاکستانی ٹیم کی بیٹنگ کی خامیوں کو واضح کیا۔ ایک اور مفکر ، جن کو  میرے گاؤں کی کرکٹ کی تاریخ میں سب سے زیادہ مرتبہ صفر پر آؤٹ ہونے کا اعزاز حاصل ہے، پاکستانی ٹیم  کی بیٹنگ کے مستقبل سے مایوس نظر آئے۔ انھوں نے فرمایا کہ پاکستانی شکست کے پیچھے جوئے کے امکان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بعد میں مجھے علم ہوا کہ یہ صاحب پاکستان کی جیت کیلیے ۵۰۰ روپے لگا چکے تھے جو کہ ڈوب گئے۔ میں نے مودبانہ انداز میں کہا کہ میچ ہارنے کی وجہ بیٹنگ نہیں باؤلنگ تھی تو سب نے حقارت بھری نظر مجھ پر ڈالی اور پوچھا کہ کیا تم نے میچ دیکھا تھا؟ "میچ تو ہم میں سے کسی نے بھی نہیں دیکھا کیونکہ بجلی ہی نہیں تھی! ” میں نے جواب دیا اور کچھ پل کیلیے سکوت ہو گیا۔

ایک مفکر نے بیان دیا کہ یہ پاکستان اور بھارت کے مابین میچ  نہیں بلکہ خدا اور بھگوان کے درمیان جنگ تھی۔ اس سے پہلے کہ مزید کفر بکا جاتا، میں نے ان سے مصباح الحق  کی میچ کے بارے میں حکمتِ عملی کے بارے میں رائے مانگی۔ مصباح کا نام سنتے ہی سب کے چہرے غصے سےلال  ہو گئے۔ سب سے پہلے ایک بزرگ دانشور نے  فصیح و بلیغ پنجابی میں مصباح الحق کا شجرہ بیان کیا اور پھر اس کی” کمزوریوں”  پر حکیمانہ انداز میں روشنی ڈالی۔اس کے بعد انھوں نے فرمایا کہ مصباح سے اچھا تو وہ جنوبی افریقی ہیجڑہ ہے! اور یہ  مصباح تو پاکستانی مردوں کے نام پر بدنما دھبہ ہے۔ ایک اور مفکر نے مصباح کی شان میں قصیدہ پڑھنے کے بعد مشورہ دیا کہ( اس میں اگر غیرت ہے تو ) خودکشی کر لے۔

اس کے بعد موضوع انڈین ٹیم کی بیٹنگ کی طرف مڑ گیا۔ سب نے ٹنڈولکر کی سنچری نہ ہونے کا افسوس کیا اور کہا کہ اگر وہ سنچری کر جاتا تو پاکستان میچ جیت جاتا۔ پھر ویرات کوہلی، جسے سب پیار سے کوہلو کہہ کر پکار رہے تھے، کی تعریف کی گئی اور جب میں نے تصحیح کی کوشش کی تو مجھے اردو گرامر کے اسرار و رموز سمجھانے کے بعد بتایا گیا کہ کوہلی اور کوہلو میں کچھ خاص فرق نہیں ہے کیونکہ کوہلو کا تعلق بیل سے ہے ، بیل کا گائے سے اور گائے ہندوؤں کے نزدیک انتہائی متبرک جانور ہے جس کی نسبت پر کوہلی کو فخر ہے۔ اس سے پہلے کہ میں یہ انوکھا تعلق سمجھ پاتا، سب نے فائنل میچ میں پاکستان کے ہارنے کی پیشن گوئی کی اور اس پر پیسے بھی لگا نے شروع کر دیے۔

میں وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا اور جب واپس گھر پہنچا تو خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا۔

Advertisements

اگر پاکستان کرکٹ ورلڈ کپ جیت جاتا تو

مبارکباد

آج کا دن پاکستانی تاریخ کا ایک اور سنہرا دن ہے۔ آج پاکستانی حکمرانوں نے انتہائی دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی قوم کو ایک بڑی مصیبت سے بچا لیا ہے۔ لوگ تو روز ہی مرتے ہیں، قبائلی علاقوں میں، کراچی میں، بلوچستان میں، دو تین لاہور میں مارے گئے تو کون سی ایسی قیامت آ گئی تھی؟ اس میں جذباتی ہونے کی بات نہیں، اللہ کا امر ہی یہی تھا!

عوام کی بھرپور خواہش تھی کہ غریب حکمرانوں کی روزی روٹی بند ہو جائے مگر حکمرانوں نے اس چال کو ناکام بنا دیا ہے۔ اس سارے قصے میں آزاد عدلیہ کا کردار بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ عدلیہ نے عظیم عوامی دباؤ کو خاطر میں نہ لا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ صحیح معنوں میں آزاد ہے۔

ہماری ساری قوم کو آج سربسجود ہو کر شکرانے کے نفل ادا کرنے چاہییں کہ ہم اللہ کے فضل و کرم سے اس آزمائشِ عظیم سے سرخرو ہو کر نکلے۔ اگر ہم سے کوئی کوتاہی ہو جاتی تو ہمارا اس دنیا سے وجود ہی مٹ جاتا!

اور اس کے بعد کرکٹ ورلڈ کپ دیکھنے میں خود کو مشغول کر لینا چاہیے۔

اور آخر میں زندہ دلانِ لاہور کیلیے ایک پنجابی شعر،

ریمنڈ ڈیوس ہو گیا رہا
پنجابی منڈے پان بھنگڑا

اور ہاں، آپ لوگوں کے جذبات ٹھنڈے کرنے کیلیے حکومت کے پاس بسنت والا ٹیکہ بھی موجود ہے۔

دیوانے کا خواب

اگر مجھے اس ملک کا بااختیار وزیرِ اعظم بنا دیا جائے تو میں فوری طور پر یہ اقدامات کروں:

۔ تمام سیاستدانوں کے غیرملکی اکاؤنٹس میں موجود لوٹی گئی ملک کی قیمتی دولت واپس لے آؤں (اور اپنا اکاؤنٹ سوئٹزرلینڈ کے کسی اچھے سے بینک میں کھول لوں)

۔ تمام چوروں اور ڈاکوؤں کو پولیس میں بھرتی کر لوں کیونکہ پولیس بھی تو یہی کام وردی پہن کر کرتی ہے (فائدہ: بے روزگاری میں نمایاں کمی)

۔ ایک آئینی ترمیم کے ذریعے لاپتہ افراد کو ہمیشہ کیلیے لاپتہ یا مردہ قرار دے دوں اور مزید افراد کو لاپتہ کرنے پر پابندی لگا دوں (تاکہ غائب شدہ لوگوں کے لواحقین کو قرار آ جائے نیز باقی قوم لاپتہ ہونے کے خوف سے محفوظ ہو جائے)

۔ سڑکوں کے کنارے لگے رفتار محدود رکھنے والے سائن بورڈ اتروا دوں اور پورے ملک میں speed limit کے خاتمے کا اعلان کر دوں (تاکہ چند دنوں کے اندر ہی قوم کی ناک میں دم کرنے والے ہیرو ہسپتالوں میں ہوں اور گاڑیوں کی ایک بڑی تعداد ناکارہ ہو کر مزید کسی خطرے کا باعث نہ بنے)

۔ وہ تمام طالب علم جو امتحان میں فیل ہو جائیں ان کو ڈگری عطا کر دی جائے تاکہ ان کا مستقبل تاریک نہ ہو۔ اگر ایک مخصوص طبقہ پڑھے بغیر ڈگری حاصل کر سکتا ہے اور اسی ڈگری کے بل بوتے پر اسمبلی میں بیٹھ سکتا ہے تو طالبعلم اسی ڈگری کے زیادہ حق دار ہیں کیونکہ انھوں نے کم از کم کوشش تو کی (فائدہ: معاشرتی مساوات کی جانب ایک اہم قدم)

۔ یونیورسٹی اور کالج کے تمام طالبعلموں کو سال میں ایک ماہ دینی مدرسہ میں لگانے کا حکم دے دوں اسی طرح مدرسہ کے طالبعلموں کیلیے بھی سال میں ایک ماہ قریبی کالج یا یونیورسٹی میں لگانا لازمی ہو  (تاکہ دونوں طبقات ایک دوسرے کے جذبات کو بہتر طور پر سمجھ سکیں)

۔ فوج اور قبائلیوں کی صلح کرا کے دونوں گروپوں کو دنیا کے کسی دور دراز علاقے میں مشن یا جہاد پر بھیج دوں (تاکہ قوم ان کے شر سے محفوظ ہو جائے اور میری حکومت کو کوئی خطرہ نہ رہے)

۔ اسمبلی میں موجود کچھ ارکان کو تعلیمِ بالغاں کے مرکز میں زبردستی داخل کرا دوں (تاکہ اس مردہ  شعبہ کی پبلسٹی بھی ہو جائے اور ارکانِ اسمبلی کا بھلا بھی)

بہنو اور بھائیو اگر آپ میری انقلابی خیالات سے متفق نہیں تو پھر بھاڑ میں جائیں آپ۔۔



وزیراعظم پاکستان زندہ باد

وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کا ایک حالیہ بیان اس وقت میڈیا اور لوگوں میں زیرِ بحث ہے۔ آپ نے فرمایا ہے کہ "قومی اسمبلی کے رکن کیلیے تعلیمی سند کی شرط اب ختم ہو چکی ہے اور کسی کو اس بنا پر انتخاب میں حصہ لینے سے نہیں روکا جا سکتا”۔

جنابِ وزیراعظم میں آپ کی دانشمندی کا قائل تو بہت پہلے بھی تھا مگر آپ کے حالیہ بیان نے میرے دل میں آپ کی قدرومنزلت میں اور زیادہ اضافہ کر دیا ہے اور میرے کلیجے میں ٹھنڈ پڑ گئی ہے۔ آپ نے بالکل درست فرمایا ہے کیونکہ جس قوم کی اکثریت کی یہ حالت ہو کہ وہ اپنا نام بھی نہ لکھ سکیں، ان پر پڑھے لکھے لوگوں کی حکمرانی قائم ہو جائے، یہ سراسر ظلم ہو گا۔ میرا تو یہ خیال ہے کہ آپ نے تعلیم حاصل کر کے اپنا وقت ہی برباد کیا! آپ بھی جمشید دستی کی طرح جعلی ڈگری حاصل کر کے الیکشن میں حصہ لے سکتے تھے۔ چلیے اب تو ڈگری والا جھنجھٹ ہی ختم ہوا کیوں کہ "مہذب دنیا میں کہیں بھی تعلیم کی شرط ہی نہیں ہے”۔ ہم بحیثیت مہذب قوم دنیا کے سامنے شرمندہ نہیں ہونا چاہتے! یہ قوم اسی قابل ہے کہ اس پر جاہل، ان پڑھ، جعلی ڈگریوں والے، لولے لنگڑے، اندھے، مجرم اور قاتل حکمرانی کریں۔

اس موقع پر میری آپ سے فوری اپیل ہے کہ اس معرفت والی بات پر تنقید کرنے والوں کو، چاہے وہ عدلیہ سے ہوں، میڈیا سے یا چند فیصد اقلیتی پڑھے لکھے طبقے سے تعلق رکھتے ہوں، کو فوری طور پر لگام دی جائے۔ اگر وہ قابو نہ آئیں تو ان کو ایجنسیوں کی مدد سے "لاپتہ” کر دیا جائے۔ ان باتوں سے ہماری بہت زیادہ دل آزاری ہو رہی ہے۔ اخلاقیات کا نعرہ لگانے والے پہلے اپنے گریبان میں تو جھانک کر دیکھیں پھر واہیات تنقید کریں ۔ہمیں امید ہے کہ آپ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی فوری طور پر جمہوریت کی بالادستی قائم کریں گے۔

جئے بھٹو!

پاکستان کھپے!



%d bloggers like this: