بلاگ محفوظات

سیاست دان

استاد: سیاست دان کیا کرتے ہیں؟       

شاگرد ۱: عوام کو دھوکہ دیتے ہیں!

شاگرد ۲: ملکی خزانے کو لوٹتے ہیں!

شاگرد ۳: عوام کو بے وقوف بناتے ہیں!

شاگرد ۴: عوام کے ساتھ جھوٹے وعدے کرتے ہیں!

شاگرد ۵: ملک کے ساتھ غداری کرتے ہیں!

شاگرد ۶: ملک کے ٹکڑے کرتے ہیں!

شاگرد ۷: لوگوں کو قتل کرواتے ہیں!

شاگرد ۸: حرام خوری کرتے ہیں!

شاگرد ۹: بے غیرتی کرتے ہیں! 

شاگرد ۱۰: ………………………………

شاگرد ۱۱: ……………………………….

…………………………………………………

استاد: آخر آپ لوگ یہ کیوں نہیں کہتے کہ وہ "سیاست” کرتے ہیں؟

شاگرد : کیونکہ ہم طالبِ علم ہیں۔ سیاستدان نہیں!                                                                                                                                                                                  

ماوراء کا خواب

ماوراء نے خواب میں علامہ اقبال کو دیکھا۔ وہ پریشانی میں اِدھر اُدھر ٹہل رہے تھے۔ ماوراء اور علامہ اقبال کے مابین کچھ اس طرح گفتگو ہوئی:

ماوراء : اے شاعرِ مشرق آپ کیوں پریشان ہیں؟

علامہ اقبال: میں اپنی قوم کیلیے پریشان ہوں۔ اس خوابِ غفلت میں سوئی ہوئی قوم کو جگانے کیلیے میں نے کیا کیا پاپڑ نہیں بیلے۔ میں نے ہزاروں اشعار لکھے کہ مسلمان اپنی عظمتِ رفتہ کو یاد کر کے دوبارہ اٹھیں۔ مجھے ڈر ہے کہ میری محنت رائیگاں نہ گئی ہو۔ لڑکی تم مجھے بتاؤ کہ میری قوم اس وقت کس حال میں ہے؟

ماوراء : جناب آپ کو اب فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں آپ کی محنت رنگ لا چکی ہے۔ آپ کے خوابوں کی سرزمین عرضِ پاک اس وقت دنیا کا سب سے خوش حال ملک ہے۔ یہاں مسلمان اسلامی اصولوں کے عین مطابق زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہاں مکمل امن ہے اور اقلیتیں بھی بالکل محفوظ ہیں۔

علامہ اقبال: مجھے اس قوم کے حکمران کے بارے میں بتاؤ

ماوراء : اس وقت قوم کے سب سے زیرک، مدبر اور دانا شخص کے ہاتھ میں قوم کی باگ ڈور ہے۔ یہ شخص قول اور وعدے کا سچا اور پکا ہے۔ جو بات کہتا ہے کر دکھاتا ہے۔ عدلیہ کا احترام اس کے دل میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ آپ نے اپنی شاعری میں جس شاہین کا تذکرہ کیا ہے وہ شاہین یہی ہے۔

علامہ اقبال: کیا وہ میرے فلسفہء خودی سے آگاہ ہے؟

ماوراء : جی ہاں بالکل! اس نے کبھی غیروں کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا۔ اسے شاہین اور کرگس کا فرق اچھی طرح معلوم ہے۔

یہ سُن کر علامہ اقبال کے چہرے پر مسرت اور اطمینان کی لہر دوڑ گئی اور ماوراء کی شرمندگی کے مارے آنکھ کھل گئی۔


شیخ صاحب اور فقیر

فقیر: اللہ کے نام پہ کچھ دے دو صاحب!

شیخ صاحب: مانگتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آتی کیا؟ ہر روز منہ اٹھا کے مانگنے چلے آتے ہو

فقیر: ہمارے صدر کو شرم آتی ہے کیا؟ ہم بھی تو اس کی ہی رعایا ہیں

شیخ صاحب: تم کچھ کام دھندہ کیوں نہیں کر لیتے؟

فقیر: آج کل مانگنا ہی سب سے زیادہ منافع بخش دھندہ ہے

شیخ صاحب: شرم کرو

فقیر: پھر وہی بات صاحب! شرم نامی چیز کو ہمارے معاشرے سے رخصت ہوئے عرصہ ہو گیا ہے

شیخ صاحب: کبھی کوئی نیکی کا کام بھی کر لیا کرو

فقیر: نیکی کا زمانہ نہیں رہا صاحب! کبھی آپ نے زکوٰۃ نکالی؟

شیخ صاحب:  میرا سر مت کھاؤ ! چلو بھاگو یہاں سے!

فقیر: ملک سے ہی بھاگ جاؤں گا! لیکن کوئی بڑا ہاتھ مارنے کے بعد!

شیخ صاحب: آدمی سمجھدار لگتے ہو!

فقیر: جی صاحب۔ میں بی اے پاس ہوں۔۔


%d bloggers like this: