بلاگ محفوظات

مذہبی سوالنامہ

سوال ۱: ٹیچی ٹیچی، خیراتی، درشنی اور مٹھن لال کس مخلوق کے نام ہیں؟

1. انسان                               2. جن                       3. فرشتے

سوال ۲:  پیغمبرانہ بیماری کون سی ہے؟

1. بخار                                 2. دردِ سر                   3. پیچش

سوال ۳: نبی کون سی چیز ظاہر کرتا ہے؟

1.معجزہ                               2.کرامت                     3. نشان

سوال ۴: اسلام میں فرضیت جہاد کس دور میں ختم ہوئی؟

1. فتح مکہ کے بعد             2.صلیبی جنگوں کے دور میں            3. انگریزوں کے دور میں

سوال ۵: کیا ایک نبی مندرجہ ذیل عادات کا مالک ہو سکتا ہے؟

> چڑیا پکڑنا     > چھپڑ میں نہانا    > جوتے الٹے پہننا   > چابیاں ریشمی آزاربند کے ساتھ باندھنا   > آوارہ گردی اور فضول خرچی

1. ہاں                               2. نہیں

سوال ۶: کون سی مذہبی کتاب میں سینکڑوں گالیاں درج ہیں؟

1. وید                          2. گرنتھ                     3. روحانی خزائن

سوال ۷: بخار کے علاج کیلیے مرغا ذبح کر کے سر پر باندھنے کا طریقہ کس کی سائنسی ایجاد ہے؟

1. ارسطو                      2. حکیم لقمان               3. مرزا غلام احمد قادیانی

……………………………………………………………………………………………………..

نوٹ: جس سوال کی سمجھ نہ آئے تبصرہ میں پوچھ سکتے ہیں۔


Advertisements

مرزا اور عیسائیوں کے مابین مناظرہ


عبداللہ آتھم ایک مرتد عیسائی کے ساتھ مرزا قادیانی کا مناظرہ ہوا۔ مرزا کا دعویٰ تھا کہ میں مثیلِ مسیح ہوں۔ عیسائیوں نے میدانِ مناظرہ میں ایک مردہ لا کر رکھ دیا، ایک کوڑھی اور ایک اندھا لے آئے اور مرزا سے مطالبہ کیا کہ قرآن پاک میں عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہے کہ وہ مردوں کو زندہ، اندھوں کو بینا اور کوڑھیوں کو تندرست کر دیتے تھے۔ اگر تو سچا مسیح ہے تو اپنی مسیحائی دکھا کہ یہ مردہ زندہ ہو جائے، اندھا بینا ہو جائے اور کوڑھی تندرست ہو جائے۔

مرزا نے کہا کہ میں آج رات استخارہ کروں گا اگر اللہ کی طرف سے مجھے ایسا کرنے کی اجازت مل گئی تو میں ایسا کروں گا ورنہ نہیں۔ عیسائیوں نے کہا عیسیٰ علیہ السلام نے کبھی ان کاموں کیلیے استخارہ نہیں کیاتھا تُو جھوٹا ہے حیلے بہانے کرتا ہے۔ بہرحال عیسائیوں نے ایک رات کی مہلت دے دی کہ آپ اللہ تعالیٰ سے صلاح مشورہ کر کے یہ کام کر دکھائیں۔

مرزا قادیانی اگلے دن آیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے مناظرہ بند کرو کیونکہ یہ ماننے والے نہیں اور پیشن گوئی کی کہ آج کی تاریخ ( ۵ جون ۱۸۹۳) سے مخالف مناظر پندرہ ماہ کے اندر اندر بسزائے موت ہاویہ میں جا گرے گا بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور مرزا نے لکھا میں اس وقت یہ اقرار کرتا ہوں اگر یہ پیشن گوئی جھوٹی نکلی یعنی جو فریق خدا کے نزدیک جھوٹ پر ہے پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا اٹھانے کو تیار ہوں، مجھ کو ذلیل کیا جائے، منہ سیاہ کیا جائے، میرے گلے میں رسہ ڈالا جائے، مجھ کو پھانسی دی جائے، ہر ایک بات کیلیے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا ضرور کرے گا ضرور کرے گا۔ زمین و آسمان ٹل جائیں مگر اس کی باتیں نہیں ٹلیں گی اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لیے سولی تیار رکھو اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی سمجھو۔ (جنگ مقدس صفحہ ۱۸۹)

پیشن گوئی کی میعاد ۵ ستمبر ۱۸۹۴ تھی مگر آتھم نے اس تاریخ تک نہ تو عیسائیت سے توبہ کی، نہ اسلام کی طرف رجوع کیا اور نہ ہی بسزائے موت ہاویہ میں گرا۔ مرزا نے اس کو مارنے کیلیے ٹونے ٹوٹکے بھی کیے۔ آخری دن چنوں پر سورۃ الفیل کا وظیفہ بھی پڑھا اور ساری رات قادیان میں مرزا اور مرزائیوں نے بڑی آہ زاری کے ساتھ ’’یا اللہ آتھم مر جائے‘‘ کی دعائیں بھی کیں مگر سب بے سود ہوا۔ نہ آتھم پر ٹونے ٹوٹکوں کا اثر ہوا اور نہ خدا نے مرزا قادیانی کی آہ زاری اور بددعاؤں کو آتھم کے حق میں قبول فرمایا۔ آخرکار مرزا قادیانی اپنے قول کے مطابق جھوٹا، ذلیل، روسیاہ، سب سے بڑا شیطان، سب سے بڑا بدکار اور سب سے بڑا لعنتی ثابت ہوا۔

۵ستمبر کو عیسائی صلیب اور سیاہی لیکر مرزا کا منہ کالا کرنے پہنچ گئے لیکن پولیس نے ان کو آگے نہ بڑھنے دیا۔ وہ بار بار للکارتے رہے کہ او کمینے انسان تو اپنے آپ کو ’’کاسر (توڑنے والا) صلیب‘‘ کہتا ہے لیکن آج صلیبی پولیس کی وجہ سے ہی تیرا سر گردن پر ٹکا ہوا ہے۔ آخر وہ مرزا کے دروازہ پر یہ شعر لکھ کر چلے گئے


ڈھیٹ اور بے شرم بھی ہوتے ہیں دنیا میں مگر

سب پر سبقت لے گئی ہے بے حیائی آپ کی
پنجہ آتھم سے ہے مشکل رہائی آپ کی
توڑ ڈالے گا آتھم نازک کلائی آپ کی


میں عیسائیوں نے اپنی فتح کے جلوس نکالے۔ وہ گلیوں میں ناچتے تھے اور اسلام اور پیغمبر اسلام کا مذاق اڑاتے تھے۔ (سراج منیر صفحہ ۱۸)

اس پیشن گوئی کے غلط ہونے کی وجہ سے مرزا کا سالا مرزا سعید احمد عیسائی ہو گیا اور کئی مرزائی بھی عیسائی ہو گئے۔ (کتاب البریہ صفحہ ۱۰۵)

اس پیشن گوئی اور اپنے جھوٹے ہونے کے باوجود مرزا لکھتا ہے میں بہت پریشان بیٹھا تھا کہ آسمان سے ایک فرشتہ نازل ہوا جو سر سے پاؤں تک لہو لہان تھا۔ اس نے کہا کہ آج آسمان پر سارے فرشتے میری طرح ماتم کر رہے ہیں کہ آج اسلام کا بہت مذاق اڑایا گیا لیکن اس کے باوجود مرزا نے پوری ڈھٹائی سے لکھا جو ہماری فتح کا قائل نہیں اسے ولدالحرام بننے کا شوق ہے۔ (انوارالاسلام صفحہ۱۱)

%d bloggers like this: