بلاگ محفوظات

سیاست دان

استاد: سیاست دان کیا کرتے ہیں؟       

شاگرد ۱: عوام کو دھوکہ دیتے ہیں!

شاگرد ۲: ملکی خزانے کو لوٹتے ہیں!

شاگرد ۳: عوام کو بے وقوف بناتے ہیں!

شاگرد ۴: عوام کے ساتھ جھوٹے وعدے کرتے ہیں!

شاگرد ۵: ملک کے ساتھ غداری کرتے ہیں!

شاگرد ۶: ملک کے ٹکڑے کرتے ہیں!

شاگرد ۷: لوگوں کو قتل کرواتے ہیں!

شاگرد ۸: حرام خوری کرتے ہیں!

شاگرد ۹: بے غیرتی کرتے ہیں! 

شاگرد ۱۰: ………………………………

شاگرد ۱۱: ……………………………….

…………………………………………………

استاد: آخر آپ لوگ یہ کیوں نہیں کہتے کہ وہ "سیاست” کرتے ہیں؟

شاگرد : کیونکہ ہم طالبِ علم ہیں۔ سیاستدان نہیں!                                                                                                                                                                                  

دیوانے کا خواب

اگر مجھے اس ملک کا بااختیار وزیرِ اعظم بنا دیا جائے تو میں فوری طور پر یہ اقدامات کروں:

۔ تمام سیاستدانوں کے غیرملکی اکاؤنٹس میں موجود لوٹی گئی ملک کی قیمتی دولت واپس لے آؤں (اور اپنا اکاؤنٹ سوئٹزرلینڈ کے کسی اچھے سے بینک میں کھول لوں)

۔ تمام چوروں اور ڈاکوؤں کو پولیس میں بھرتی کر لوں کیونکہ پولیس بھی تو یہی کام وردی پہن کر کرتی ہے (فائدہ: بے روزگاری میں نمایاں کمی)

۔ ایک آئینی ترمیم کے ذریعے لاپتہ افراد کو ہمیشہ کیلیے لاپتہ یا مردہ قرار دے دوں اور مزید افراد کو لاپتہ کرنے پر پابندی لگا دوں (تاکہ غائب شدہ لوگوں کے لواحقین کو قرار آ جائے نیز باقی قوم لاپتہ ہونے کے خوف سے محفوظ ہو جائے)

۔ سڑکوں کے کنارے لگے رفتار محدود رکھنے والے سائن بورڈ اتروا دوں اور پورے ملک میں speed limit کے خاتمے کا اعلان کر دوں (تاکہ چند دنوں کے اندر ہی قوم کی ناک میں دم کرنے والے ہیرو ہسپتالوں میں ہوں اور گاڑیوں کی ایک بڑی تعداد ناکارہ ہو کر مزید کسی خطرے کا باعث نہ بنے)

۔ وہ تمام طالب علم جو امتحان میں فیل ہو جائیں ان کو ڈگری عطا کر دی جائے تاکہ ان کا مستقبل تاریک نہ ہو۔ اگر ایک مخصوص طبقہ پڑھے بغیر ڈگری حاصل کر سکتا ہے اور اسی ڈگری کے بل بوتے پر اسمبلی میں بیٹھ سکتا ہے تو طالبعلم اسی ڈگری کے زیادہ حق دار ہیں کیونکہ انھوں نے کم از کم کوشش تو کی (فائدہ: معاشرتی مساوات کی جانب ایک اہم قدم)

۔ یونیورسٹی اور کالج کے تمام طالبعلموں کو سال میں ایک ماہ دینی مدرسہ میں لگانے کا حکم دے دوں اسی طرح مدرسہ کے طالبعلموں کیلیے بھی سال میں ایک ماہ قریبی کالج یا یونیورسٹی میں لگانا لازمی ہو  (تاکہ دونوں طبقات ایک دوسرے کے جذبات کو بہتر طور پر سمجھ سکیں)

۔ فوج اور قبائلیوں کی صلح کرا کے دونوں گروپوں کو دنیا کے کسی دور دراز علاقے میں مشن یا جہاد پر بھیج دوں (تاکہ قوم ان کے شر سے محفوظ ہو جائے اور میری حکومت کو کوئی خطرہ نہ رہے)

۔ اسمبلی میں موجود کچھ ارکان کو تعلیمِ بالغاں کے مرکز میں زبردستی داخل کرا دوں (تاکہ اس مردہ  شعبہ کی پبلسٹی بھی ہو جائے اور ارکانِ اسمبلی کا بھلا بھی)

بہنو اور بھائیو اگر آپ میری انقلابی خیالات سے متفق نہیں تو پھر بھاڑ میں جائیں آپ۔۔



%d bloggers like this: