بلاگ محفوظات

حکایت

 بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ  

"اے پیغمبرِ خدا! میں نے ایک باغ آراستہ دیکھا ہے کہ اس میں بہت سے میوے ہیں اور میں نے دیکھا کہ اس باغ میں ایک بہت بڑا خنزیر بیٹھا ہے اور مجھ سے لوگوں نے کہا کہ یہ باغ اس خنزیر کی ملکیت ہے۔ میں اس بات سے حیران ہوں اور باغ میں  بہت سے خنزیروں کو میوے کھاتے ہوئے دیکھا  اور لوگوں نے کہا کہ یہ تمام خنزیر اس  بڑے خنزیر کے حکم سے  میوے کھاتے ہیں۔”

حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ

"وہ  بڑا خنزیر ظالم اور جابر بادشاہ ہے  اور دوسرے خنزیر  دانش مند حرام خور ہیں، جو ظالم بادشاہ کے مطیع اور تابع فرمان ہیں اور دین کو دنیا کے بدلے بیچتے ہیں۔” 

ماوراء کا خواب

ماوراء نے خواب میں علامہ اقبال کو دیکھا۔ وہ پریشانی میں اِدھر اُدھر ٹہل رہے تھے۔ ماوراء اور علامہ اقبال کے مابین کچھ اس طرح گفتگو ہوئی:

ماوراء : اے شاعرِ مشرق آپ کیوں پریشان ہیں؟

علامہ اقبال: میں اپنی قوم کیلیے پریشان ہوں۔ اس خوابِ غفلت میں سوئی ہوئی قوم کو جگانے کیلیے میں نے کیا کیا پاپڑ نہیں بیلے۔ میں نے ہزاروں اشعار لکھے کہ مسلمان اپنی عظمتِ رفتہ کو یاد کر کے دوبارہ اٹھیں۔ مجھے ڈر ہے کہ میری محنت رائیگاں نہ گئی ہو۔ لڑکی تم مجھے بتاؤ کہ میری قوم اس وقت کس حال میں ہے؟

ماوراء : جناب آپ کو اب فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں آپ کی محنت رنگ لا چکی ہے۔ آپ کے خوابوں کی سرزمین عرضِ پاک اس وقت دنیا کا سب سے خوش حال ملک ہے۔ یہاں مسلمان اسلامی اصولوں کے عین مطابق زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہاں مکمل امن ہے اور اقلیتیں بھی بالکل محفوظ ہیں۔

علامہ اقبال: مجھے اس قوم کے حکمران کے بارے میں بتاؤ

ماوراء : اس وقت قوم کے سب سے زیرک، مدبر اور دانا شخص کے ہاتھ میں قوم کی باگ ڈور ہے۔ یہ شخص قول اور وعدے کا سچا اور پکا ہے۔ جو بات کہتا ہے کر دکھاتا ہے۔ عدلیہ کا احترام اس کے دل میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ آپ نے اپنی شاعری میں جس شاہین کا تذکرہ کیا ہے وہ شاہین یہی ہے۔

علامہ اقبال: کیا وہ میرے فلسفہء خودی سے آگاہ ہے؟

ماوراء : جی ہاں بالکل! اس نے کبھی غیروں کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا۔ اسے شاہین اور کرگس کا فرق اچھی طرح معلوم ہے۔

یہ سُن کر علامہ اقبال کے چہرے پر مسرت اور اطمینان کی لہر دوڑ گئی اور ماوراء کی شرمندگی کے مارے آنکھ کھل گئی۔


%d bloggers like this: