بلاگ محفوظات

ایک امریکی کی سوچ

جیفرے شیلڈن گرین ایک سابقہ امریکی میرین فوجی تھا جس سے میری جان پہچان فیس بُک کے ذریعے ہوئی۔  گو کہ ہماری دوستی زیادہ عرصہ نہ چل سکی مگر اس دوران اس کے ساتھ میری لمبی چوڑی بحث چلتی رہی جس سے مجھ پر بعض ایسی باتوں کا بھی انکشاف ہوا جو مجھے پہلے معلوم نہ تھیں۔ اس کے نظریات ایک عام امریکی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں جو ہر جگہ ہمیں امریکی پالیسیوں میں نظر آتے ہیں۔

پہلا سوال جو اس نے مجھ سے کیا وہ یہ تھا کہ "اسلامی تعلیمات دہشت گردی پر کیوں زور دیتی ہیں؟”۔ میں نے اس کو بتایا کہ اسلام سلامتی کا مذہب ہے اور اس کی تعلیمات کا دہشت گردی سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں! اس نے پوچھا "اگر اسلام میں دہشت گردی نہیں تو تم لوگ جہاد کس چیز کو کہتے ہو؟”۔ اس کے جواب میں میں نے جہاد کی تعریف اور اسکی اقسام بیان کیں۔ میں نے اس پر واضح کیا کہ جب کسی مسلمان ملک پر کافر ملک حملہ آور ہو جائے تو جارحیت کے شکار مسلمان ملک کے ہر فرد پر جہاد فرض ہو جاتا ہے۔ اگر مسلمان ملک کمزور ہو اور حملہ آور ملک سے مقابلہ کرنے کی سکت اور وسائل نہ رکھتا ہو تو اس کے قریب ترین ہمسایہ ملک یا ممالک کے مسلمانوں پر جہاد فرض ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کی مدد کریں جو مصیبت میں ہیں۔ اگر ہمسایہ مسلمان ممالک بھی کمزور ہوں تو مزید ان کے ہمسایہ ممالک اور اسی طرح بالآخر ساری دنیا کے مسلمانوں پر جہاد فرض ہو جاتا ہے۔

ان ساری تفصیلات کا مقصد اسے یہ سمجھانا تھا کہ مسلمان چاہے دنیا کے کسی بھی کونے سے تعلق رکھتے ہوں، اپنے مظلوم عراقی، فلسطینی اور افغان بھائیوں کیلیے کیا جذبات رکھتے ہیں اور ان کی مدد کرنے کی کیوں کوشش کرتے ہیں۔

مسئلہ فلسطین پر اس کا موقف وہی تھا جو امریکی حکومت کا ہے کہ اسرائیل اپنے دفاع کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اس نے مجھے بتایا کہ حماس اور حزب اللہ دہشت گرد تنظیمیں ہیں اور ایران و شام جیسے دہشت گرد ممالک کی امداد سے چل رہی ہیں۔ یہ شطرنج کے مہرے ہیں اور اصل کھلاڑی ایران و شام وغیرہ ہیں۔  جب میں نے اسے اسرائیلی جارحیت کی مثالیں دیں تو اس نے ان کا دفاع یہ کہہ کر کیا کہ بات اتنی بھی نہیں ہوئی جتنی تم بڑھا چڑھا کر بیان کر رہے ہو۔ یہ سب من گھڑت قصے کہانیاں اور سازشی نظریات ہیں۔

اتفاق سے انہی دنوں اسرائیل غزہ پر چڑھ دوڑا اور اس نے غزہ پر وحشیانہ بمباری شروع کر دی۔  میں نے اس سے پوچھا کہ اب تو تم روز ٹی وی پر بھی دیکھتے ہو اس اندھا دھند بمباری میں روزانہ درجنوں لوگ ہلاک ہو رہے ہیں، بتاؤ اس کی کیا تو جیہہ پیش کرتے ہو؟ اس نے وجہ بیان کی کہ "دراصل یہ ہلاکتیں حماس کی وجہ سے ہو رہی ہیں کیونکہ حماس ان ہلاک ہونے والے لوگوں کو ’ڈھال‘ کے طور پر استعمال کر رہی ہے”۔ ایک میرین کے منہ سے میں یہ انوکھی وضاحت سن کر حیران رہ گیا۔

میں اس وقت یہ سوچ رہا ہوں کہ اگر میرا اس کے ساتھ رابطہ ہوتا تو میں اس سے پوچھتا کہ حماس اور حزب اللہ بقول تمہارے دہشت گرد سہی مگر اس امدادی جہاز کے کارکنوں کا کیا گناہ تھا جنہیں بلاوجہ موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اور وہ اس گھناؤنے فعل کی بھی ایک عجیب و غریب دلیل دیتا۔

میں نے جیفرے سے پوچھا کہ  سچ بتاؤ تم امریکی لوگ اسرائیل کی اتنی حمائت کیوں کرتے ہو؟ اس نے جواب دیا "میرے دوست یہ ہماری مذہبی کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ یہودیوں کی ہر ممکن مدد کرو”۔ میں نے اسے بتایا کہ کس طرح ان یہودیوں نے اپنی تحریف شدہ تورات کو تمہاری انجیل میں گھسیڑا اور کیسے اپنے لوگ تمہارے مذہبی رہنما بنائے جو بعد میں پوپ کے عہدے تک پہنچے تو اس نے میری بات کو سازشی نظریہ کہہ کر رد کر دیا۔

میں نے آخری جذباتی وار کیا "کیا تم لوگ اس بات کو بھول گئے ہو کہ یہ وہی قوم ہے جس نے تمہارے عیسیٰ ؑ کو سولی پر لٹکا دیا تھا؟”۔

اس نے جواب دیا کہ "ہم یہودی قوم کے اس کام کے لیے احسان مند ہیں کہ انھوں نے عیسیٰ ؑ کو سولی پر چڑھا دیا  اور اس طرح ہمارے گناہوں کا کفارہ ادا ہو گیا”۔


غزہ کے گرد موت کی دیوار

غزہ کو چاروں طرف سے سیل بند اور مقفل کردیا گیا ہے۔ ۴۰کلومیٹر طویل اور ۱۰کلومیٹر عریض اس پٹی میں اپنی نوع کے عجیب انسان بستے ہیں۔ ۱۵ لاکھ کی آبادی ہے، جینے کا ہر سامان ان پر حرام قرار دے دیا گیا ہے۔ ۲۷دسمبر ۲۰۰۸ء کو ان پر ۲۴ روزہ مہیب جنگ مسلط کی گئی۔ سفید فاسفورس سمیت، جلاکر بھسم کردینے والا ہر نوع کا بارود ان پر برسایا گیا، لیکن انھیں ان کے موقف سے دست بردار نہیں کیا جاسکا۔ اہلِ غزہ نے امریکا و یورپ کی مکمل سرپرستی، اور اکثر پڑوسی عرب ملکوں کی خیانت و معاونت سے حملہ آور ہونے والے صہیونی دشمن کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا۔

غزہ کا حصار اور ناکہ بندی، جنگ سے پہلے بھی جاری تھی۔ ۲۴ روزہ تباہ کن جنگ کے بعد محاصرہ شدید تر کردیا گیا۔ جنگ کے خاتمے پر کئی ممالک کی جانب سے اربوں ڈالر کی امداد دینے اور غزہ کی تعمیرنو کے اعلان اور وعدے کیے گئے۔ صدافسوس کہ تمام تر وعدے ذرائع ابلاغ کی شہ سرخیوں اور صداے بازگشت کے ہوائی گنبد میں تحلیل ہوکر رہ گئے۔ غزہ کے بند دروازوں پر جس چیز کو سب سے زیادہ چیک اور ضبط کیا جاتا ہے، وہ تعمیراتی سامان ہی ہے۔ چند کلو سیمنٹ، کیل یا سریا لے کر جانا، اسلحے یا منشیات سے زیادہ خطرناک ہے۔ ایسے میں اہلِ غزہ کے سامنے زیرزمین راستوں کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ تین اطراف میں تو ’اہلِ ایمان کے بدترین دشمن‘ یہودیوں کا گھیرا ہے، چوتھی جانب مصر کی وادیِ سینا ہے۔ غزہ اور مصر کے درمیان ۱۰کلومیٹر کی سرحد، اُونچی اُونچی باڑیں لگاکر بند کر دی گئی ہے۔ سرحد کے دونوں طرف ایک ہی نبیﷺ کے پیروکار اور ایک ہی زبان بولنے والے بستے ہیں۔ اتفاق سے دونوں طرف کی بستیوں کا نام بھی رفح ہے، لیکن درمیان میں فصیلیں، سنگینیں اور خائن حکمران حائل ہیں۔ فلسطینی اور مصری رفح کے شہریوں نے لمبی لمبی سرنگیں کھود کر ۱۵لاکھ انسانوں کے جسم و جان کا رشتہ بحال رکھنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ اگرچہ زیرزمین راستوں سے لائی جانے والی اشیا کئی گنا زیادہ مہنگی ملتیں، لیکن کسی نہ کسی طرح مل جاتیں۔ عالمی طاغوت اور اس کے پالتو حکمرانوں کو یہی بات سب سے زیادہ دکھ دینے لگی۔ امریکی صدر بش نے جاتے جاتے اسرائیلی اور مصری حکمرانوں کے ساتھ مل کر ایک منصوبہ منظور کیا۔ دنیا کو اس منصوبے کی اطلاع سب سے پہلے ایک اسرائیلی اخبار ہآرٹس کے ذریعے ملی۔ مصری حکومت نے پہلے تو اس اطلاع کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا لیکن اب اس منصوبے پر ۶۰ فی صد کام مکمل ہوچکا ہے۔

منصوبہ کیا ہے؟

فصیل، دیوار، باڑ، آہنی چادر یا خاردار تاروں کا نام لیتے ہی زمین کے اُوپر تعمیر یا کھڑی کی جانے والی مختلف رکاوٹوں کا تصور ذہن میں اُبھرتا ہے۔ لیکن یہ شاید انسانی تاریخ کا انوکھا تعمیراتی منصوبہ ہو کہ اس میں ۱۰کلومیٹر لمبی اور ۲۰ سے ۳۰میٹر (فٹ نہیں میٹر) گہری ایک فولادی دیوار زمین کے اندر تعمیر کی جارہی ہے۔ یعنی تقریباً ۵ یا ۶منزلہ عمارت کی بلندی جتنی گہری دیوار۔ بحالیِ مہاجرین کے لیے قائم کردہ اقوامِ متحدہ کے ادارے انروا (UNRWA) کی مصر میں نمایندہ، کیرین ابوزید نے اپنی مدت ملازمت کے اختتام سے چند روز پیش تر، قاہرہ کی امریکی یونی ورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے اس خصوصی فولاد کا ذکر ان الفاظ میں کیا: ’’یہ انتہائی مضبوط فولاد اسی غرض کے لیے خصوصی طور پر امریکا میں تیار کیا گیا ہے، اس پر مختلف دھماکا خیز مواد چلا کر اس کی مضبوطی کا تجربہ بھی کیا جاچکا ہے‘‘۔ یعنی اس میں نقب لگانا یا بم دھماکے سے اس میں سوراخ کرنا بھی کسی کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔ پھر مزید حفاظتی اقدامات کرتے ہوئے اس زیرزمین پوری آہنی فصیل کو برقی رَو سے جوڑ دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی مزید ایسے آلات لگا دیے گئے ہیں کہ کہیں سے اس میں شگاف ڈالا جائے توفوراً اس کا سراغ لگایا جاسکے۔

اس فولادی دیوار کے علاوہ فلسطینی علاقے کی جانب ایک خطرناک آبی دیوار قائم کی جارہی ہے۔ یہ بھی اپنی نوعیت کا ایک ناقابلِ یقین اور ہلاکت خیز منصوبہ ہے۔ اس منصوبے کے مطابق بحر متوسط سے ایک زمین دوز موٹا پائپ فولادی دیوار کے ساتھ ساتھ بچھایا جا رہا ہے۔ اس پائپ سے ہر ۳۰ سے ۴۰ میٹر کے فاصلے پر تقریباً ۵۳میٹر گہرا، چھے انچ موٹا پائپ زمین میں اُتارا جارہاہے۔ ان عمودی پائپوں میں لاتعداد سوراخ کیے گئے ہیں، طاقت ور پمپس کے ذریعے جب سمندر سے بڑے اُفقی پائپ اور وہاں سے گہرے عمودی پائپوں میں پانی چھوڑا جائے گا، تو پورا علاقہ دلدل کی صورت اختیار کرجائے گا اور وہاں کسی کے لیے سرنگیں کھودنا ممکن نہ رہے گا۔

عالمی اقتصادی بحران اور دنیا میں بڑھتی ہوئی غربت کا رونارونے والوں کے پاس، مفلوک الحال، بھوکے اور محصور فلسطینیوں کو سرنگیں کھودنے سے روکنے کے لیے شیطانی ذہنیت ہی نہیں اربوں ڈالر کا وافر خزانہ بھی ہے۔ لیکن کسی ظالم دشمن یا بے ضمیر و نام نہاد دوست نے یہ نہ سوچا، کہ اس آہنی اور آبی دیوار کے دُور رس مضر اثرات، بھوک کا شکار فلسطینیوں ہی کو نہیں پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ سمندر کا نمکین پانی پائپوں اور مشینوں کے ذریعے زمین کے پیٹ میں اُتار دینے سے، علاقے میں موجود تھوڑا بہت پینے کا پانی بھی دستیاب نہیں رہے گا۔ ۳۰ سے ۵۳ میٹر گہری آبی دیوار بنا دینے سے یہی نہیں کہ علاقے میں سرنگیں نہیں کھودی جاسکیں گی، بلکہ بالآخر پورے علاقے میں زمین کی اندرونی تہوں میں تبدیلی واقع ہوگی۔ زمین کے دھنس جانے اور کاشت کے قابل نہ رہنے کے سانحے روپذیر ہوں گے۔ ۳۰میٹر یعنی ۹۰فٹ گہری فولادی دیوار کھڑی کردینے سے زیرزمین پانی کا سفر رُک جائے گا، جس سے فلسطینی علاقے میں خشکی اور قحط، جب کہ مصری علاقے میں پانی کی سطح بلند ہوجانے اور علاقے کے سیم زدہ ہوجانے کے خدشات میں اضافہ ہوجائے گا۔ یقیناًمتعلقہ ماہرین نے اس بارے میں اپنی راے دی ہو گی، لیکن فیصلہ چونکہ امریکا میں اور اسرائیلی دباؤ پر ہوا ہے، اس لیے ’قومی مصلحت‘ قرار دیتے ہوئے تیزی سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس بارے میں سب سے زیادہ تکلیف دہ موقف مصر کی جامعہ ازہر کا ہے جس کے درباری مفتیوں نے فولادی اور آبی دیوار کو ’جائز‘ قرار دے دیا ہے کہ یہی ’آقا‘ کا حکم ہے۔

ایک عرب شاعر نے ایسے ہی موقع پر کہا تھا

جَزَی اللّٰہُ الشَّدَاءِدَ کُلَّ خَیْرٍ

عَرَفْتُ بِھَا عَدُوِّی مِنْ صَدِیْقِی

(اللہ مصیبتوں کو جزاے خیر دے کہ میں نے ان کے ذریعے دوست دشمن میں تمیز کرلی۔)

غزہ میں زندگی کی آخری رمق بچانے کی خاطر کھودی گئی سرنگیں بند ہو رہی ہیں اور اہلِ غزہ کو یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے لیے کوئی دوسرا راستہ کھول دے گا۔ لیکن گذشتہ تقریباً چار سال سے محصور غزہ کو، دنیا بھر میں انسانیت دوست چہروں کی پہچان ہوگئی ہے۔ ۲۷دسمبر کو غزہ پر جارحیت کی پہلی برسی کے موقع پر یورپ سے اڑھائی سوگاڑیوں کے ایک قافلے نے امدادی سامان لے کر غزہ جانا چاہا۔ قافلے میں مسلمان اور غیر مسلم ارکانِ پارلیمنٹ، علماے کرام، سیاسی کارکنان اور حقوقِ انسانی کی تنظیموں کے ذمہ داران سمیت تقریباً ۵۰۰ افراد شریک تھے۔

معروف برطانوی سیاسی رہنما اور رکن پارلیمنٹ، اپنی سیاسی پارٹی Respect (احترام) کے سربراہ جارج گیلوے اس قافلے کے سربراہ تھے۔ قافلے کو ’شہ رگِ حیات ۳‘ کا نام دیا گیا۔ دوامدادی قافلے اس سے قبل آچکے تھے۔ مختلف یورپی ممالک، ترکی، شام اور اُردن میں قافلے کا شان دار عوامی استقبال کیا گیا۔یہ کارواں جب بحیرۂ احمر پر واقع اُردن کی بندرگاہ عقبہ پہنچا تو وہاں سے صرف تین گھنٹے کے بحری سفر کے بعد، مصری سرزمین اور پھر رفح گیٹ وے پہنچ سکتا تھا۔ مصری انتظامیہ نے قافلے کو آنے سے روک دیا اور کہا کہ پہلے تو زمینی راستے سے واپس شام جاؤ اور پھر وہاں سے بحرمتوسط کے راستے نہرسویز عبور کرتے ہوئے دوبارہ بحیرۂ احمر میں آؤ۔ مصری بندرگاہ نویبع کے بجاے مصر ہی کی ایک اور بندرگاہ عریش پہنچو تو وہاں سے غزہ جانے کی اجازت دیں گے۔ لیکن جب امدادی سامان سمیت اڑھائی سو گاڑیوں کو بحری جہازوں اور کشتیوں میں لاد کر تین گھنٹے کے بجاے مزید پانچ دن، اور ۷۰کلومیٹر کے بجاے تقریباً ایک ہزار کلومیٹر کی مسافت طے کرنے کے بعد، قافلہ غزہ کے دروازے پر پہنچا تو پھر روک دیا گیا۔ قافلے کے یورپی ارکان نے قاہرہ میں واقع فرانسیسی اور دیگر یورپی سفارت خانوں کے باہر احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے۔ عام طور پر یہ مظاہرے رات ۱۰بجے شروع ہوکر، صبح 3 بجے تک جاری رہتے۔ آخری روز تو مصری پولیس سے باقاعدہ جھڑپ ہوگئی۔ اس موقع پر ترک حکومت نے خصوصی طور پر اور مؤثر مداخلت کی۔ ان کے ارکان اسمبلی اور حکمران پارٹی کے علاوہ اربکان صاحب کی سعادت پارٹی کے ذمہ داران بھی قافلے میں شریک تھے۔ جارج گیلوے کے مضبوط موقف، قافلے کی اکثریت یورپی شہریوں پر مشتمل ہونے اور ترکی کی شب و روز رابطوں کے نتیجے میں، بالآخر قافلے کو غزہ جانے کی اجازت دے دی گئی۔

پھر جنگ کے جو نفسیاتی اثرات مرتب ہوئے ہیں، انسان ہونے کے ناتے ان سے مکمل چھٹکارا بھی آسان نہیں ہے۔ بچے، بوڑھے، مرد و خواتین اپنے تباہ شدہ گھروں کو دیکھتے ہیں تو تمام خون آشام مناظر تازہ ہوجاتے ہیں۔ سمیرہ بعلوشہ کی عمر تقریباً تیس سال ہے، گھر کے کھنڈر دیکھتے ہی وہاں شہید ہونے والی اپنی پانچ بچیوں کے نام لے لے کر انھیں یاد کرنا شروع کردیتی ہیں۔ ڈاکٹر عونی الجرو ۱۹۹۷ء میں یوکرین سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کرکے آئے تھے۔ اب وہ غزہ کے الشفاء ہسپتال میں باطنی امراض کے معالج ہیں، اپنی آنکھوں کے سامنے اہلیہ، شیرخوار بیٹے یوسف اور ۱۲ سالہ یاسمین کے پرخچے اڑ جانے کا حال سنانا شروع کرتے ہیں۔ تو الفاظ سے زیادہ آنسوؤں کی زبان سے بات کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ جنگ میں ایک ہزار چار سو افراد شہید ہوئے تھے اور ۵ہزار گھر ڈھادیے گئے تھے۔ ہر شہید کے وارث اور ملبے کے ہر ڈھیر سے صہیونی درندگی کی نئی سے نئی داستان سننے کو ملتی ہے۔

ڈاکٹر مروان بتارہے تھے کہ دیگر بہت سے اُمور کے علاوہ ایک قرآنی معجزہ یہ بھی سامنے آرہا ہے کہ حماس کے حفظ قرآن کیمپوں میں لوگ ۶۰ روز کے اندر مکمل قرآن کریم حفظ کر رہے ہیں۔ بچے ہی نہیں بڑے بھی، مرد ہی نہیں خواتین بھی، جب ایک بار ارادہ اور آغاز کرلیتے ہیں تو بظاہر مشکل، بلکہ ناممکن نظر آنے والا ہدف بآسانی حاصل ہوجاتا ہے۔ ڈاکٹر مروان کے بقول اب تک غزہ میں ۱۵ ہزار سے زائد افراد مختصر مدت میں مکمل قرآن حفظ کرچکے ہیں۔ کہنے لگے میرا اپنا بیٹا پہلے کہتا تھا: ’’بابا ایک دن میں دس صفحات یعنی آدھا پارہ حفظ نہیں کرسکتا‘‘ پھر جب اللہ کا نام لے کر کیمپ میں شریک ہوگیا تو الحمد للہ دو ماہ میں مکمل قرآن حفظ کرلیا۔ یہ الٰہی اور قرآنی معجزہ ہم اہلِ غزہ کے لیے، اللہ کی طرف سے اعلان ہے کہ وہ ہمارے ساتھ ہے۔

القدس کانفرنس سے متصل ۱۴ اور ۱۵ جنوری کو ’مزاحمت کے ساتھ‘ کے عنوان سے ایک اور کانفرنس کا آغاز ہوگیا۔ سالانہ القدس کانفرنس کا اہتمام القدس فاؤنڈیشن کرتی ہے۔ علامہ یوسف القرضاوی کی زیر صدارت یہ تنظیم خصوصی طور پر اہل بیت المقدس اور مسجد اقصی کی نصرت کے لیے قائم کی گئی ہے۔ اس کے بہت سارے تعلیمی، تعمیراتی اور صحت کے منصوبے گذشتہ سات برس میں پایہء تکمیل تک پہنچ چکے ہیں اور مزید پر کام جاری ہے۔ مزاحمت کے ساتھ مَعَ المُقَاوَمَۃ کے عنوان سے ہونے والی کانفرنس ’بین الاقوامی عرب فورم براے نصرت مزاحمت‘ کے زیر اہتمام ہوئی تھی۔ دونوں کانفرنسوں کے بہت سے شرکا مشترک بھی تھے اور کئی الگ الگ بھی۔ دوسری کانفرنس میں عرب قومیت کی سرخیل شخصیات بھی پیش پیش تھیں۔ افتتاحی سیشن سے سب سے پہلے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے خطاب کیا۔ ان کا خطاب سیٹلائٹ کے ذریعے براہِ راست دکھایا گیا۔ مفصل خطاب کے آخر میں انھوں نے ایک جملہ یہ بھی کہا کہ ’’اسرائیل دوبارہ جارحیت کی تیاریاں تو کررہا ہے لیکن اسے جان لینا چاہیے کہ آیندہ کسی بھی جنگ میں ہم ان شاء اللہ خطے کا نقشہ بدل کر رکھ دیں گے‘‘۔ ان کے بعد حماس کے سربراہ خالد المشعل کا خطاب تھا پھر عراقی تحریک مزاحمت کی طرف حارث الضاری پھر علامہ یوسف القرضاوی اور شام و لبنان کی حکومتوں کے پیغامات تھے۔
کانفرنس میں مغربی ممالک سے بھی بڑی تعداد میں اسکالر، ارکان پارلیمنٹ، اور اہم شخصیات موجود تھیں۔ معروف امریکی مصنف رمزے کلارک کا خطاب بھی اگرچہ مختصر تھا لیکن امریکی دوغلے پن اور اسرائیلی شیطنت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کررہا تھا۔ اگلے روز محترم عبد الرشید ترابی اور راقم نے تحریک مزاحمت کشمیر اور افغانستان و پاکستان کی صورت حال پر گفتگو کی۔ کانفرنس کے اکثر شرکا فلسطین، عراق اور افغانستان ہی کی طرح پاکستان کے بارے میں بھی گہری تشویش کا اظہار کررہے تھے۔ یہ بدقسمتی کی بات تھی کہ پاکستان اور پاکستانی عوام سے اظہار محبت کے باوجود کوئی ایک فرد ایسا نہیں تھا کہ جو پاکستانی حکومت کے بارے میں کلمۂ خیر کہہ رہا ہو۔ حالانکہ کانفرنس میں ۵۰ فی صد سے زائد لوگ اسلام سے کوئی خاص ذہنی وابستگی نہیں رکھتے تھے۔ پرویز مشرف نے بھی مسلم دنیا کی بڑی نفرتیں سمیٹی ہیں، لیکن اب زرداری صاحب ان سے بھی کئی ہاتھ آگے بڑھ چکے ہیں۔
دوسری طرف عین کانفرنس کے دنوں میں ترکی کا ایک اور شان دار موقف سب کو سربلند کرگیا۔ ترک ٹی وی پر ان دنوں ایک ڈراما سیریز چل رہی ہے: ’بھیڑیوں کی وادی‘۔ اس سیریز میں اسرائیلی مظالم کی بھرپور عکاسی کی گئی ہے۔ اس پر احتجاج کرنے کے لیے تل ابیب میں ترک سفیر کو وزارت خارجہ بلایا گیا۔ پہلے تو سفیر صاحب کو نائب وزیر خارجہ دانی ایالون کے دفتر کے دروازے پر منتظر کھڑا رکھا گیا۔ کئی منٹ کے انتظار کے بعد دروازہ کھلا تو دانی ایالون اور اس کے ساتھیوں نے سفیر صاحب کا استقبال کرتے ہوئے انھیں ایک نسبتاً نچلے صوفے پر بٹھایا اور خود ان کے سامنے اونچی کرسیوں پر بیٹھ گیا۔ درمیانی میز پر بھی سفارتی آداب کے مطابق دونوں ملکوں کے بجاے، صرف اسرائیل کا پرچم پڑا تھا۔ خیر ملاقات ختم ہوئی اور وزارت خارجہ کی طرف سے ذرائع ابلاغ کو خصوصی ہدایات کے ساتھ ان تینوں پہلوؤں کو نمایاں کروادیا گیا

اس پر ترک صدر عبد اللہ گل اور وزیر اعظم رجب طیب اردوگان کی طرف سے سخت احتجاج کیا گیا۔ اسرائیلی وزارت خارجہ نے اس پر بذریعہ فون ترکی سے رسمی معذرت کرلی۔ لیکن صدر گل کی طرف سے کہا گیا کہ نہیں اگر آج شام سے پہلے پہلے، اسرائیل پوری ترک قوم سے باقاعدہ اور تحریری معذرت نہیں کرتا، تو ہم پہلے قدم کے طور پر اولین پرواز سے اپنا سفیر واپس بلالیں گے۔ یہ سن کر اسرائیل میں کھلبلی مچ گئی۔ فوراً کئی ارکان اسمبلی اور ماہرین خارجہ اُمور نے مل کر ایک معذرت نامہ ڈرافٹ کیا اور جاری کرنے سے پہلے ترک صدر کو بھجوایا کہ ڈرافٹ خود ملاحظہ کرلیں، اگر مزید کچھ لکھنا ہے تو وہ لکھ کر بھی معذرت کو تیار ہیں۔

اپنے علاوہ کسی کو انسان نہ سمجھنے والے اسرائیل کا یوں گھٹنے ٹیک دینا، دنیا کے لیے بہت سے پیغام رکھتا تھا جس کا اظہار اہل فلسطین نے خصوصی طور پر کیا۔ ’شہ رگِ حیات ۳‘ کے غزہ جانے کے بعد یہ دوسرا ترک موقف تھا، جس نے ترک حکومت کا مقام و مرتبہ بلند کیا۔ یقیناًاس سے پہلے ڈیووس کانفرنس سے طیب اردوگان کا احتجاجی بائیکاٹ اور جنگ غزہ کے دوران فلسطینیوں کے زخم پر پھاہا رکھنے کی کوششیں بھی سب کو یاد ہیں۔ ترکی کے اس نمایاں کردار کے باعث اب عرب دنیا ’دور عثمانی کی واپسی‘ جیسے عنوانات سے بے شمار تجزیے لکھ اور دیکھ رہی ہے۔ اسی ترک کردار کے باعث حال ہی میں سعودی عرب نے رجب طیب اردوگان کو خدمتِ اسلام کا شاہ فیصل عالمی ایوارڈ دینے کا اعلان کیا ہے۔  ترکی کے اس روشن موقف کے تناظر میں، پڑوسی اور عرب برادر ملک مصر کاغزہ کے گرد دیوار موت تعمیر کرنا سب کو کَھل رہا تھا۔ تقریباً سب شرکا نے اس پر بات بھی کی۔ اس موقع پر اخوان المسلمون کے ایک رکن نے کھڑے ہوکر مصری حکومت کے ان اقدامات سے براء۱ت کا اظہار کرتے ہوئے مصری عوام کی ترجمانی کی۔ انھوں نے بتایا کہ اس کانفرنس میں قاہرہ سے اخوان المسلمون کے ۲۴ ارکان پارلیمنٹ اپنا یہی قومی موقف واضح کرنے آئے ہیں۔

گذشتہ ۳۰ سال سے مصری عوام پر مسلط صدر حسنی مبارک، غزہ سے آنے والی چیخوں اور اپنے عوام کے دل کی بات نہیں سن رہے تو کم از کم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد مبارک ہی دل کے کانوں سے سن لیں: ’’بنی اسرائیل کی ایک خاتون کو صرف اس لیے جہنم میں پھینک دیا گیا کہ اس نے اپنی بلی کو قید کر رکھا تھا۔ نہ تو اسے کچھ کھانے کو دیا اور نہ ہی اسے آزاد کیا کہ وہ خود کچھ کھالے‘‘۔

جناب حسنی مبارک! اے عرب حکمرانو! دنیا بھر کے غیور لوگو! غزہ میں انسانوں کو قید کرنے کی سزا کیا ہوگی؟ اور وہ بھی ایک دو نہیں، ۱۵ لاکھ انسانوں کو!

اقتباس تحریر: عبدالغفار عزیز (ماہنامہ ترجمان القرآن)

الجزیرہ نیٹ

%d bloggers like this: