بلاگ محفوظات

انقلابی بھینسا

 

کسی جنگل میں ایک بھینسا رہتا تھا۔ جنگل کے جس حصے میں وہ قیام پذیر تھا وہاں گھاس کی کافی قلت تھی۔ وہ چرنے کیلیے جنگل کے دیگر قطعوں میں جانے سے ڈرتا تھا کیوں کہ وہاں دیگر جانوروں کا راج تھا اور وہ اسے ادھر پھٹکنے نہیں دیتے تھے اور اسے مار بھگاتے تھے۔ اس صورتحال کی وجہ سے بھینسا بہت کمزور ہو گیا۔ 

ایک رات بھینسا سویا ہوا تھا کہ اسے خواب میں ایک بزرگ بھینسے کی روح کی زیارت ہوئی۔ انہوں نے اسے حالات تبدیل کرنے کیلیے جنگل کی سیاست میں عملی حصہ لینے کا مشورہ دیا اور کامیابی کی بشارت بھی دی۔ صبح اٹھ کر بھینسے نے بزرگ بھینسے کی روح کے مشورے پر عمل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

ابتدا میں بھینسے نے اپنے قطعہ کے کمزور جانوروں کو اکٹھا کیا اور انہیں ان کے بنیادی حقوق سے آگاہ کیا۔ آہستہ آہستہ جانوروں کا ایک گروہ اس کا ہم خیال بن گیا اور انہوں نے جنگل کے دیگر قطعوں میں ابھی اپنے انقلابی نظریات کا پرچار کرنا شروع کر دیا۔ وقت گزرتا گیا اور بھینسے کے گرد بے شمار جانور اکٹھے ہو گئے جن میں اکثر خونخوار درندے بھی شامل تھے۔ اب بھینسے نے انہیں جنگل کا کنٹرول حاصل کرنے کا حکم دے دیا اور جنگل میں ایک نہ ختم ہونے والا خون خرابہ شروع ہو گیا۔

جنگ کے دوران جب بھینسے پر بھی حملے ہوئے تو وہ جان بچانے کیلیے ایک دور دراز جنگل میں بھاگ گیا اور وہاں پناہ حاصل کی۔ وہاں کی آب و ہوا اور خوراک بھینسے کو خوب راس آئی اور اس کی گردن اور منہ خوب موٹے ہو گئے اور پیٹ کا حجم تین گنا ہو گیا۔ 

اب بھینسا وہاں موٹاپے کی وجہ سے عجیب و غریب آواز میں ڈکراتا پھرتا ہے اور وہاں سے اپنے گروہ کو جنگی ہدایات بھیجتا رہتا ہے اور اس کے گروہ کے جانور جنگل میں اقتدار کی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 

بعض جانور اسے مشورہ دیتے ہیں کہ واپس اپنے جنگل میں چلے جاؤ مگر بھینسا انتہائی سیانا ہو چکا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ انقلاب اپنے رہنما کا خون مانگتا ہے اور بھینسے کو اپنی جان بہت پیاری ہے۔ 

Advertisements

طاقت کی حکومت

کہتے ہیں کہ کسی جنگل میں ایک شیر شکار کو نکلا۔ اس نے اپنے ساتھ لومڑی اور گیدڑ کو بھی ملا لیا۔ شام کو جب شکار کی تقسیم کا وقت آیا تو شیر نے دونوں کو حکم دیا کہ شکار تقسیم کیا جائے۔ گیدڑ اور لومڑی نے عرض کی کہ "آپ تقسیم فرمائیں”۔

لومڑی اور گیدڑ کی یہ عاجزی دیکھ کر شیر نے شکار کے تین حصے کیے۔ ایک حصہ اپنے سامنے رکھ لیا کہ "میں بھی شکار میں شامل تھا”۔

دوسرا حصہ بھی اپنے سامنے گھسیٹ لیا اور دونوں کو بتایا کہ "میں چونکہ بادشاہ ہوں لہٰذا اس حصے پر میرا حق ہے”۔

اور تیسرے حصے پر اپنا پنجہ رکھ دیا اور کہا کہ "اگر ہمت ہے تو اٹھا لو”۔

اتنی ذلالت اور بے عزتی کے باوجود بھی لومڑی اور گیدڑ جب اپنے اپنے قبیلوں میں واپس گئے تو خوشی کے مارے پھولے نہیں سماتے تھے کہ انہیں بھی بادشاہ کے ہمراہ شکار کھیلنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔  

%d bloggers like this: