Category Archives: اسلام

مذہبی سوالنامہ

سوال ۱: ٹیچی ٹیچی، خیراتی، درشنی اور مٹھن لال کس مخلوق کے نام ہیں؟

1. انسان                               2. جن                       3. فرشتے

سوال ۲:  پیغمبرانہ بیماری کون سی ہے؟

1. بخار                                 2. دردِ سر                   3. پیچش

سوال ۳: نبی کون سی چیز ظاہر کرتا ہے؟

1.معجزہ                               2.کرامت                     3. نشان

سوال ۴: اسلام میں فرضیت جہاد کس دور میں ختم ہوئی؟

1. فتح مکہ کے بعد             2.صلیبی جنگوں کے دور میں            3. انگریزوں کے دور میں

سوال ۵: کیا ایک نبی مندرجہ ذیل عادات کا مالک ہو سکتا ہے؟

> چڑیا پکڑنا     > چھپڑ میں نہانا    > جوتے الٹے پہننا   > چابیاں ریشمی آزاربند کے ساتھ باندھنا   > آوارہ گردی اور فضول خرچی

1. ہاں                               2. نہیں

سوال ۶: کون سی مذہبی کتاب میں سینکڑوں گالیاں درج ہیں؟

1. وید                          2. گرنتھ                     3. روحانی خزائن

سوال ۷: بخار کے علاج کیلیے مرغا ذبح کر کے سر پر باندھنے کا طریقہ کس کی سائنسی ایجاد ہے؟

1. ارسطو                      2. حکیم لقمان               3. مرزا غلام احمد قادیانی

……………………………………………………………………………………………………..

نوٹ: جس سوال کی سمجھ نہ آئے تبصرہ میں پوچھ سکتے ہیں۔


ایک امریکی کی سوچ

جیفرے شیلڈن گرین ایک سابقہ امریکی میرین فوجی تھا جس سے میری جان پہچان فیس بُک کے ذریعے ہوئی۔  گو کہ ہماری دوستی زیادہ عرصہ نہ چل سکی مگر اس دوران اس کے ساتھ میری لمبی چوڑی بحث چلتی رہی جس سے مجھ پر بعض ایسی باتوں کا بھی انکشاف ہوا جو مجھے پہلے معلوم نہ تھیں۔ اس کے نظریات ایک عام امریکی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں جو ہر جگہ ہمیں امریکی پالیسیوں میں نظر آتے ہیں۔

پہلا سوال جو اس نے مجھ سے کیا وہ یہ تھا کہ "اسلامی تعلیمات دہشت گردی پر کیوں زور دیتی ہیں؟”۔ میں نے اس کو بتایا کہ اسلام سلامتی کا مذہب ہے اور اس کی تعلیمات کا دہشت گردی سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں! اس نے پوچھا "اگر اسلام میں دہشت گردی نہیں تو تم لوگ جہاد کس چیز کو کہتے ہو؟”۔ اس کے جواب میں میں نے جہاد کی تعریف اور اسکی اقسام بیان کیں۔ میں نے اس پر واضح کیا کہ جب کسی مسلمان ملک پر کافر ملک حملہ آور ہو جائے تو جارحیت کے شکار مسلمان ملک کے ہر فرد پر جہاد فرض ہو جاتا ہے۔ اگر مسلمان ملک کمزور ہو اور حملہ آور ملک سے مقابلہ کرنے کی سکت اور وسائل نہ رکھتا ہو تو اس کے قریب ترین ہمسایہ ملک یا ممالک کے مسلمانوں پر جہاد فرض ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کی مدد کریں جو مصیبت میں ہیں۔ اگر ہمسایہ مسلمان ممالک بھی کمزور ہوں تو مزید ان کے ہمسایہ ممالک اور اسی طرح بالآخر ساری دنیا کے مسلمانوں پر جہاد فرض ہو جاتا ہے۔

ان ساری تفصیلات کا مقصد اسے یہ سمجھانا تھا کہ مسلمان چاہے دنیا کے کسی بھی کونے سے تعلق رکھتے ہوں، اپنے مظلوم عراقی، فلسطینی اور افغان بھائیوں کیلیے کیا جذبات رکھتے ہیں اور ان کی مدد کرنے کی کیوں کوشش کرتے ہیں۔

مسئلہ فلسطین پر اس کا موقف وہی تھا جو امریکی حکومت کا ہے کہ اسرائیل اپنے دفاع کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اس نے مجھے بتایا کہ حماس اور حزب اللہ دہشت گرد تنظیمیں ہیں اور ایران و شام جیسے دہشت گرد ممالک کی امداد سے چل رہی ہیں۔ یہ شطرنج کے مہرے ہیں اور اصل کھلاڑی ایران و شام وغیرہ ہیں۔  جب میں نے اسے اسرائیلی جارحیت کی مثالیں دیں تو اس نے ان کا دفاع یہ کہہ کر کیا کہ بات اتنی بھی نہیں ہوئی جتنی تم بڑھا چڑھا کر بیان کر رہے ہو۔ یہ سب من گھڑت قصے کہانیاں اور سازشی نظریات ہیں۔

اتفاق سے انہی دنوں اسرائیل غزہ پر چڑھ دوڑا اور اس نے غزہ پر وحشیانہ بمباری شروع کر دی۔  میں نے اس سے پوچھا کہ اب تو تم روز ٹی وی پر بھی دیکھتے ہو اس اندھا دھند بمباری میں روزانہ درجنوں لوگ ہلاک ہو رہے ہیں، بتاؤ اس کی کیا تو جیہہ پیش کرتے ہو؟ اس نے وجہ بیان کی کہ "دراصل یہ ہلاکتیں حماس کی وجہ سے ہو رہی ہیں کیونکہ حماس ان ہلاک ہونے والے لوگوں کو ’ڈھال‘ کے طور پر استعمال کر رہی ہے”۔ ایک میرین کے منہ سے میں یہ انوکھی وضاحت سن کر حیران رہ گیا۔

میں اس وقت یہ سوچ رہا ہوں کہ اگر میرا اس کے ساتھ رابطہ ہوتا تو میں اس سے پوچھتا کہ حماس اور حزب اللہ بقول تمہارے دہشت گرد سہی مگر اس امدادی جہاز کے کارکنوں کا کیا گناہ تھا جنہیں بلاوجہ موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اور وہ اس گھناؤنے فعل کی بھی ایک عجیب و غریب دلیل دیتا۔

میں نے جیفرے سے پوچھا کہ  سچ بتاؤ تم امریکی لوگ اسرائیل کی اتنی حمائت کیوں کرتے ہو؟ اس نے جواب دیا "میرے دوست یہ ہماری مذہبی کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ یہودیوں کی ہر ممکن مدد کرو”۔ میں نے اسے بتایا کہ کس طرح ان یہودیوں نے اپنی تحریف شدہ تورات کو تمہاری انجیل میں گھسیڑا اور کیسے اپنے لوگ تمہارے مذہبی رہنما بنائے جو بعد میں پوپ کے عہدے تک پہنچے تو اس نے میری بات کو سازشی نظریہ کہہ کر رد کر دیا۔

میں نے آخری جذباتی وار کیا "کیا تم لوگ اس بات کو بھول گئے ہو کہ یہ وہی قوم ہے جس نے تمہارے عیسیٰ ؑ کو سولی پر لٹکا دیا تھا؟”۔

اس نے جواب دیا کہ "ہم یہودی قوم کے اس کام کے لیے احسان مند ہیں کہ انھوں نے عیسیٰ ؑ کو سولی پر چڑھا دیا  اور اس طرح ہمارے گناہوں کا کفارہ ادا ہو گیا”۔


شیخ احمد کا پیغام

شیخ احمد نے مدینہ سے یہ خبر بھیجی ہے کہ جمعہ کی ایک رات وہ قرآن کی تلاوت کرتے کرتے سو گئے اور خواب میں حضورپاک ﷺ کی زیارت کی۔  دیکھا کہ حضور پاک ﷺ سامنے کھڑے ہیں اور فرما رہے ہیں:

ایک ہفتے میں سات ہزار لوگ مرے مگر ان میں سچا مسلمان ایک بھی نہ تھا۔ ان میں سے کوئی بھی اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار نہیں تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ برا وقت ہے۔ بیویاں شوہروں کی تابعدار نہیں ہیں، لڑکیاں پردہ کیے بغیر ادھر اُدھر گھومتی ہیں اور اپنے والدین کا احترام نہیں کرتیں۔ امیر غریبوں کی مدد نہیں کرتے اور نہ ہی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید فرمایا کہ اے شیخ احمد! لوگوں کو کہو کہ نماز پڑھا کریں، روزے رکھا کریں اور زکوٰۃ ادا کیا کریں کیونکہ فیصلے کا دن قریب ہی ہے۔ جب آسمان پر صرف ایک ستارہ رہ جائے گا تو معافی کا دروازہ بند ہو جائے گا۔ قرآن اُٹھا لیا جائے گا اور سورج زمین کے قریب آ جائے گا۔

حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو میری یہ بات سنے اور دوسروں تک پہنچائے میں روزِ قیامت اس کی شفاعت کروں گا اور اسے جنت میں داخل کرواؤں گا۔ جو منکر ہے اس پر جنت کے دروازے بند ہیں۔

اگر کوئی  آدمی اس خبر کو پھیلائے گا تو اس کی دلی مراد تین دن میں پوری ہو گی۔ ایک آدمی جس نے اسے ۴۰ لوگوں میں پھیلایا، اُسے ۸۰ ہزار کا فائدہ ہوا۔ ایک آدمی نے اسے جھوٹا جانا تو اس کا بیٹا مر گیا۔ براہِ مہربانی اسے جھوٹ مت سمجھیے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں میں پھیلائیے۔

یہ وہ کہانی ہے جو ہم بچپن سے سنتے آ رہے ہیں۔ اُس وقت یہ پیغام فوٹو سٹیٹ مشین کی کاپیوں پر ہر جگہ دستیاب ہوتا تھا۔ جس آدمی کے ہاتھ میں یہ پرچہ ہوتا، وہ فوٹو سٹیٹ مشین والے کی طرف رواں ہوتا تاکہ اس کی چالیس کاپیاں کروا کے ثوابِ دارین کے علاوہ مالی فائدہ بھی حاصل کر سکے اور دوسرے لوگ کترا کر گزرتے کہ کہیں انہیں بھی یہ پڑھنے کے بعد پرچہ چھپوانا نہ پڑ جائے۔ اس آدمی کو مالی فائدہ ہوتا یا نہیں مگر فوٹو سٹیٹ مشین والے کو ضرور مالی فائدہ پہنچتا۔

مجھے یہ کہانی اس لیے یاد آئی کہ مجھے آج  یہی پیغام ای میل کی صورت میں موصول ہوا۔ اور جس نے بھیجا وہ ٹرینیڈاڈ کا رہنے والا ہمارا ایک مسلمان بھائی ہے۔ آپ سب کو مبارک ہو کہ صرف ہم ہی نہیں بلکہ ہم سے ہزاروں میل دور ایک چھوٹے سے سمندری جزیرے پر رہنے والے مسلمان بھی بہت با شعور ہیں اور اب اسلام کو کوئی خطرہ نہیں۔

مرزا اور عیسائیوں کے مابین مناظرہ


عبداللہ آتھم ایک مرتد عیسائی کے ساتھ مرزا قادیانی کا مناظرہ ہوا۔ مرزا کا دعویٰ تھا کہ میں مثیلِ مسیح ہوں۔ عیسائیوں نے میدانِ مناظرہ میں ایک مردہ لا کر رکھ دیا، ایک کوڑھی اور ایک اندھا لے آئے اور مرزا سے مطالبہ کیا کہ قرآن پاک میں عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہے کہ وہ مردوں کو زندہ، اندھوں کو بینا اور کوڑھیوں کو تندرست کر دیتے تھے۔ اگر تو سچا مسیح ہے تو اپنی مسیحائی دکھا کہ یہ مردہ زندہ ہو جائے، اندھا بینا ہو جائے اور کوڑھی تندرست ہو جائے۔

مرزا نے کہا کہ میں آج رات استخارہ کروں گا اگر اللہ کی طرف سے مجھے ایسا کرنے کی اجازت مل گئی تو میں ایسا کروں گا ورنہ نہیں۔ عیسائیوں نے کہا عیسیٰ علیہ السلام نے کبھی ان کاموں کیلیے استخارہ نہیں کیاتھا تُو جھوٹا ہے حیلے بہانے کرتا ہے۔ بہرحال عیسائیوں نے ایک رات کی مہلت دے دی کہ آپ اللہ تعالیٰ سے صلاح مشورہ کر کے یہ کام کر دکھائیں۔

مرزا قادیانی اگلے دن آیا اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے مناظرہ بند کرو کیونکہ یہ ماننے والے نہیں اور پیشن گوئی کی کہ آج کی تاریخ ( ۵ جون ۱۸۹۳) سے مخالف مناظر پندرہ ماہ کے اندر اندر بسزائے موت ہاویہ میں جا گرے گا بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور مرزا نے لکھا میں اس وقت یہ اقرار کرتا ہوں اگر یہ پیشن گوئی جھوٹی نکلی یعنی جو فریق خدا کے نزدیک جھوٹ پر ہے پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہاویہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا اٹھانے کو تیار ہوں، مجھ کو ذلیل کیا جائے، منہ سیاہ کیا جائے، میرے گلے میں رسہ ڈالا جائے، مجھ کو پھانسی دی جائے، ہر ایک بات کیلیے تیار ہوں اور میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ ضرور ایسا ہی کرے گا ضرور کرے گا ضرور کرے گا۔ زمین و آسمان ٹل جائیں مگر اس کی باتیں نہیں ٹلیں گی اگر میں جھوٹا ہوں تو میرے لیے سولی تیار رکھو اور تمام شیطانوں اور بدکاروں اور لعنتیوں سے زیادہ مجھے لعنتی سمجھو۔ (جنگ مقدس صفحہ ۱۸۹)

پیشن گوئی کی میعاد ۵ ستمبر ۱۸۹۴ تھی مگر آتھم نے اس تاریخ تک نہ تو عیسائیت سے توبہ کی، نہ اسلام کی طرف رجوع کیا اور نہ ہی بسزائے موت ہاویہ میں گرا۔ مرزا نے اس کو مارنے کیلیے ٹونے ٹوٹکے بھی کیے۔ آخری دن چنوں پر سورۃ الفیل کا وظیفہ بھی پڑھا اور ساری رات قادیان میں مرزا اور مرزائیوں نے بڑی آہ زاری کے ساتھ ’’یا اللہ آتھم مر جائے‘‘ کی دعائیں بھی کیں مگر سب بے سود ہوا۔ نہ آتھم پر ٹونے ٹوٹکوں کا اثر ہوا اور نہ خدا نے مرزا قادیانی کی آہ زاری اور بددعاؤں کو آتھم کے حق میں قبول فرمایا۔ آخرکار مرزا قادیانی اپنے قول کے مطابق جھوٹا، ذلیل، روسیاہ، سب سے بڑا شیطان، سب سے بڑا بدکار اور سب سے بڑا لعنتی ثابت ہوا۔

۵ستمبر کو عیسائی صلیب اور سیاہی لیکر مرزا کا منہ کالا کرنے پہنچ گئے لیکن پولیس نے ان کو آگے نہ بڑھنے دیا۔ وہ بار بار للکارتے رہے کہ او کمینے انسان تو اپنے آپ کو ’’کاسر (توڑنے والا) صلیب‘‘ کہتا ہے لیکن آج صلیبی پولیس کی وجہ سے ہی تیرا سر گردن پر ٹکا ہوا ہے۔ آخر وہ مرزا کے دروازہ پر یہ شعر لکھ کر چلے گئے


ڈھیٹ اور بے شرم بھی ہوتے ہیں دنیا میں مگر

سب پر سبقت لے گئی ہے بے حیائی آپ کی
پنجہ آتھم سے ہے مشکل رہائی آپ کی
توڑ ڈالے گا آتھم نازک کلائی آپ کی


میں عیسائیوں نے اپنی فتح کے جلوس نکالے۔ وہ گلیوں میں ناچتے تھے اور اسلام اور پیغمبر اسلام کا مذاق اڑاتے تھے۔ (سراج منیر صفحہ ۱۸)

اس پیشن گوئی کے غلط ہونے کی وجہ سے مرزا کا سالا مرزا سعید احمد عیسائی ہو گیا اور کئی مرزائی بھی عیسائی ہو گئے۔ (کتاب البریہ صفحہ ۱۰۵)

اس پیشن گوئی اور اپنے جھوٹے ہونے کے باوجود مرزا لکھتا ہے میں بہت پریشان بیٹھا تھا کہ آسمان سے ایک فرشتہ نازل ہوا جو سر سے پاؤں تک لہو لہان تھا۔ اس نے کہا کہ آج آسمان پر سارے فرشتے میری طرح ماتم کر رہے ہیں کہ آج اسلام کا بہت مذاق اڑایا گیا لیکن اس کے باوجود مرزا نے پوری ڈھٹائی سے لکھا جو ہماری فتح کا قائل نہیں اسے ولدالحرام بننے کا شوق ہے۔ (انوارالاسلام صفحہ۱۱)

%d bloggers like this: