Category Archives: طنز و مزاح

سیلفی

موجودہ زمانے میں سب سے زیادہ کس چیز کا رواج ہے؟ اس سوال کا جواب بچہ بچہ جانتا ہے. جی ہاں. سیلفی! 

یہ وہ لت ہے جو اس وقت بلا تفریق مذہب و رنگ و نسل دنیا بھر کے لوگوں کو لگ چکی ہے. خود کو ہیرو سمجھنے والے بچے، نوجوان، جوان اور بڈھے بابے منھ کے طرح طرح کے زاویے بناتے ہوئے موبائل ہاتھ میں لے کر اپنی تصویریں کھینچتے اور فیس بُک پر  شیئر کرتے نظر آتے ہیں. بظاہر ان کا مقصد دنیا کو اپنے حسن سے متاثر کرنا ہوتا ہے لیکن درحقیقت  ان کے دماغ میں کیا کیڑا ہوتا ہے، وہی بہتر جانتے ہیں.

اسی طرح وہ حسن کی دیویاں جو اپنا حسن چھپانا بھی چاہتی ہیں اور رہ بھی نہیں سکتیں، وہ اپنے چہرے پر گھنی زلفوں کا سایہ کر لیتی ہیں تاکہ لفنگوں کی نظرِ بد سے محفوظ بھی رہ سکیں اور اپنا شوق بھی پورا کر سکیں. نقاب پوش حسینائیں بھی سیلفی کی بے حد  دیوانی پائی گئی ہیں. سر کٹی سیلفی بھی ان کی ہی ایجاد ہے.

سیلفی کی ابتدا کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں. فیس بکی علماء اسے علامہ اقبال کی ایجاد قرار دیتے ہیں حالانکہ وہ سیلفی لیتے کبھی بھی نہیں پکڑے گئے. ان علماء نے خودی اور سیلفی کا یہ تعلق حال ہی میں دریافت کیا ہے.

مسٹر بین سیلفی لیتے ہوئے

مسٹر بین سیلفی لیتے ہوئے

ایک دوسرے مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ مسٹر بِین کو اس کا موجد قرار دیتے ہیں جس کے تصویری ثبوت بھی فراہم کیے گئے ہیں.

سیلفی لینے کی سب سے مشہور جگہ باتھ روم ہے جہاں پہلے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی تصویر کھینچی جاتی ہے، پھر  دیگر ضروریات سے فارغ ہو کر دوبارہ اپنی تصویر کھینچی جاتی ہے اور پھر دونوں تصاویر کا موازنہ کر کے جو زیادہ اچھی لگے، اسے فیس بُک یا ٹوئٹر پر پوسٹ کر دیا جاتا ہے.

بعض لوگوں کے بازو چھوٹے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ صحیح طریقے سے سیلفی نہیں لے سکتے کیونکہ کیمرہ زیادہ نزدیک ہونے کی وجہ سے تصویر میں ان کا منھ بہت بڑا آتا ہے. اس اہم مسئلے کا حل سائنس دانوں نے سیلفی اسٹک ایجاد کر کے نکال لیا ہے. یہ ایک چھڑی ہوتی ہے جس کے ایک سرے پر کیمرے والا موبائل اور دوسرے سرے پر چھوٹے بازوؤں والا کارٹون کھڑا ہوتا ہے.

سیلفی لینے کا عمل تنہائی میں زیادہ بہتر طریقے سے کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس وقت کوئی آپ کی حرکتیں نہیں دیکھ رہا ہوتا. بصورت دیگر کوئی سرپھرا آپ سے وہ چھڑی چھین کر آپ کی تشریف پر بھی رسید کر سکتا ہے!

کرکٹ نیوز

جاوید میانداد جنہیں ناقص پاکستانی بیٹنگ کو سدھارنے کیلیے عارضی طور پر مشیر رکھا گیا ہے اور جس پر دیگر تمام کرکٹ ٹیموں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے، کل سری لنکا پہنچے۔ سری لنکا پہنچتے ہی انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے پاس پاکستانی بیٹنگ کو مضبوط کرنے کا تعویز ہے۔ بعد میں انہوں نے اس تعویز کی فوٹو کاپیاں کرا  کے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بیٹسمینوں میں تقسیم کیں۔ جب کھلاڑیوں نے تعویز کھول کر اسے پڑھا تو اس میں مندرجہ ذیل باتیں لکھی ہوئی تھیں:

تعویز برائے فتح  ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ ۲۰۱۲ سری لنکا

تمام بلے بازوں کو سختی کے ساتھ ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ پہلے دس اوور روک کر کھیلیں تاکہ وکٹ بچائی جا سکے۔

اگلے آٹھ اوور سنگلز اور ڈبلز لے کرگزارا کریں۔ آخری دو اووروں میں چوکے لگانے کی اجازت ہے مگر چھکے کی کوشش مت کریں کیونکہ اس کوشش میں آپ کیچ آؤٹ ہو سکتے ہیں۔

یہ پڑھتے ہی شاہد آفریدی حیرت کے مارے بے ہوش ہو گئے۔ ہوش میں آنے کے بعد انہوں نے پہلا سوال یہ پوچھا کہ اتنے رنوں کا دفاع کون کرے گا؟  جواب میں میانداد نے سعید اجمل کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اسے کیا آلو چھولے بیچنے کیلیے ٹیم میں رکھا ہے؟

بھارت سے خبر ملی ہے کہ وہاں ینگ کرکٹرز ایسوسی ایشن نے سچن ٹنڈولکر کے خلاف ایک مظاہرہ کیا ہے۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ سچن ٹندولکر، جو کہ اشوکِ اعظم کے زمانہ سے کرکٹ کھیل رہے ہیں، کو اب کرکٹ ٹیم کی جان چھوڑ دینی چاہیے تاکہ نوجوان کھلاڑیوں کو بھی قومی کرکٹ ٹیم میں شامل ہونے کا موقعہ مل سکے۔ سچن ٹنڈولکر نے اس مطالبے کو بچگانہ قرار دے کر مسترد کر دیا اور مظاہرین کو وڈیو گیمز پر کرکٹ کی پریکٹس کرنے کا مشورہ دیا۔ چندر گپت موریہ کے دور کے بعض بھارتی کرکٹروں نے سچن ٹنڈولکر کی حمایت میں بیان دیئے ہیں۔

کرکٹ کی دیوانی پاکستانی گونگوں اور بہروں کی تنظیم نے اپنے اعلامیے میں کرکٹ ورلڈ کپ کی کامیابی کیلیے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور ساتھ ہی اپنے اس دکھ اور حسرت کا اظہار بھی کیا کہ وہ کرکٹ کی کمنٹری سننے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ اس کے فوری ردعمل کے طور پر ٹی وی چینل والوں نے بہروں کیلیے ایک خصوصی ٹرانسمیشن چلانے کا اعلان کیا جس میں اشاروں کی زبان میں کرکٹ میچ کی کمنٹری نشر کی جائے گی۔ اس پروگرام کی میزبانی مستقبل میں مستقل  جاوید میانداد کریں گے۔

کرکٹ کی تازہ ترین خبروں کیلیے  روزانہ وزٹ کرتے رہیے "صبرنامہ ڈاٹ کام”۔

بھوکے

سیاست دان

استاد: سیاست دان کیا کرتے ہیں؟       

شاگرد ۱: عوام کو دھوکہ دیتے ہیں!

شاگرد ۲: ملکی خزانے کو لوٹتے ہیں!

شاگرد ۳: عوام کو بے وقوف بناتے ہیں!

شاگرد ۴: عوام کے ساتھ جھوٹے وعدے کرتے ہیں!

شاگرد ۵: ملک کے ساتھ غداری کرتے ہیں!

شاگرد ۶: ملک کے ٹکڑے کرتے ہیں!

شاگرد ۷: لوگوں کو قتل کرواتے ہیں!

شاگرد ۸: حرام خوری کرتے ہیں!

شاگرد ۹: بے غیرتی کرتے ہیں! 

شاگرد ۱۰: ………………………………

شاگرد ۱۱: ……………………………….

…………………………………………………

استاد: آخر آپ لوگ یہ کیوں نہیں کہتے کہ وہ "سیاست” کرتے ہیں؟

شاگرد : کیونکہ ہم طالبِ علم ہیں۔ سیاستدان نہیں!                                                                                                                                                                                  

نسخۂ دافع روشن خیالی

بہت دنوں سے میری طبیعت کافی بوجھل سی تھی۔ اداسی دور کرنے کیلیے آج صبح میں نے ریڈیو پر اپنے شہر کا واحد ایف ایم سٹیشن آن کیا تاکہ روح کو کچھ غذا مل سکے اور طبیعت بہل سکے۔  ریڈیو سٹیشن پر بھینس  مارکہ صابن اور جوئیں مار شیمپو کے اشتہار چل رہے تھے۔ اشتہارات کے اختتام پر حکیم سلیمان تشریف لائے اور بیمار قوم کو مفید طبی مشوروں سے نوازنے لگے۔ ان کے چند مشوروں کے بعد مجھے یقین سا ہو گیا کہ میرے مسئلے کا حل بھی یقیناً ان کے پاس ہو گا۔ میں نے فون اٹھایا اور ان سے رابطہ کر کے اپنا مسئلہ کچھ یوں بیان کیا۔

"حکیم صاحب   میرا مسئلہ کچھ نفسیاتی نوعیت  کا ہے۔ میں موجودہ ملکی حالات سے دلبرداشتہ ہو چکا ہوں۔ مذہب کے نام نہاد ٹھیکیدار فساد فی الارض میں مصروف ہیں نیز خواب میں بھی مولوی مجھے آ کر ڈراتے ہیں۔ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ تمام مسائل کی جڑ مذہب ہی ہے۔ اب میں مذہب سے بیزار ہو چکا ہوں!”

حکیم صاحب نے تحمل سے میری بات سنی اور فرمایا کہ” برادرم! میں آپ کا درد سمجھ چکا ہوں۔ آپ کے جسم میں روشن خیالی کے جراثیم پرورش پا رہے ہیں مگر آپ فکر مت کریں”۔ اس کے بعد حکیم صاحب نے روشن خیالی کے جراثیم مارنے کیلیے ایک مجرب حکیمی نسخہ تجویز کیا جو فلاحِ عامہ کی خاطر میں آپ سے یہاں شیئر کر رہا ہوں:

اجزائے ترکیبی:

اطریفل، اسگند ناگوری، بکھڑا، ثعلب دانہ، لال بیگ، چھپکلی ، گدھی کا دودھ اور چوہے کی مینگنیاں

ترکیب:
۱۔ دو عدد موٹی چھپکلیاں مار کردھوپ میں  سکھا لیں۔ اگر وقت بچانا چاہتے ہیں تو چھپکلیوں کو توے پر بھون لیں۔
۲۔ تین عدد لال بیگ پکڑ کر انہیں ہلکی آنچ پر پندرہ منٹ ابالیں تاکہ وہ جراثیم سے پاک ہو جائیں۔ اس کے بعد ان کے پر کاٹ کر پھینک دیں۔
۳۔ اسگند ناگوری، ثعلب دانہ ، بکھڑا اور اطریفل ہم وزن لے کر ہاون دستہ میں اچھی طرح کھرل کر لیں  اور ان کا سفوف بنالیں۔
۴۔  خشک چھپکلیاں، ابلے ہوئے لال بیگ اور سفوف ایک ہانڈی میں ڈالیں اور ایک پاؤ  گدھی کا دودھ  ملا کر چولہے پر رکھ دیں اور چمچ ہلانا شروع کر دیں۔
۵۔  چمچہ ہلاتے ہوئے ایک ایک کر کے چوہے کی مینگنیاں ہانڈی میں پھینکتے جائیں حتیٰ کہ ایک مغلظ محلول تیار ہو جائے۔
اب اس محلول کو ٹھنڈا کر کے ایک صاف شیشے کی بوتل میں محفوظ کر لیں۔ دوا تیار ہے۔

طریقہ استعمال:

دوا  لینے کیلیے آپ کو تین عدد  مضبوط مولویوں کی ضرورت پڑے گی۔ ایک چارپائی پر سیدھے لیٹ جائیں۔ ایک مولوی آپ کو بازوؤں سے اور ایک آپ کو ٹانگوں سے کس کر پکڑ رکھے۔ تیسرا مولوی دوا کا ایک چمچ زبردستی آپ کے منہ میں ڈالے۔  امید ہے پہلی خوراک سے ہی کافی افاقہ ہو گا ورنہ ہر روز یہ عمل دہرایا جائے جب تک بیماری ختم نہیں ہو جاتی۔

یہ نسخہ بتانے کے بعد حکیم صاحب کو چھیاسی کالیں موصول ہوئیں جن میں سب لوگوں نے قے روکنے کا نسخہ دریافت کیا تھا۔ حکیم صاحب نے ہنستے ہوئے ان سب کو قے اور متلی روکنے کیلیے یہی دوا تجویز کی۔


%d bloggers like this: