Category Archives: سیاست

سیاست دان

استاد: سیاست دان کیا کرتے ہیں؟       

شاگرد ۱: عوام کو دھوکہ دیتے ہیں!

شاگرد ۲: ملکی خزانے کو لوٹتے ہیں!

شاگرد ۳: عوام کو بے وقوف بناتے ہیں!

شاگرد ۴: عوام کے ساتھ جھوٹے وعدے کرتے ہیں!

شاگرد ۵: ملک کے ساتھ غداری کرتے ہیں!

شاگرد ۶: ملک کے ٹکڑے کرتے ہیں!

شاگرد ۷: لوگوں کو قتل کرواتے ہیں!

شاگرد ۸: حرام خوری کرتے ہیں!

شاگرد ۹: بے غیرتی کرتے ہیں! 

شاگرد ۱۰: ………………………………

شاگرد ۱۱: ……………………………….

…………………………………………………

استاد: آخر آپ لوگ یہ کیوں نہیں کہتے کہ وہ "سیاست” کرتے ہیں؟

شاگرد : کیونکہ ہم طالبِ علم ہیں۔ سیاستدان نہیں!                                                                                                                                                                                  

Advertisements

مداری

کسی ملک میں ایک ظالم بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ ساری رعایا اس کے ظلم و ستم سے بہت تنگ تھی۔ ایک دن تنگ آکر رعایا نے بادشاہ کو ملک بدر کر دیا۔

  جب نئے بادشاہ کو منتخب کرنے کا وقت آیا تو ہر طرف بحث شروع ہو گئی۔ مختلف لوگوں نے اپنی اپنی آراء پیش کیں۔ آخر فیصلہ یہ ہوا کہ ملک کے سب سے بے ضرر انسان کو بادشاہ بنایا جائے تاکہ عوام پر کوئی ظلم نہ ہو اور وہ ہنسی خوشی زندگی بسر کر سکیں۔ اس کے بعد عوام نے متفقہ طور پر ایک مداری کو اپنا بادشاہ منتخب کر لیا۔

جب ہمسایہ ممالک کو علم ہوا کہ وہاں اب ایک مداری حکومت کر رہا ہے تو وہ بہت خوش ہوئے اور انہوں نے سازباز کر کے حملہ کر دیا۔ محل میں کسی نے آکر مداری کو اطلاع دی کہ دشمن نے حملہ کر دیا ہے۔ مداری کے کان پر جوں تک نہ رینگی اور وہ اپنے تماشے میں مگن رہا۔ آہستہ آہستہ حملے کی خبر پھیل گئی تو لوگ محل کے باہر اکٹھے ہو گئے۔ دربان نے مداری کو بتایا کہ "بادشاہ سلامت، محل کے باہر سب لوگ جمع ہو گئے ہیں اور کاروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں”۔ یہ سن کر مداری نے ڈگڈگی پکڑی اور اپنے بندر کو لے کر محل سے باہر آیا۔ اس نے لوگوں کو بتایا کہ بے فکر رہو میں کاروائی کرنے لگا ہوں۔

 اور اس کے بعد سب لوگ بندر کا تماشہ دیکھنے میں محو ہو گئے اور انہیں یاد ہی نہ رہا کہ دشمن کی فوجیں ان کے سر پر پہنچ چکی ہیں۔ جب ایک ہرکارے نے آخری بار سب کو خطرے سے آگاہ کیا تو مداری اپنے گدھے پر اپنے سازوسامان سمیت سوار ہو گیا اور یہ کہتے ہوئے وہاں سے چل دیا کہ "جو میں تمہارے لیے کر سکتا تھا کر دیا، اب تم جانو اور تمہارا ملک!”  

مبارکباد

آج کا دن پاکستانی تاریخ کا ایک اور سنہرا دن ہے۔ آج پاکستانی حکمرانوں نے انتہائی دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی قوم کو ایک بڑی مصیبت سے بچا لیا ہے۔ لوگ تو روز ہی مرتے ہیں، قبائلی علاقوں میں، کراچی میں، بلوچستان میں، دو تین لاہور میں مارے گئے تو کون سی ایسی قیامت آ گئی تھی؟ اس میں جذباتی ہونے کی بات نہیں، اللہ کا امر ہی یہی تھا!

عوام کی بھرپور خواہش تھی کہ غریب حکمرانوں کی روزی روٹی بند ہو جائے مگر حکمرانوں نے اس چال کو ناکام بنا دیا ہے۔ اس سارے قصے میں آزاد عدلیہ کا کردار بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ عدلیہ نے عظیم عوامی دباؤ کو خاطر میں نہ لا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ صحیح معنوں میں آزاد ہے۔

ہماری ساری قوم کو آج سربسجود ہو کر شکرانے کے نفل ادا کرنے چاہییں کہ ہم اللہ کے فضل و کرم سے اس آزمائشِ عظیم سے سرخرو ہو کر نکلے۔ اگر ہم سے کوئی کوتاہی ہو جاتی تو ہمارا اس دنیا سے وجود ہی مٹ جاتا!

اور اس کے بعد کرکٹ ورلڈ کپ دیکھنے میں خود کو مشغول کر لینا چاہیے۔

اور آخر میں زندہ دلانِ لاہور کیلیے ایک پنجابی شعر،

ریمنڈ ڈیوس ہو گیا رہا
پنجابی منڈے پان بھنگڑا

اور ہاں، آپ لوگوں کے جذبات ٹھنڈے کرنے کیلیے حکومت کے پاس بسنت والا ٹیکہ بھی موجود ہے۔

آج کا اخبار

خبر: پنجاب اسمبلی میں میڈیا کے حق میں قرارداد منظور

ہمارے سیاستدانوں کیلیے تھوک کر اسے چاٹنا کوئی معیوب بات نہیں۔ اسی مستی کا نام سیاست ہے۔

خبر: پنجاب کے نوجوان تیزی سے ایم کیو ایم کی جانب راغب ہو رہے ہیں، الطاف حسین

بجا فرمایا آپ نے۔ پنجاب کے دہشت گرد نوجوان اب ماس کلنگ یعنی خود کش حملوں سے بور ہو چکے ہیں۔ وہ کچھ نیا کرنا چاہتے ہیں، مثلاً ٹارگٹ کلنگ۔

خبر: چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن کے بھائی کے خلاف مقدمہ درج، چیئر مین کو دھمکیاں

چیئرمین صاحب اس سے پہلے کہ آپ کو کوئی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچے، آپ فوراً جعلی ڈگریوں والے ارکانِ اسمبلی سے معافی مانگ لیں اور ان کو مزید ماسٹر اور پی ایچ ڈی ڈگریاں جاری کردیں تاکہ وہ خوش ہو جائیں اور آپ کی جان بخشی ہو

خبر: ہلمند میں افغان فوجی کی فائرنگ سے ۳ برطانوی فوجی ہلاک اور ۲ زخمی

اتحادیو گھبراؤ مت! صلیب کو مضبوطی سے تھامے رکھو! یہ فرینڈلی فائر تھا۔ افغان تم سے دل و جان سے محبت کرتے ہیں۔

خبر: سندھ کے مختلف علاقوں میں پاگل کتوں کے کاٹنے سے ۱۹ افراد زخمی اور ایک ہلاک

آپ کا راج جو ہے۔ جو چاہے کریں!

خبر: ہم نے جمہوریت کیلیے قربانیاں دیں، حمزہ شہباز

اور ان قربانیوں کی قیمت بمع سود آپ نے قوم سے وصول کی اور کر رہے ہیں اور نامعلوم مدت تک کرتے رہیں گے۔

خبر: افغانستان پر امریکی حملے سے دہشت گردی میں ۱۰ گنا اضافہ ہو گیا، مولانا فضل الرحمان

ڈیزل کی قیمت میں بھی دس گنا اضافہ ہوا یہ تو آپ نے بتایا ہی نہیں۔

خبر: اس سال حج کیلیے کوٹے سے ۱۵ ہزار کم درخواستیں دی گئیں

دو لاکھ چالیس ہزار روپے فی حاجی وصول کریں گے تو یہی ہو گا! "آپ” کا بس چلے تو حاجیوں کے کپڑے بھی اتروا لیں۔

ایک امریکی کی سوچ

جیفرے شیلڈن گرین ایک سابقہ امریکی میرین فوجی تھا جس سے میری جان پہچان فیس بُک کے ذریعے ہوئی۔  گو کہ ہماری دوستی زیادہ عرصہ نہ چل سکی مگر اس دوران اس کے ساتھ میری لمبی چوڑی بحث چلتی رہی جس سے مجھ پر بعض ایسی باتوں کا بھی انکشاف ہوا جو مجھے پہلے معلوم نہ تھیں۔ اس کے نظریات ایک عام امریکی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں جو ہر جگہ ہمیں امریکی پالیسیوں میں نظر آتے ہیں۔

پہلا سوال جو اس نے مجھ سے کیا وہ یہ تھا کہ "اسلامی تعلیمات دہشت گردی پر کیوں زور دیتی ہیں؟”۔ میں نے اس کو بتایا کہ اسلام سلامتی کا مذہب ہے اور اس کی تعلیمات کا دہشت گردی سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں! اس نے پوچھا "اگر اسلام میں دہشت گردی نہیں تو تم لوگ جہاد کس چیز کو کہتے ہو؟”۔ اس کے جواب میں میں نے جہاد کی تعریف اور اسکی اقسام بیان کیں۔ میں نے اس پر واضح کیا کہ جب کسی مسلمان ملک پر کافر ملک حملہ آور ہو جائے تو جارحیت کے شکار مسلمان ملک کے ہر فرد پر جہاد فرض ہو جاتا ہے۔ اگر مسلمان ملک کمزور ہو اور حملہ آور ملک سے مقابلہ کرنے کی سکت اور وسائل نہ رکھتا ہو تو اس کے قریب ترین ہمسایہ ملک یا ممالک کے مسلمانوں پر جہاد فرض ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کی مدد کریں جو مصیبت میں ہیں۔ اگر ہمسایہ مسلمان ممالک بھی کمزور ہوں تو مزید ان کے ہمسایہ ممالک اور اسی طرح بالآخر ساری دنیا کے مسلمانوں پر جہاد فرض ہو جاتا ہے۔

ان ساری تفصیلات کا مقصد اسے یہ سمجھانا تھا کہ مسلمان چاہے دنیا کے کسی بھی کونے سے تعلق رکھتے ہوں، اپنے مظلوم عراقی، فلسطینی اور افغان بھائیوں کیلیے کیا جذبات رکھتے ہیں اور ان کی مدد کرنے کی کیوں کوشش کرتے ہیں۔

مسئلہ فلسطین پر اس کا موقف وہی تھا جو امریکی حکومت کا ہے کہ اسرائیل اپنے دفاع کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اس نے مجھے بتایا کہ حماس اور حزب اللہ دہشت گرد تنظیمیں ہیں اور ایران و شام جیسے دہشت گرد ممالک کی امداد سے چل رہی ہیں۔ یہ شطرنج کے مہرے ہیں اور اصل کھلاڑی ایران و شام وغیرہ ہیں۔  جب میں نے اسے اسرائیلی جارحیت کی مثالیں دیں تو اس نے ان کا دفاع یہ کہہ کر کیا کہ بات اتنی بھی نہیں ہوئی جتنی تم بڑھا چڑھا کر بیان کر رہے ہو۔ یہ سب من گھڑت قصے کہانیاں اور سازشی نظریات ہیں۔

اتفاق سے انہی دنوں اسرائیل غزہ پر چڑھ دوڑا اور اس نے غزہ پر وحشیانہ بمباری شروع کر دی۔  میں نے اس سے پوچھا کہ اب تو تم روز ٹی وی پر بھی دیکھتے ہو اس اندھا دھند بمباری میں روزانہ درجنوں لوگ ہلاک ہو رہے ہیں، بتاؤ اس کی کیا تو جیہہ پیش کرتے ہو؟ اس نے وجہ بیان کی کہ "دراصل یہ ہلاکتیں حماس کی وجہ سے ہو رہی ہیں کیونکہ حماس ان ہلاک ہونے والے لوگوں کو ’ڈھال‘ کے طور پر استعمال کر رہی ہے”۔ ایک میرین کے منہ سے میں یہ انوکھی وضاحت سن کر حیران رہ گیا۔

میں اس وقت یہ سوچ رہا ہوں کہ اگر میرا اس کے ساتھ رابطہ ہوتا تو میں اس سے پوچھتا کہ حماس اور حزب اللہ بقول تمہارے دہشت گرد سہی مگر اس امدادی جہاز کے کارکنوں کا کیا گناہ تھا جنہیں بلاوجہ موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اور وہ اس گھناؤنے فعل کی بھی ایک عجیب و غریب دلیل دیتا۔

میں نے جیفرے سے پوچھا کہ  سچ بتاؤ تم امریکی لوگ اسرائیل کی اتنی حمائت کیوں کرتے ہو؟ اس نے جواب دیا "میرے دوست یہ ہماری مذہبی کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ یہودیوں کی ہر ممکن مدد کرو”۔ میں نے اسے بتایا کہ کس طرح ان یہودیوں نے اپنی تحریف شدہ تورات کو تمہاری انجیل میں گھسیڑا اور کیسے اپنے لوگ تمہارے مذہبی رہنما بنائے جو بعد میں پوپ کے عہدے تک پہنچے تو اس نے میری بات کو سازشی نظریہ کہہ کر رد کر دیا۔

میں نے آخری جذباتی وار کیا "کیا تم لوگ اس بات کو بھول گئے ہو کہ یہ وہی قوم ہے جس نے تمہارے عیسیٰ ؑ کو سولی پر لٹکا دیا تھا؟”۔

اس نے جواب دیا کہ "ہم یہودی قوم کے اس کام کے لیے احسان مند ہیں کہ انھوں نے عیسیٰ ؑ کو سولی پر چڑھا دیا  اور اس طرح ہمارے گناہوں کا کفارہ ادا ہو گیا”۔


%d bloggers like this: