Category Archives: حالاتِ حاضرہ

سیلفی

موجودہ زمانے میں سب سے زیادہ کس چیز کا رواج ہے؟ اس سوال کا جواب بچہ بچہ جانتا ہے. جی ہاں. سیلفی! 

یہ وہ لت ہے جو اس وقت بلا تفریق مذہب و رنگ و نسل دنیا بھر کے لوگوں کو لگ چکی ہے. خود کو ہیرو سمجھنے والے بچے، نوجوان، جوان اور بڈھے بابے منھ کے طرح طرح کے زاویے بناتے ہوئے موبائل ہاتھ میں لے کر اپنی تصویریں کھینچتے اور فیس بُک پر  شیئر کرتے نظر آتے ہیں. بظاہر ان کا مقصد دنیا کو اپنے حسن سے متاثر کرنا ہوتا ہے لیکن درحقیقت  ان کے دماغ میں کیا کیڑا ہوتا ہے، وہی بہتر جانتے ہیں.

اسی طرح وہ حسن کی دیویاں جو اپنا حسن چھپانا بھی چاہتی ہیں اور رہ بھی نہیں سکتیں، وہ اپنے چہرے پر گھنی زلفوں کا سایہ کر لیتی ہیں تاکہ لفنگوں کی نظرِ بد سے محفوظ بھی رہ سکیں اور اپنا شوق بھی پورا کر سکیں. نقاب پوش حسینائیں بھی سیلفی کی بے حد  دیوانی پائی گئی ہیں. سر کٹی سیلفی بھی ان کی ہی ایجاد ہے.

سیلفی کی ابتدا کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں. فیس بکی علماء اسے علامہ اقبال کی ایجاد قرار دیتے ہیں حالانکہ وہ سیلفی لیتے کبھی بھی نہیں پکڑے گئے. ان علماء نے خودی اور سیلفی کا یہ تعلق حال ہی میں دریافت کیا ہے.

مسٹر بین سیلفی لیتے ہوئے

مسٹر بین سیلفی لیتے ہوئے

ایک دوسرے مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ مسٹر بِین کو اس کا موجد قرار دیتے ہیں جس کے تصویری ثبوت بھی فراہم کیے گئے ہیں.

سیلفی لینے کی سب سے مشہور جگہ باتھ روم ہے جہاں پہلے آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی تصویر کھینچی جاتی ہے، پھر  دیگر ضروریات سے فارغ ہو کر دوبارہ اپنی تصویر کھینچی جاتی ہے اور پھر دونوں تصاویر کا موازنہ کر کے جو زیادہ اچھی لگے، اسے فیس بُک یا ٹوئٹر پر پوسٹ کر دیا جاتا ہے.

بعض لوگوں کے بازو چھوٹے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ صحیح طریقے سے سیلفی نہیں لے سکتے کیونکہ کیمرہ زیادہ نزدیک ہونے کی وجہ سے تصویر میں ان کا منھ بہت بڑا آتا ہے. اس اہم مسئلے کا حل سائنس دانوں نے سیلفی اسٹک ایجاد کر کے نکال لیا ہے. یہ ایک چھڑی ہوتی ہے جس کے ایک سرے پر کیمرے والا موبائل اور دوسرے سرے پر چھوٹے بازوؤں والا کارٹون کھڑا ہوتا ہے.

سیلفی لینے کا عمل تنہائی میں زیادہ بہتر طریقے سے کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس وقت کوئی آپ کی حرکتیں نہیں دیکھ رہا ہوتا. بصورت دیگر کوئی سرپھرا آپ سے وہ چھڑی چھین کر آپ کی تشریف پر بھی رسید کر سکتا ہے!

حکایت

 بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ  

"اے پیغمبرِ خدا! میں نے ایک باغ آراستہ دیکھا ہے کہ اس میں بہت سے میوے ہیں اور میں نے دیکھا کہ اس باغ میں ایک بہت بڑا خنزیر بیٹھا ہے اور مجھ سے لوگوں نے کہا کہ یہ باغ اس خنزیر کی ملکیت ہے۔ میں اس بات سے حیران ہوں اور باغ میں  بہت سے خنزیروں کو میوے کھاتے ہوئے دیکھا  اور لوگوں نے کہا کہ یہ تمام خنزیر اس  بڑے خنزیر کے حکم سے  میوے کھاتے ہیں۔”

حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ

"وہ  بڑا خنزیر ظالم اور جابر بادشاہ ہے  اور دوسرے خنزیر  دانش مند حرام خور ہیں، جو ظالم بادشاہ کے مطیع اور تابع فرمان ہیں اور دین کو دنیا کے بدلے بیچتے ہیں۔” 

وہ جو کوئی بھی تھا

اسامہ بن لادننقشِ خیال ۔ عرفان صدیقی

پاکستانیوں کی بہت بڑی تعداد ایک سوگ کی سی کیفیت میں رہی۔ اس لئے نہیں کہ یہ سادہ و معصوم لوگ دہشت گردی سے ناتا رکھتے اور دہشت گردوں سے محبت کرتے ہیں۔ اس لئے بھی نہیں کہ اسامہ بن لادن ان کا محبوب تھا۔ اس لئے کہ ازل ازل سے انسانوں کی فطرت، خدا فراموش فرعونوں سے نفرت کرتی اور ان فرعونوں کو للکارنے والوں کو اپنا اپنا سا سمجھتی ہے۔ فرعونوں کا معتوب، جو کوئی بھی ہو، جیسا بھی ہو، انسانوں کا محبوب بن جاتا ہے۔ کیا اسامہ کی حکمت عملی اسلامی تعلیمات کے مطابق تھی؟ کیا ایک مرد دانا کی طرح وہ زمینی حقیقتوں کا شعور رکھتا تھا؟ کیا اس کے چنے ہوئے راستے نے بالعموم امت مسلمہ کے مفادات کی آبیاری کی؟ ان سوالوں پہ پہلے بھی بحث ہوتی رہی ، آئندہ بھی ہوتی رہے گی، دنیا میں ایسا کوئی شخص پیدا نہیں ہوا جس کے فکر و عمل سے اختلاف کرنے والا کوئی نہ ہو۔ اسامہ پر پہلے بھی سنگ زنی ہوتی رہی، آئندہ بھی نشتر زنی ہوتی رہے گی لیکن اس کی روح اب سود و زیاں کے دنیوی پیمانوں سے بہت دور جا چکی ہے۔ امریکہ ، نیٹو، یورپی یونین، اقوام متحدہ اور شکم پرست ہراول دستوں کی دسترس سے کوسوں آگے۔
ٹیلی فونوں اور پیغامات کا تانتا بندھا رہا کہ اسے شہید، کیوں نہیں کہا جا رہا؟
میں دل گرفتہ اہل وطن کو سمجھاتا رہا کہ معصوم و سادہ دل لوگو! ہم اسے شہید نہیں کہہ سکتے۔ اس لئے کہ شہنشاہ عالم پناہ خفا ہو جائے گا۔ اس لئے بھی کہ ہم دس سال سے، امریکی جنگ کا دست بازو ہیں اور اسامہ ہمارے مخالف لشکر میں سے تھا۔ اس لئے بھی کہ ہم اپنا پیٹ پالنے کے لئے امریکی نان نفقے کے محتاج ہیں۔ اس لئے بھی کہ امریکا دنیا کا تاجدار اور جابر ملک ہے اور ہمارے حکمرانوں کی باگیں اس کے ہاتھ میں ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر اس لئے کہ ’دین غلامی“ میں امریکہ کو آنکھیں دکھانے اور اس سے پنجہ آزمائی کرنے والا غازی کہلا سکتا ہے نہ شہید۔
دو دن سے ٹی ۔ وی چینلوں پر ایک تماشا سا لگا ہے۔ خبریں، تصویریں، فلمیں، تبصرے، تجزیے، امکانات، خدشات۔ میں ریموٹ کے بٹن دبا دبا کر چینل بدلتا اور میڈیا کے چلن دیکھتا رہا۔ ہر پاکستانی چینل پر وہی بولی، بولی جا رہی تھی جو اسامہ کے بارے میں امریکہ، یورپ اور دنیا کے دیگر مسلم بیزار منطقوں میں بولی جاتی ہے۔ ہم اسے مسلسل امریکہ کی آنکھ سے دیکھتے رہے، اس کے بارے میں پھیلائی گئی امریکی کہانیاں دہراتے رہے اور وقفے وقفے سے امریکہ ہی کی زبان میں اس پر تبصرے کرتے رہے۔ غلامی اسی طرح دلوں اور ذہنوں کے اندر گھونسلے بناتی ہے ۔ ہمیں کچھ ضرورت نہیں کہ اس کی زندگی کے نشیب و فراز کا جائزہ لیں اربوں اور کھربوں میں کھیلنے اور سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہونے والا شہزادہ، انجینئرنگ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والا ہونہار نوجوان، اپنے خاندان کی بے کراں دولت لامحدود کاروباری امکانات اور عیش و عشرت سے پُر زندگی سے دستکش ہو کر غریب الوطنی، سخت کوشی، جہدو پیکار اور سامراج دشمنی کے خار زاروں کی طرف کیوں نکل آیا؟ دنیا میں کتنے ہیں جو شہزادگی ٹھکرا کر کسی مقصد کی لگن میں ایسی راہوں پر نکل آتے ہیں جہاں اذیتوں اور مشقتوں کے سوا کچھ نہیں ہوتا اور جہاں موت سائے کی طرح ساتھ ساتھ چل رہی ہوتی ہے ۔ دو دو ٹکے کی نوکریوں اور رسوائیوں میں گندھی بے ننگ و نام حکومتوں کے لئے اپنی آن اور اپنا ایمان بیچ دینے والوں کی اس دنیا میں کتنے ہیں جو جُنوں کا ایسا سرمایہ رکھتے ہوں؟
جب وہ افغانستان کے پہاڑوں، گھاٹیوں اور میدانوں میں سوویت یونین سے لڑ رہا تھا، جہاد منظم کر رہا تھا، اس کی دولت تحریک مزاحمت کی رگوں میں لہو بن کر دوڑ رہی تھی تو وہ ”عظیم مجاہد“ اور ” بہادر جانباز“ کہلاتا تھا۔ امریکہ اس کی بلائیں لیتا تھا۔ اس کی راہوں میں سرخ قالین بچھاتا تھا، پھر زمانہ بدلا۔ روس دریائے آمو کے اس پار چلا گیا کم و بیش چوتھائی صدی بعد امریکہ اسی اسامہ کی تلاش میں افغانستان پر چڑھ دوڑا۔ اس لئے کہ اسامہ امریکی توسیع پسندی کے خلاف تھا۔ اس کا نعرہ تھا کہ امریکی افواج سعودی عرب اور دیگر اسلامی ممالک سے نکل جائیں وہ امریکا کی اسرائیل نوازی پر بھی معترض تھا۔ نائن الیون کے فوراً بعد اعلان ہوا کہ یہ اسامہ کا کیا دھرا ہے ۔ آج تک اس الزام کا کوئی ایک ٹھوس ثبوت سامنے نہیں لایا جا سکا۔ اکتوبر 2001ء میں امریکہ نے افغانستان پر یلغار کر دی۔ دنیا کا سب سے بڑا بارود خانہ اور مہلک ٹیکنالوجی رکھنے والا ملک، بیسیوں عالمی افواج کے ساتھ ایک عشرے تک ٹامک ٹوئیاں مارتا رہا۔ اسامہ نے کہا تھا۔ ”تم مجھے زندہ گرفتار نہیں کر سکتے“ اس نے اپنے جانثار گارڈ سے کہہ رکھا تھا کہ ”جب کبھی مجھے گرفتار کرنے کی کوشش کی جائے تو میرا سینہ چھلنی کر دینا“ ایک معتبر اخباری رپورٹ کے مطابق ایسے ہی ہوا۔ کامل دس برس تک ایک شخص عالمی فرعون کے لہو میں انگاروں کی طرح دہکتا رہا۔ اس کے دل میں ترنیم کش کی طرح پیوست رہا۔ رعونت میں لتھڑے حکمران پہاڑوں سے سر پھوڑتے، وادیوں میں بھٹکتے رہے لیکن ایک ”سرکش باغی“ کو زنجیر نہ ڈال سکے۔
شہنشاہ عالم پناہ بارک اوباما نے کہا ” انصاف ہو گیا۔ یہ پوری دنیا کے لئے خوشی کا دن ہے“ اس نے دہشت گردی کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کا ذکر کیا۔ یتیم ہو جانے والے بچوں، اجڑی آغوش والی ماؤں اور اولاد کھو دینے والے باپوں کا تذکرہ کیا۔ اسرائیلی وزیراعظم نے خوشی کے شادیانے بجائے۔ سارا یورپ جشن کی سی کیفیت میں آگیا۔ بھارت کا چہرہ تمتما اٹھا کابل کے چغہ پوش مسخرے کی باچھیں کھل اٹھیں۔ اور سید عبدالقادر گیلانی کے خانوادے سے تعلق کا دعویٰ کرنے والے سید زادہ ملتان اعلیٰ حضرت یوسف رضا گیلانی نے کہا۔ ”یہ فتح عظیم ہے۔“ اقتدار کی چند روزہ لذتیں بھی انسان کو کتنا کھوکھلا ، کتنا بودا، کتنا خالی خالی سا کر دیتی ہیں۔
ہمارے وزیراعظم نے ہزاروں قتل اسامہ کے کھاتے میں ڈال دیئے۔ انہیں امریکی ڈرونز کا لقمہ بننے والوں کی یاد نہ آئی جو نائن الیون کے ہلاک شدگان سے بہر حال زیادہ ہیں۔ پہلے دفتر خارجہ اور پھر وزیراعظم نے قومی تاریخ کا سب سے لغو، سب سے بے معنی، سب سے بے حمیت اور سب سے لایعنی بیان داغا کہ ”امریکہ نے سب کچھ اپنی اعلان کردہ پالیسی کے مطابق کیا ہے“ کیا معنی ہیں اس بے سروپا جملے کے، سب جانتے ہیں کہ امریکہ نے جو کچھ کیا، وہ اس کی پالیسی اس کی تاریخ، اس کے مزاج اور اس کی رعونت کے عین مطابق ہے لیکن پاکستان کی پالیسی کیا ہے؟ اگرکل امریکہ اپنے اہداف اور اپنی پالیسی کے مطابق ہمارے ایٹمی اثاثوں کے خلاف ایسا ہی آپریشن کر ڈالے تو سید زادہ کیا یہی تسلی دے گا کہ ”یہ امریکی حکومت نے اپنی طے شدہ پالیسی کے مطابق کیا ہے؟“ یہ بے حمیتی کا وہ مقام ہے جس پر بات کرتے ہوئے قلم کو بھی ندامت محسوس ہوتی ہے۔
سوالات ہیں اور ان گنت ہیں۔ کئی گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی قوم اندھیرے میں ہے۔ سوالات کے اس لق و دق جنگل سے کوئی راستہ نہ نکلا تو پاکستان شدید مشکلات کا شکار ہو جائے گا۔ ابھی سے آثار نظر آرہے ہیں کہ اس ڈرامے کے ذریعے حکومت، فوج اور آئی۔ ایس۔ آئی کو مجرم بنا کر عالمی کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا ہے دیکھئے آگے دیکھئے کیا ہوتا ہے؟ اور اوباما کو کون بتائے کہ ہمارے بچے بھی درختوں پر نہیں لگتے، ماؤں کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں اور دنیا اسامہ کے نہ رہنے سے امن نہیں پائے گی، اس دن سکون آشنا ہو گی جب فرعون مزاج امریکہ دوسروں کو بھی انسان سمجھنے لگے گا۔
اب شیخ اسامہ بن لادن کا معاملہ اپنے اللہ کے ساتھ ہے۔ جو ہر انسان کے ظاہری عمل کو بھی دیکھتا ہے اور نیتوں کا حال بھی جانتا ہے۔ اسے ہم جیسے خود فروشوں، بزدلوں، کمزوروں، شکم پرست بونوں اور بندگان امریکہ کی طرف سے ”شہادت“ کے کسی تمغے کی حاجت نہیں۔ اگر وہ اللہ کی میزان میں کم وزن نکلا تو سزا پائے گا۔ اگر اس کے اعمال بارگاہ عالی میں مقبول ٹھہرے تو اس کی لاش سمندر کی مچھلیاں کھائیں یا جنگل کے درندے، وہ شہیدوں کے جلو میں کسی سنہری مسند پر بیٹھا ہو گا۔
اگر شہنشاہ عالم برا نہ مانیں اور اس کی چوکھٹ پہ سجدہ ریز ہمارے حکمران خفا نہ ہوں تو آیئے اس کے لئے دست دعا بلند کریں۔ اللہ اس کی لغزشوں اور کوتاہیوں سے درگزر فرمائے، اسے اپنے بے پایاں عفو و کرم
سے نوازے اور اسے اپنے بندگان خاص کے مقام سے سرفراز فرمائے۔ آمین


طاقت کی حکومت

کہتے ہیں کہ کسی جنگل میں ایک شیر شکار کو نکلا۔ اس نے اپنے ساتھ لومڑی اور گیدڑ کو بھی ملا لیا۔ شام کو جب شکار کی تقسیم کا وقت آیا تو شیر نے دونوں کو حکم دیا کہ شکار تقسیم کیا جائے۔ گیدڑ اور لومڑی نے عرض کی کہ "آپ تقسیم فرمائیں”۔

لومڑی اور گیدڑ کی یہ عاجزی دیکھ کر شیر نے شکار کے تین حصے کیے۔ ایک حصہ اپنے سامنے رکھ لیا کہ "میں بھی شکار میں شامل تھا”۔

دوسرا حصہ بھی اپنے سامنے گھسیٹ لیا اور دونوں کو بتایا کہ "میں چونکہ بادشاہ ہوں لہٰذا اس حصے پر میرا حق ہے”۔

اور تیسرے حصے پر اپنا پنجہ رکھ دیا اور کہا کہ "اگر ہمت ہے تو اٹھا لو”۔

اتنی ذلالت اور بے عزتی کے باوجود بھی لومڑی اور گیدڑ جب اپنے اپنے قبیلوں میں واپس گئے تو خوشی کے مارے پھولے نہیں سماتے تھے کہ انہیں بھی بادشاہ کے ہمراہ شکار کھیلنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔  

ایک امریکی کی سوچ

جیفرے شیلڈن گرین ایک سابقہ امریکی میرین فوجی تھا جس سے میری جان پہچان فیس بُک کے ذریعے ہوئی۔  گو کہ ہماری دوستی زیادہ عرصہ نہ چل سکی مگر اس دوران اس کے ساتھ میری لمبی چوڑی بحث چلتی رہی جس سے مجھ پر بعض ایسی باتوں کا بھی انکشاف ہوا جو مجھے پہلے معلوم نہ تھیں۔ اس کے نظریات ایک عام امریکی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں جو ہر جگہ ہمیں امریکی پالیسیوں میں نظر آتے ہیں۔

پہلا سوال جو اس نے مجھ سے کیا وہ یہ تھا کہ "اسلامی تعلیمات دہشت گردی پر کیوں زور دیتی ہیں؟”۔ میں نے اس کو بتایا کہ اسلام سلامتی کا مذہب ہے اور اس کی تعلیمات کا دہشت گردی سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں! اس نے پوچھا "اگر اسلام میں دہشت گردی نہیں تو تم لوگ جہاد کس چیز کو کہتے ہو؟”۔ اس کے جواب میں میں نے جہاد کی تعریف اور اسکی اقسام بیان کیں۔ میں نے اس پر واضح کیا کہ جب کسی مسلمان ملک پر کافر ملک حملہ آور ہو جائے تو جارحیت کے شکار مسلمان ملک کے ہر فرد پر جہاد فرض ہو جاتا ہے۔ اگر مسلمان ملک کمزور ہو اور حملہ آور ملک سے مقابلہ کرنے کی سکت اور وسائل نہ رکھتا ہو تو اس کے قریب ترین ہمسایہ ملک یا ممالک کے مسلمانوں پر جہاد فرض ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کی مدد کریں جو مصیبت میں ہیں۔ اگر ہمسایہ مسلمان ممالک بھی کمزور ہوں تو مزید ان کے ہمسایہ ممالک اور اسی طرح بالآخر ساری دنیا کے مسلمانوں پر جہاد فرض ہو جاتا ہے۔

ان ساری تفصیلات کا مقصد اسے یہ سمجھانا تھا کہ مسلمان چاہے دنیا کے کسی بھی کونے سے تعلق رکھتے ہوں، اپنے مظلوم عراقی، فلسطینی اور افغان بھائیوں کیلیے کیا جذبات رکھتے ہیں اور ان کی مدد کرنے کی کیوں کوشش کرتے ہیں۔

مسئلہ فلسطین پر اس کا موقف وہی تھا جو امریکی حکومت کا ہے کہ اسرائیل اپنے دفاع کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اس نے مجھے بتایا کہ حماس اور حزب اللہ دہشت گرد تنظیمیں ہیں اور ایران و شام جیسے دہشت گرد ممالک کی امداد سے چل رہی ہیں۔ یہ شطرنج کے مہرے ہیں اور اصل کھلاڑی ایران و شام وغیرہ ہیں۔  جب میں نے اسے اسرائیلی جارحیت کی مثالیں دیں تو اس نے ان کا دفاع یہ کہہ کر کیا کہ بات اتنی بھی نہیں ہوئی جتنی تم بڑھا چڑھا کر بیان کر رہے ہو۔ یہ سب من گھڑت قصے کہانیاں اور سازشی نظریات ہیں۔

اتفاق سے انہی دنوں اسرائیل غزہ پر چڑھ دوڑا اور اس نے غزہ پر وحشیانہ بمباری شروع کر دی۔  میں نے اس سے پوچھا کہ اب تو تم روز ٹی وی پر بھی دیکھتے ہو اس اندھا دھند بمباری میں روزانہ درجنوں لوگ ہلاک ہو رہے ہیں، بتاؤ اس کی کیا تو جیہہ پیش کرتے ہو؟ اس نے وجہ بیان کی کہ "دراصل یہ ہلاکتیں حماس کی وجہ سے ہو رہی ہیں کیونکہ حماس ان ہلاک ہونے والے لوگوں کو ’ڈھال‘ کے طور پر استعمال کر رہی ہے”۔ ایک میرین کے منہ سے میں یہ انوکھی وضاحت سن کر حیران رہ گیا۔

میں اس وقت یہ سوچ رہا ہوں کہ اگر میرا اس کے ساتھ رابطہ ہوتا تو میں اس سے پوچھتا کہ حماس اور حزب اللہ بقول تمہارے دہشت گرد سہی مگر اس امدادی جہاز کے کارکنوں کا کیا گناہ تھا جنہیں بلاوجہ موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اور وہ اس گھناؤنے فعل کی بھی ایک عجیب و غریب دلیل دیتا۔

میں نے جیفرے سے پوچھا کہ  سچ بتاؤ تم امریکی لوگ اسرائیل کی اتنی حمائت کیوں کرتے ہو؟ اس نے جواب دیا "میرے دوست یہ ہماری مذہبی کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ یہودیوں کی ہر ممکن مدد کرو”۔ میں نے اسے بتایا کہ کس طرح ان یہودیوں نے اپنی تحریف شدہ تورات کو تمہاری انجیل میں گھسیڑا اور کیسے اپنے لوگ تمہارے مذہبی رہنما بنائے جو بعد میں پوپ کے عہدے تک پہنچے تو اس نے میری بات کو سازشی نظریہ کہہ کر رد کر دیا۔

میں نے آخری جذباتی وار کیا "کیا تم لوگ اس بات کو بھول گئے ہو کہ یہ وہی قوم ہے جس نے تمہارے عیسیٰ ؑ کو سولی پر لٹکا دیا تھا؟”۔

اس نے جواب دیا کہ "ہم یہودی قوم کے اس کام کے لیے احسان مند ہیں کہ انھوں نے عیسیٰ ؑ کو سولی پر چڑھا دیا  اور اس طرح ہمارے گناہوں کا کفارہ ادا ہو گیا”۔


%d bloggers like this: