Category Archives: تصاویر

بھوکے

Advertisements

ایک بے ضرر شوق


ڈاک کے ٹکٹ جمع کرنا دنیا بھر میں لوگوں کا محبوب مشغلہ ہے۔ اگرچہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس تیز  دور میں ٹیلی فون، ای میل اور دیگر ذرائع کی وجہ سے ڈاک کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے مگر پھر بھی خط کا اپنا ہی ایک مزہ ہے اور اکثر لوگوں کو خط کا انتظار اب بھی رہتا ہے۔

اگر آپ کو بھی ڈاک ٹکٹ جمع کرنے کا شوق ہے تو لیجیے آپ بھی پاکستان کے رنگا رنگ ڈاک ٹکٹوں سے لطف اندوزہوں۔


Read the rest of this entry

اگر پاکستان کرکٹ ورلڈ کپ جیت جاتا تو

ایک نیا حرف

انگریزی حروفِ تہجی  میں "ڑ” کا متبادل کون سا حرف ہے؟ آپ کا جواب یقیناً ہو گا "D”۔ مثلاً لڑکا یا لڑکی کو رومن اردو میں Ladka یا Ladki لکھا جاتا ہے۔ بعض لوگ کہیں گے کہ "R” سے بھی کام چل سکتا ہے۔

لیکن ان دونوں حروف سے کچھ بات نہیں بنتی۔ دل کو تسلی نہیں ہوتی۔

مسئلہ یہ ہے کہ کچھ نالائق لڑکا کو لڈکا یا لرکا اور اسی طرح لڑکی کو لڈکی یا لرکی بھی پڑھ سکتے ہیں اور کنفیوز ہو سکتے ہیں۔

کیوں نہ "ڑ” کیلیے ایک نیا متبادل انگریزی حرف ایجاد کیا جائے؟

جی آپ کو معلوم نہیں مگر یہ ہو چکا ہے!

کچھ ذہین فطین لوگوں نے اس انتہائی اہم مسئلے کا حل تلاش کر لیا ہے!

کیسے؟

"R” کے اوپر "ط” ڈال کر۔

لہٰذا اب اس نئے لفظ  کو "آڑ” پڑھا جائے! اور انگریزی دان خودکشی کر لیں!

عملی مظاہرہ  کیلیے یہ اور یہ تصاویر دیکھیے۔

ایک "نبی” کے مزار کی زیارت

کل شام میں قبرستان میں کچھ عزیز و اقارب کی قبور پر فاتحہ پڑھ کرگزر رہا تھا کہ راستے میں یہ مزار آ گیا۔ اس جگہ سے سالوں بعد گزر ہوا۔ بچپن میں جب میں نے پہلی مرتبہ یہ قبر دیکھی تو سمجھا کہ شاید یہ جنوں دیووں کی کہانیوں والے کسی دیو کی ہے۔ بات بھی کچھ غلط نہ تھی کیونکہ اب تک میرے علم میں ایسا کوئی انسان نہیں آیا جو اتنا دیو قامت ہو۔

اس قبر پر لگے کتبوں کے مطابق یہ قبر "حضرت حام بن نوحؑ” کی ہے۔ بعض کتبوں پر "حام” کی بجائے "ہام” بھی لکھا ہوا ہے۔ یہ مقام روال تحصیل پنڈدادنخان ضلع جہلم کے قبرستان میں واقع ہے۔ ایک کتبے کے مطابق اس مزار کی نشاندہی حافظ شمس الدین آف گلیانہ، گجرات نے ۱۸۹۱ میں کی تھی۔ موجودہ حالت میں یہ مزار ۱۹۹۴ میں بنایا گیا۔

ایک اور کتبے کے مطابق حضرت حام بن نوحؑ کا شجرہ کچھ اس طرح سے ہے: حضرت حامؑ ابن نوحؑ ابن لامک ابن متوشلخ ابن ادریسؑ ابن یارد ابن مہلبیل ابن کنعان ابن انوش ابن شیث ابن آدمؑ۔

اس قبر کی سب سے خاص بات اس کی جسامت ہے جو کہ آپ کی اور میری سوچ سے بھی زیادہ ہے۔ یہ قبر ۷۸ فٹ لمبی ہے۔ چوڑائی کا اندازہ آپ خود کر لیں۔



اس قبر کو دیکھ کر ذہن میں کئی سوال اٹھتے ہیں، مثلاً:

کیا واقعی یہاں وہی دفن ہیں جس کا دعویٰ کیا گیا ہے؟ کیا حضرت نوحؑ کا کوئی بیٹا واقعی ادھر آیا تھا؟ کیا حام نبی ہیں؟ اگر انسان کی عمر ۱۰۰۰ سال ہو سکتی ہے تو کیا اس کا قد بھی ۷۵ فٹ سے زائد ہو سکتا ہے؟

%d bloggers like this: