Category Archives: تاریخ

حکایت

 بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ  

"اے پیغمبرِ خدا! میں نے ایک باغ آراستہ دیکھا ہے کہ اس میں بہت سے میوے ہیں اور میں نے دیکھا کہ اس باغ میں ایک بہت بڑا خنزیر بیٹھا ہے اور مجھ سے لوگوں نے کہا کہ یہ باغ اس خنزیر کی ملکیت ہے۔ میں اس بات سے حیران ہوں اور باغ میں  بہت سے خنزیروں کو میوے کھاتے ہوئے دیکھا  اور لوگوں نے کہا کہ یہ تمام خنزیر اس  بڑے خنزیر کے حکم سے  میوے کھاتے ہیں۔”

حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا کہ

"وہ  بڑا خنزیر ظالم اور جابر بادشاہ ہے  اور دوسرے خنزیر  دانش مند حرام خور ہیں، جو ظالم بادشاہ کے مطیع اور تابع فرمان ہیں اور دین کو دنیا کے بدلے بیچتے ہیں۔” 

ایک "نبی” کے مزار کی زیارت

کل شام میں قبرستان میں کچھ عزیز و اقارب کی قبور پر فاتحہ پڑھ کرگزر رہا تھا کہ راستے میں یہ مزار آ گیا۔ اس جگہ سے سالوں بعد گزر ہوا۔ بچپن میں جب میں نے پہلی مرتبہ یہ قبر دیکھی تو سمجھا کہ شاید یہ جنوں دیووں کی کہانیوں والے کسی دیو کی ہے۔ بات بھی کچھ غلط نہ تھی کیونکہ اب تک میرے علم میں ایسا کوئی انسان نہیں آیا جو اتنا دیو قامت ہو۔

اس قبر پر لگے کتبوں کے مطابق یہ قبر "حضرت حام بن نوحؑ” کی ہے۔ بعض کتبوں پر "حام” کی بجائے "ہام” بھی لکھا ہوا ہے۔ یہ مقام روال تحصیل پنڈدادنخان ضلع جہلم کے قبرستان میں واقع ہے۔ ایک کتبے کے مطابق اس مزار کی نشاندہی حافظ شمس الدین آف گلیانہ، گجرات نے ۱۸۹۱ میں کی تھی۔ موجودہ حالت میں یہ مزار ۱۹۹۴ میں بنایا گیا۔

ایک اور کتبے کے مطابق حضرت حام بن نوحؑ کا شجرہ کچھ اس طرح سے ہے: حضرت حامؑ ابن نوحؑ ابن لامک ابن متوشلخ ابن ادریسؑ ابن یارد ابن مہلبیل ابن کنعان ابن انوش ابن شیث ابن آدمؑ۔

اس قبر کی سب سے خاص بات اس کی جسامت ہے جو کہ آپ کی اور میری سوچ سے بھی زیادہ ہے۔ یہ قبر ۷۸ فٹ لمبی ہے۔ چوڑائی کا اندازہ آپ خود کر لیں۔



اس قبر کو دیکھ کر ذہن میں کئی سوال اٹھتے ہیں، مثلاً:

کیا واقعی یہاں وہی دفن ہیں جس کا دعویٰ کیا گیا ہے؟ کیا حضرت نوحؑ کا کوئی بیٹا واقعی ادھر آیا تھا؟ کیا حام نبی ہیں؟ اگر انسان کی عمر ۱۰۰۰ سال ہو سکتی ہے تو کیا اس کا قد بھی ۷۵ فٹ سے زائد ہو سکتا ہے؟

سانحۂ پلاسی

جعفر از بنگال و صادق از دکن

ننگِ ملت، ننگِ دیں، ننگِ وطن



۲۳ جون ۱۷۵۷ء ہماری تاریخ کا عہدساز دن ہے جب برصغیر ہند و پاک کے مسلمانوں کی غلامی کے دور کا آغاز شروع ہوا۔ یہ تاریخ جنگِ پلاسی کی تاریخ ہے جو صرف ۹ گھنٹے جاری رہی اور اس کے نتیجے میں برصغیر کے مسلمانوں کی غلامی دو صدیوں تک جاری رہی۔ اس جنگ نے میر جعفر نام کے ایک کردار کو برِصغیر کی تاریخ، ادب اور شاعری میں متعارف کرایا جو غداری اور وطن فروشی کی علامت ہے۔

پلاسی ایک گاؤں کا نام ہے جو اُس وقت کےمتحدہ بنگال کے دارلحکومت مرشد آباد سے ۳۰ میل اور مغربی بنگال کے موجودہ دارلحکومت کولکتہ سے ۱۵۰ میل کے فاصلے پر ایک دریا کے کنارے واقع ہے۔

۲۳ جون ۱۷۵۷ کو میدانِ جنگ کا نقشہ کچھ یوں تھا کہ شمال میں بنگال، بہار اور اڑیسہ کے نواب ناظم کی فوج خیمہ زن تھی۔ ۲۰ سالہ نوجوان نواب کا نام مرزا محمد اور لقب سراج الدولہ تھا۔ تاریخ میں وہ اپنے لقب سے مشہور ہے۔ سراج الدولہ کی فوج تقریباً پچاس ہزار سپاہ پر مشتمل تھی جس میں ۳۵ ہزار پیادہ اور ۱۵ ہزار گھڑسوار شامل تھے۔ اس زمانے کے دستور کے مطابق ریاست کا سربراہ نواب سراج الدولہ فوج کا کمانڈر انچیف تھا۔ ڈپٹی کمانڈر انچیف میر مدن تھا۔ فوج کے مختلف ڈویژن مختلف جنرلوں کی کمان میں تھے جن میں سے ایک جنرل میر جعفر تھا جس کا پورا نام سید محمد جعفر علی تھا۔
جنوب میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک افسر رابرٹ کلائیو کی مختصر سی فوج تھی جس کا ۷۰ فیصد حصہ ہندوستانی سپاہ پر مشتمل تھا۔ انگریزی فوج صرف ۲۹۷۱ نفوس پر مشتمل تھی جس میں ۶۰۰ یورپین سپاہی، ۲۱۰۰ ہندوستانی پیادہ فوج، ۱۰۰ مخلوط النسل یوریشیائی سپاہی ۱۷۱ توپچی شامل تھے۔ اس طرح سراج الدولہ کی کی فوج کلائیو کے مقابلے میں سترہ گنا بڑی تھی۔ کلائیو کے پاس ۱۲ جبکہ سراج الدولہ کے پاس ۵۳ توپیں تھیں۔ اس طرح کلائیو کے مقابلے میں نواب کا توپ خانہ بھی چوگنا تھا جو فرانسیسی فوجی افسران کی تحویل میں تھا۔

جنگ پلاسی شروع ہونے سے کچھ روز قبل میر مدن نے نواب سراج الدولہ کو مشورہ دیا کہ انگریزوں سے نمٹنے سے پہلے وہ میر جعفر اور اس جیسے دوسرے سازشیوں اور غداروں کو ٹھکانے لگا دے لیکن نواب سراج الدولہ نوجوان اور ناتجربہ کار تھا۔ اس نے آستین کے سانپوں کو پہچاننے میں غلطی کی جس کا خمیازہ اسے بعد میں بھگتنا پڑا۔ چرب زبان میر جعفر نے نواب کو قرآن پر ہاتھ رکھ کر اپنی وفاداری کا یقین دلایا اور اسے مطمئن کر دیا۔

جنگ شروع ہوئے تین گھنٹے گزر چکے تھے اور کلائیو نے پسپا ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ اس وقت اس نے دیکھا کہ نواب سراج الدولہ کی فوج کا ایک حصہ اپنی فوج سے الگ ہو کر اس کی جانب آ رہا ہے۔ یہ میر جعفر کی ڈویژن تھی۔

جون کے آخر میں بنگال مون سون گھٹاؤں کی زد میں ہوتا ہے۔ اس دن بھی آسمان پر بادل چھائے تھے اور گیارہ بجے آسمان اچانک پھٹ پڑا۔ تیز بارش میں نواب سراج الدولہ کی گرجتی ۵۳ توپیں خاموش ہو گئیں کیونکہ بارود اور توپوں کو متوقع بارش سے بچانے کیلیے کوئی انتظام نہ کیا گیا تھا۔ اس بے تدبیری اور عدم توجہی نے جنگ کا اور اگلے دو سو سال کیلیے ہندوستان کی تقدیر کا فیصلہ کر دیا۔ بارود بھیگنے اور توپوں کے پانی میں نہا کر عارضی طور پر خاموش ہو جانے کی وجہ سے نواب سراج الدولہ کے لشکر میں سراسیمگی پھیل گئی۔ یہ دیکھ کر بہادر اور وفادار ڈپٹی کمانڈر انچیف فوج کا حوصلہ بڑھانے کیلیے خود میدانِ جنگ میں کود پڑا اور وطن پر نثار ہو گیا۔

دوسری طرف میر جعفر قرآن پر دیئے گئے حلف کو بھول گیا۔ اُس نے نواب سراج الدولہ کو پسپائی کا مشورہ دیا جو کہ نواب نے فوراً قبول کرلیا۔  بنگالی فوج کا بارود بھیگ ضرور گیا تھا مگر ناکارہ نہیں ہوا تھا۔ اسے خشک کرنے کے بعد دوبارہ استعمال میں لایا جا سکتا تھا اس کے علاوہ ان کو فیصلہ کن عددی برتری بھی حاصل تھی۔ لیکن میر جعفر بِک چکا تھا۔ اس نے کلائیو کو پیغام بھیجا کہ میدان صاف ہے۔ یہ غیر متوقع خوش خبری ملتے ہی انگریزی فوج جو کہ پسپائی کا سوچ رہی تھی، اپنی توپوں کے ساتھ نواب سراج الدولہ کی فوج پر چڑھ دوڑی اور یوں سہ پہر تقریباً پانچ بجے جنگ کا فیصلہ ہو گیا۔

جنگِ پلاسی کے بعد نواب سراج الدولہ کی انتہائی بھیانک طریقے سے مسخ شدہ لاش کی مرشد آباد میں نمائش کرائی گئی اور ۶ دن بعد ۲۹ جون کو میر جعفر ’’بنگال، بہار اور اڑیسہ‘‘ کے ’’نواب ناظم‘‘ کی حیثیت سے تختِ سیاہ پر بیٹھا۔ اس طرح اس غداری کی وجہ سے ہندوستان کی تاریخ کے ایک سیاہ باب کا آغاز ہو گیا۔

%d bloggers like this: