Category Archives: اخلاقیات

رشوت خوری ۔ ایک لعنت

اکثر دورانِ سفر آپ کی نظر ٹریفک پولیس کے جوانوں پر پڑتی ہو گی جو مختلف مقامات پر اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہوتے ہیں۔ اگر آپ ذاتی سواری کے مالک ہیں تو یقیناً ان سے کئی بار واسطہ بھی پڑا ہو گا۔ اِن لوگوں کے فرائض میں دو باتیں شامل ہیں:

۱۔ ٹریفک پر نظر رکھنا اور لوگوں سے ٹریفک قوانین پر عمل کروانا
۲۔ رشوت لینا

۔۔۔  میرے گاؤں سے تعلق رکھتا ہے اور ٹریفک پولیس میں سپاہی ہے۔ وہ سرِ عام  رشوت اور منتھلی وصول کرتے ہوئے بالکل بھی نہیں شرماتا۔ ایک بار میں نے اس سے پوچھا یار رشوت کیوں لیتے ہو؟ تمھیں اچھی طرح معلوم ہے یہ کتنا بڑا گناہ ہے۔ اس نے جواب دیا؛ کیا کریں بھائی اوپر افسروں کو پیسے دینے ہوتے ہیں وہ اپنی تنخواہ سے تو نہیں دے سکتے نا!

اس کی بات سن کر مجھے ایک پرانا لطیفہ یاد آ گیا۔ ایک آدمی نے کسی پولیس والے کو رشوت دی جو پولیس والے نے فوراً قبول کر لی۔ پیسے جیب میں ڈالنے کے بعد پولیس والے نے آدمی کو کہا: تمہیں شرم نہیں آتی رشوت دیتے ہوئے؟ آدمی یہ سن کر حیران رہ گیا۔ لیکن جی کڑا کے بولا: اور آپ کو رشوت لیتے ہوئے شرم نہیں آتی؟ "نہیں۔  لینے والے کی کوئی مجبوری بھی ہو سکتی ہے۔” پولیس والے نے جواب دیا

یہ ان کی مجبوری ہے یا خباثت مگر ہم نجانے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ رشوت دینے والا اور لینے والا دونوں ہی جہنمی ہیں۔

~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~

انڈیا میں حرام خوروں کو شرمندہ کرنے کا ایک انوکھا اور دلچسپ طریقہ اپنایا گیا جو کافی مقبول بھی ہوا ہے۔ پانچواں ستون نامی ایک تنظیم نے  "صفر روپیہ” کے کرنسی نوٹ چھاپ دیے جن پر رشوت نا دینے اور لینے کا عہد چھپا ہوا ہے۔ یہ نوٹ مختلف لوگوں میں تقسیم کیے گئے تا کہ وہ انہیں رشوت مانگنے والوں کو دے کر شرمندہ کر سکیں۔ سنا ہے کہ اس تحریک کے خاطر خواہ نتائج سامنے آئے ہیں۔


Advertisements

ایک کہانی

کہانی

ابھی صبح روشنی نہیں ہوئی تھی. ایک جنگل میں ایک بڑے سے درخت کے پاس چھوٹا سا خیمہ لگا تھا جس میں ایک بدو اپنے بچوں کے ساتھ سو رہا تھا۔ بدو نے کچھ مرغ پال رکھے تھے جو درخت کی اونچی شاخ پر بیٹھے اونگھ رہے تھے۔

وقت گزر رہا تھا اور صبح قریب آ رہی تھی۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا سرسرانے لگی۔ ایک بوڑھے مرغ کی آنکھ کھلی۔ اس نے صبح کے آثار دیکھے تو خدا کا شکر ادا کیا اور پورے زور سے اذان دی۔

ایک بھوکی لومڑی نے اذان کی آواز سنی تو درخت کی طرف بھاگی، قریب آئی ۔ ادھر ادھر دیکھا کچھ نہ پایا۔ اوپر کی طرف نگاہ اٹھی۔ اونچی شاخ پر مرغ کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔ جی للچایا کہ اسی کو ناشتہ بنایا جائے، مگر مرغ تھا اونچی شاخ پر اور لومڑی زمین پر۔ مرغے تک پہنچے تو کس طرح؟ سوچنے لگی کہ مرغے کو کس طرح نیچے لائے۔ آخرکار ترکیب ذہن میں آ ہی گئی، وہ چِلّا کر بولی:

"بھائی مرغے! تمہاری پیاری آواز مجھے یہاں کھینچ لائی ہے۔ صبح ہو گئی ہے، درخت سے نیچے اترو تاکہ مل کر نماز پڑھیں۔ تم تو جانتے ہی ہو کہ باجماعت نماز کا بڑا درجہ ہے”۔

مرغا بھی تجربہ کار تھا، لومڑی کی مکاری سمجھ گیا۔ شاخ  پر بیٹھے بیٹھے بولا:

"بی لومڑی! آپ کا آنا مبارک! مگر امام کے بغیر باجماعت نماز کیسے ہو گی؟”

لومڑی نے کہا: "مرغے میاں! تم بھی تو پڑھے لکھے ہو، آؤ تم ہی امام بن جاؤ۔ امام کا انتظار کرتے رہے تو نماز کا وقت گزر جائے گا۔ بس اب نیچے اترو اور نماز پڑھا دو”۔

مرغے نے جواب دیا: "بی لومڑی! آپ گھبرائیں نہیں، امام یہاں موجود ہے۔ ذرا اسے جگا لو۔ یہ دیکھو، سامنے درخت کی جڑ میں سو رہا ہے”۔

لومڑی نے جڑ کی طرف دیکھا تو ایک شخص سویا ہوا نظر آیا۔ اسے دیکھ کر واپس جنگل کو بھاگی۔

مرغے نے چِلا کر کہا: "کہاں جاتی ہو؟ امام کو جگا دو، مل کر نماز پڑھیں گے۔”

لومڑی نے بھاگتے ہوئے جواب دیا: "بھیا!  میرا وضو ٹوٹ گیا ہے، ابھی وضو کر کے آتی ہوں۔”

اخلاقی سبق

اس پرانی کہانی سے حکمت کے کئی پہلو نکلتے ہیں۔ لومڑی نے خوف اور جلد بازی میں جو موقع گنوا دیا، آپ اس سے سبق حاصل کیجیے۔

1. غلط کام کرتے وقت ڈریں مت! ابتدائی ناکامی کی صورت میں دلبرداشتہ مت ہوں۔ یاد رکھیے مستقل مزاجی ہی کامیابی کی کنجی ہے۔

2. پیٹ کی خاطر جھوٹ بولنے میں کوئی حرج نہیں۔ اور بار بار بولنے سے ہی اس پر سچ کا گمان ہو سکتا ہے۔

3. سزا جزا کا مالک رب ہے۔ ہم اپنے اعمال کیلیے صرف اس کے آگے ہی جوابدہ ہیں۔ یہ پولیس اور عدالتیں تو خود چور ہیں، ہمیں ان سے ڈرنے کی ضرورت نہیں!

4. کام نکلوانے کی خاظر "خوشامد” کا کارآمد نسخہ استعمال کیجیے۔

5. اپنے ایمان کو مضبوط کیجیے تاکہ ایسے مشکل مواقع پر وضو نہ ٹوٹ جائے۔



%d bloggers like this: