طاقت کی حکومت

کہتے ہیں کہ کسی جنگل میں ایک شیر شکار کو نکلا۔ اس نے اپنے ساتھ لومڑی اور گیدڑ کو بھی ملا لیا۔ شام کو جب شکار کی تقسیم کا وقت آیا تو شیر نے دونوں کو حکم دیا کہ شکار تقسیم کیا جائے۔ گیدڑ اور لومڑی نے عرض کی کہ "آپ تقسیم فرمائیں”۔

لومڑی اور گیدڑ کی یہ عاجزی دیکھ کر شیر نے شکار کے تین حصے کیے۔ ایک حصہ اپنے سامنے رکھ لیا کہ "میں بھی شکار میں شامل تھا”۔

دوسرا حصہ بھی اپنے سامنے گھسیٹ لیا اور دونوں کو بتایا کہ "میں چونکہ بادشاہ ہوں لہٰذا اس حصے پر میرا حق ہے”۔

اور تیسرے حصے پر اپنا پنجہ رکھ دیا اور کہا کہ "اگر ہمت ہے تو اٹھا لو”۔

اتنی ذلالت اور بے عزتی کے باوجود بھی لومڑی اور گیدڑ جب اپنے اپنے قبیلوں میں واپس گئے تو خوشی کے مارے پھولے نہیں سماتے تھے کہ انہیں بھی بادشاہ کے ہمراہ شکار کھیلنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔  

Advertisements

Posted on مئی 5, 2011, in حالاتِ حاضرہ and tagged , , , . Bookmark the permalink. 24 تبصرے.

  1. لومڑی اور گیدڑ نے اپنے قبیلوں کے سامنے بادشاہ کے انصاف کے بھی گن گائے تھے نا ۔

  2. بہت خوب، شکر کریں دونوں کا تورا بورا نہیں بنا۔۔۔
    😉

  3. شير تو ہوا امريکا ۔ لومڑی ہوئے ہمارے حکمران ۔ گيدڑ کيا ہمارے عوام ہيں ؟

  4. بھئی واہ

  5. ہم نے دلت کو افتخار سمجھ لیا ہے

  6. شکریہ، مہربانی، عین نوازش۔۔۔

    بڑی عمدہ مثال دی ہے بھائی نے۔۔۔ لگے رہو، شاباش۔۔۔

  7. آپ نے مثال دی ہے۔ باقی عقل مند کیلئے اشارہ ہی کافی ہے۔

  8. پاکستانی اشرافیہ اور پاکستان آرمی کے بارے میں اس سے اچھی مثال کا ملنا مشکل ہے. بہت اعلیٰ جناب

  1. پنگ بیک: طاقت کی حکومت | Tea Break

تبصرہ کیجیے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: