ایک امریکی کی سوچ

جیفرے شیلڈن گرین ایک سابقہ امریکی میرین فوجی تھا جس سے میری جان پہچان فیس بُک کے ذریعے ہوئی۔  گو کہ ہماری دوستی زیادہ عرصہ نہ چل سکی مگر اس دوران اس کے ساتھ میری لمبی چوڑی بحث چلتی رہی جس سے مجھ پر بعض ایسی باتوں کا بھی انکشاف ہوا جو مجھے پہلے معلوم نہ تھیں۔ اس کے نظریات ایک عام امریکی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں جو ہر جگہ ہمیں امریکی پالیسیوں میں نظر آتے ہیں۔

پہلا سوال جو اس نے مجھ سے کیا وہ یہ تھا کہ "اسلامی تعلیمات دہشت گردی پر کیوں زور دیتی ہیں؟”۔ میں نے اس کو بتایا کہ اسلام سلامتی کا مذہب ہے اور اس کی تعلیمات کا دہشت گردی سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں! اس نے پوچھا "اگر اسلام میں دہشت گردی نہیں تو تم لوگ جہاد کس چیز کو کہتے ہو؟”۔ اس کے جواب میں میں نے جہاد کی تعریف اور اسکی اقسام بیان کیں۔ میں نے اس پر واضح کیا کہ جب کسی مسلمان ملک پر کافر ملک حملہ آور ہو جائے تو جارحیت کے شکار مسلمان ملک کے ہر فرد پر جہاد فرض ہو جاتا ہے۔ اگر مسلمان ملک کمزور ہو اور حملہ آور ملک سے مقابلہ کرنے کی سکت اور وسائل نہ رکھتا ہو تو اس کے قریب ترین ہمسایہ ملک یا ممالک کے مسلمانوں پر جہاد فرض ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے بھائیوں کی مدد کریں جو مصیبت میں ہیں۔ اگر ہمسایہ مسلمان ممالک بھی کمزور ہوں تو مزید ان کے ہمسایہ ممالک اور اسی طرح بالآخر ساری دنیا کے مسلمانوں پر جہاد فرض ہو جاتا ہے۔

ان ساری تفصیلات کا مقصد اسے یہ سمجھانا تھا کہ مسلمان چاہے دنیا کے کسی بھی کونے سے تعلق رکھتے ہوں، اپنے مظلوم عراقی، فلسطینی اور افغان بھائیوں کیلیے کیا جذبات رکھتے ہیں اور ان کی مدد کرنے کی کیوں کوشش کرتے ہیں۔

مسئلہ فلسطین پر اس کا موقف وہی تھا جو امریکی حکومت کا ہے کہ اسرائیل اپنے دفاع کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اس نے مجھے بتایا کہ حماس اور حزب اللہ دہشت گرد تنظیمیں ہیں اور ایران و شام جیسے دہشت گرد ممالک کی امداد سے چل رہی ہیں۔ یہ شطرنج کے مہرے ہیں اور اصل کھلاڑی ایران و شام وغیرہ ہیں۔  جب میں نے اسے اسرائیلی جارحیت کی مثالیں دیں تو اس نے ان کا دفاع یہ کہہ کر کیا کہ بات اتنی بھی نہیں ہوئی جتنی تم بڑھا چڑھا کر بیان کر رہے ہو۔ یہ سب من گھڑت قصے کہانیاں اور سازشی نظریات ہیں۔

اتفاق سے انہی دنوں اسرائیل غزہ پر چڑھ دوڑا اور اس نے غزہ پر وحشیانہ بمباری شروع کر دی۔  میں نے اس سے پوچھا کہ اب تو تم روز ٹی وی پر بھی دیکھتے ہو اس اندھا دھند بمباری میں روزانہ درجنوں لوگ ہلاک ہو رہے ہیں، بتاؤ اس کی کیا تو جیہہ پیش کرتے ہو؟ اس نے وجہ بیان کی کہ "دراصل یہ ہلاکتیں حماس کی وجہ سے ہو رہی ہیں کیونکہ حماس ان ہلاک ہونے والے لوگوں کو ’ڈھال‘ کے طور پر استعمال کر رہی ہے”۔ ایک میرین کے منہ سے میں یہ انوکھی وضاحت سن کر حیران رہ گیا۔

میں اس وقت یہ سوچ رہا ہوں کہ اگر میرا اس کے ساتھ رابطہ ہوتا تو میں اس سے پوچھتا کہ حماس اور حزب اللہ بقول تمہارے دہشت گرد سہی مگر اس امدادی جہاز کے کارکنوں کا کیا گناہ تھا جنہیں بلاوجہ موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اور وہ اس گھناؤنے فعل کی بھی ایک عجیب و غریب دلیل دیتا۔

میں نے جیفرے سے پوچھا کہ  سچ بتاؤ تم امریکی لوگ اسرائیل کی اتنی حمائت کیوں کرتے ہو؟ اس نے جواب دیا "میرے دوست یہ ہماری مذہبی کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ یہودیوں کی ہر ممکن مدد کرو”۔ میں نے اسے بتایا کہ کس طرح ان یہودیوں نے اپنی تحریف شدہ تورات کو تمہاری انجیل میں گھسیڑا اور کیسے اپنے لوگ تمہارے مذہبی رہنما بنائے جو بعد میں پوپ کے عہدے تک پہنچے تو اس نے میری بات کو سازشی نظریہ کہہ کر رد کر دیا۔

میں نے آخری جذباتی وار کیا "کیا تم لوگ اس بات کو بھول گئے ہو کہ یہ وہی قوم ہے جس نے تمہارے عیسیٰ ؑ کو سولی پر لٹکا دیا تھا؟”۔

اس نے جواب دیا کہ "ہم یہودی قوم کے اس کام کے لیے احسان مند ہیں کہ انھوں نے عیسیٰ ؑ کو سولی پر چڑھا دیا  اور اس طرح ہمارے گناہوں کا کفارہ ادا ہو گیا”۔


Advertisements

Posted on جون 19, 2010, in اسلام, حالاتِ حاضرہ, سیاست, عیسائیت and tagged , , , , , , , . Bookmark the permalink. 7 تبصرے.

  1. امیریکی فوج میں وہی لوگ پھرتی ہوتے ہیں جو احمق ترین ہوتے ہیں۔ عقلمند اور پڑھا لکھا آدمی کوئی اور کیریر تلاش کرتا ہے۔ یہ بات بھی مجھے ایک امریکی ہی نے بتائی تھی۔

  2. مگر امیریکہ میں رہنے والے پاکستانی تو اس طرح کی کوئی بات نہیں بتاتے۔، ہاں کسی امریکی سے میں نے اس موضوع پر کبھی کوئی بات نہیں کی نہ ارادہ ہے۔

  3. "ایک میرین کے منہ سے میں یہ انوکھی وضاحت سن کر حیران رہ گیا۔”
    اچھا، میرے لئے تو یہ ایک عام سی بات ہے جو میں روزانہ سنتا ہوں۔ آپ بھی عادی ہو جائیں۔ آخر کو یہ دنیا یہودی ہی تو چلا رہے ہیں، اسلئے اس سے پہلے کہ میرا کمنٹ سازشی تھیوری بن جائے۔ اللہ حافظ

  4. امريکی حکومت کا پروپيگنڈہ ہے کہ مسلمان جوانوں کو برين واش کر کے خودکُش بمبار بنايا جاتا ہے جو ميرے اکثر ہموطن من و عن قبول کرتے ہيں ۔ اگر امريکی حکومت کے کردار پر نظر ڈالی جائے تو واضح ہو گا کہ حکمرانوں نے اپنی پوری قوم کو ہِپنوٹائز کر رکھا ہے اور وہ اتنے خوف زدہ ہيں کہ مسلمان کا نام سُن کر ہی کانپنے لگتے ہيں ۔ ہر دو تين ہفتے کے بعد امريکی حکومت ايک خبر آڈيو کيسٹ يا وڈيو ريليز کرتی ہے جو القاعدہ کی طرف سے ہوتی ہے اور اس ميں تڑی دی گئی ہوتی ہے ۔ کبھی کسی نے سوچا ؟ کہ يہ آڈيو يا وڈيو کس طرح ٹی وی سٹيشن تک پہنچ جاتی ہے جبکہ امريکہ پوری دنيا پر چھايا ہوا ہے اور فضا ميں امريکی سيارے بھی سب کچھ ديکھ رہے ہيں جن کی مدد سے وہ پاکستان کے قبائلی علاقہ ميں مزائل پھيتا ہے

  5. بجلی بند ہو جانے کی وجہ سے آخری فقرہ گڑبڑ ہو گيا جو اس طرح ہونا چاہيئے
    وہ پاکستان کے قبائلی علاقہ ميں مزائل پھينکتا ہے مگر کيسٹ لے کر آنے والے کو نہيں پکڑ سکتا

  6. میرے ایک دوست ہیں یہاں جاپان میں جاپانیوں کو انگلش پڑھاتے ہیں۔انہوں نے ایک دن مجھ سے پوچھا کہ مسلماں امریکیوں کو کیوں ناپسند کرتے ہیں۔میں نے جب ٹال مٹول سے کام لیا تو کہنے لگے کہ اس لئے کہ ہم امریکی امیر ہیں اور مسلمان جیلیسی محسوس کرتے ہیں؟ میں نے جواب میں یہی کہا کہ جناب آپ کیا امیر ہیں ہر ماہ کے آخر میں پیسے نہ ھونے کو رونا رو کر ریسٹورنٹ کا بل تو میرے پلے ڈالتے دیتے اور باتیں امیروں والی یہی وجہ ھے امریکیوں کو ناپسند کر نے والی۔کیا میں نے غلط کہا تھا ایڈورڈ صاحب کو؟ لیکن ایڈورڈ صاحب کافی ڈھیٹ واقع ھوئے ہیں یعنی شرم وغیرہ نہیں آتی انہیں پھر کھانے کی دعوت دیتے ہیں ہمارے جیب سے۔

  7. امریکی کی سوچ میرے خیال سے تو ہر پاکستانی بھی آجکل یہی سوچتا ہے یعنی امریکیوں اور پاکستانیوں کی مشترکہ سوچ

تبصرہ کیجیے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: