نام نہاد مہذب لوگ

لوگ فیس بُک پر دلچسپ چیزیں شیئر کرتے رہتے ہیں۔  دلچسپ چیز کو شیئر کرنے کے چکر میں ایک لڑکی کو پولیس کی پوچھ گچھ کا سامنا کرنا پڑا۔  ہوا کچھ یوں کہ ایسکس (برطانیہ) میں ایک اٹھارہ سالہ ماں نے اپنے چھ ماہ کے بیٹے کے منہ میں سگریٹ ڈالا اور اس کی تصویر کھینچ لی۔

Ollie


اِس تصویر کو اُس نے فیس بک پر شیئر کردیا۔ تصویر کو جیسے ہی لڑکی کے آن لائن دوستوں نے دیکھا، وہ فوراً تشویش میں مبتلا ہو گئے۔ انھوں نے پولیس کو مطلع کر دیا۔ پولیس اور سوشل سروس والوں نے ربیکا (بچے کی ماں) کے گھر کا دورہ کیا اور اپنی تسلی کرنے کے بعد اعلان کیا کہ بچے کو کوئی خطرہ نہیں۔

یہ تو تھی کہانی بچے کی جس کے منہ میں اس کی ماں نے دلچسپ اور یادگار تصویر لینے کے چکر میں سگریٹ ڈال دیا۔ اب پولیس کی آمد کے بعد اس کے اور اس کے دوستوں کے تاثرات ان کی اپنی زبان میں

ربیکا نے اپنے سٹیٹس میسج کو کچھ یوں اپڈیٹ کیا:

‘Some w***** reported me to the police abwt picture off ollie.’

اس کے بعد اپنے بیٹے سے محبت کا اظہار ان الفاظ میں کیا:

‘Why Would SomeOne Do That To Me U Ollie No was taking U Yur Mine for lyfee Darlinggg Mummy Loves You :)’

اس پر اس کے ایک دوست نے ہمدردی کا اظہار کیا:

‘Some ppl r nosey f****** aint they!! dw [don’t worry] ur a good mum they wont hassle u 4 long!!!’

ایک اور دوست نے یوں تنقید کی:

‘What chance has the kid got if the family behave like this?’

اور اِس کے بعد یہ تصویر فیس بُک سے ہٹا لی گئی۔

یہ تھی حرکت ایک مہذب، تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ معاشرے میں رہنے والے لوگوں کی، جو ہمیں ذہنی پسماندگی کا طعنہ مارتے نہیں تھکتے ہیں۔

Advertisements

Posted on جنوری 20, 2010, in متفرقات, انٹرنیٹ, تصاویر and tagged , . Bookmark the permalink. 7 تبصرے.

  1. مہذب معاشرے کی علامت یہ ہے کہ ایک ماں کے اپنے بچے کی اچھی پرورش نہ کرنے پر سرکاری معاشرتی بہبود کے ادارے حرکت میں آگئے۔

    آپ کی پوسٹ انتہائی متعصب ہے۔ اپنے قیمتی الفاظ نفرت پھیلانے میں ضائع نہ کریں۔

  2. ہمم خیر ابھی حال ہی میں برٹش ائیر ویز میں ایک بچہ جو کہ اکیلے سفر کر رہا تھا کو ساتھ والی سیٹ میں شادی شدہ مرد اور بیوی کیساتھ بیٹھنے کی اجازت نہ ملی کہ وہ مرد اسکو شہوت کی نظر سے دیکھے گا!
    ہاہاہہاا

  3. فیس بک پر اسی طرح کے کئی ڈرامے سامنے آچکے ہیں۔ دو پہلے پڑھ چکا تھا آج ایک اور پڑھا۔

  4. جہاں انسانوں کی زیادتی ہو وہاں تماشہ بننا ایک معمول بن جاتا ہے!

  5. مجھے تو سمجھ نہیں آئی کہ اس میں اتنی تشویش کی کونسا بات تھی۔ سگریٹ تو بجھا ہوا ہے۔ 🙂

  6. میرے بھائی تنقید کرنے کے لیے تو اور کئی چیزیں موجود ہیں۔۔ ایک ذمہ دار شخص جس نے غیر ذمہ داری پر پولیس کو مطلع کیا اس کی تو آپ نے تعریف نہیں کی اور نا اس سسٹم کی جس نے فوری حرکت میں‌ آکر بچے کی عافیت کا معاملہ حل کیا۔۔ یہ تو ایک مثبت چیز تھی جس میں سے آپ نے محض ترش زبانی کا معاملہ اٹھایا اور باقی چیزیں گول کرگئے۔

  7. سوشل سروس والے اپنا کام ہی تو کر رہے تھے۔۔۔

تبصرہ کیجیے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: