رہنما

جیمز تھربر کی ایک علامتی کہانی جسے بار بار پڑھنے کی ضرورت ہے

………………………………………………………………………………………………………………………………………

پرانے زمانے کی بات ہے کہ ایک تاریک اور بے ستارہ رات کو ایک الو کسی شاخ پر گم سم بیٹھا تھا۔ اتنے میں دو خرگوش ادھر سے گزرے۔ ان کی کوشش تھی کہ وہ اس درخت کے پاس سے چپ چاپ گزر جائیں لیکن جونہی وہ آگے بڑھے الو پکارا:

"ذرا ٹھہرو۔۔۔۔” اس نے انہیں دیکھ لیا تھا۔

"کون؟” خرگوش مصنوعی حیرت سے چونکتے ہوئے بولے۔ انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ اتنی گہری تاریکی میں بھی کوئی انہیں دیکھ رہا ہے۔

"خرگوش بھائیو۔۔۔ ذرا بات سنو۔۔۔” الو نے انہیں پھر کہا، لیکن خرگوش بڑی تیزی کے ساتھ بھاگ نکلے اور دوسرے پرندوں اور جانوروں کو خبر دی کہ الو سب سے مدبر اور دانا ہے کیونکہ وہ اندھیرے میں دیکھ سکتا ہے۔

لومڑی نے کہا کہ ذرا مجھے اس بات کی تصدیق کر لینے دو، چنانچہ وہ اگلی شب اس درخت کے پاس پہنچی اور الو سے مخاطب ہو کہ کہنے لگی: "بتاؤ میں نے اس وقت کتنے پنجے اٹھا رکھے ہیں؟”

الو نے فوراً کہا: "دو”

اور جواب درست تھا۔

"اچھا یہ بتاؤ یعنی کا مطلب کیا ہوتا ہے؟” لومڑی نے دریافت کیا۔

"یعنی کا مطلب مثال دینا ہوتا ہے۔”

لومڑی بھاگم بھاگ واپس آئی۔ اس نے جانوروں اور پرندوں کو اکٹھا کیا اور گواہی دی کہ الو سب سے مدبر اور سب سے دانا ہے، کیونکہ وہ اندھیرے میں دیکھ سکتا ہے اور پیچیدہ سوالوں کے جواب دے سکتا ہے۔

"کیا وہ دن کی روشنی میں بھی دیکھ سکتا ہے؟” ایک بوڑھے بگلے نے پوچھا۔ یہی سوال ایک جنگلی بلے نے بھی کیا۔

سب جانور چیخ اٹھے کہ دونوں کا سوال احمقانہ ہے۔ پھر زور زور سے قہقہے لگانے لگے۔ جنگلی بلے اور بوڑھے بگلے کو جنگل بدر کر دیا گیا اور متفقہ طور پر الو کو پیغام بھیجا کہ وہ ان سب کا سربراہ اور رہنما بن جائے۔ وہی سب سے ذہین و دانا اور مدبر ہے اور اسی کو ان کی رہبری اور رہنمائی کا حق ہے۔

الو نے یہ عرضداشت فوراً قبول کر لی۔ جب وہ پرندوں اور جانوروں کے پاس پہنچا، دوپہر تپ رہی تھی، سورج کی تیز روشنی چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی اور الو کو کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ وہ پھونک پھونک کر قدم اٹھا رہا تھا جس سے اس کی چال اور شخصیت میں وہ وقار اور رعب داب پیدا ہو گیا جو بڑی شخصیتوں کا خاصہ ہوتا ہے۔ وہ اپنی گول گول آنکھیں کھول کھول کر اپنے چاروں طرف دیکھنے کی کوشش کرتا۔ جانور اور پرندے اس اندازِ نظر سے اور بھی متاثر ہوئے۔

"یہ ہمارا رہنما ہی نہیں، سب کا رہنما ہے۔ یہ تو دیوتا ہے۔۔۔۔ دیوتا۔۔۔۔ دیوتا۔۔۔۔” ایک موٹی مرغابی نے زور سے کہا۔ دوسرے پرندوں اور جانوروں نے بھی اس کی تقلید کی اور زور زور سے رہنما دیوتا۔۔۔۔ کے نعرے لگانے لگے۔

اب الو ۔۔۔ یعنی ان سب کا رہنما آگے آگے اور وہ سب بے سوچےاندھا دھند اس کے پیچھے پیچھے جا رہے تھے۔ روشنی کی وجہ سے اسے نظر تو کچھ نہ آتا تھا۔ چلتے چلتے وہ پتھروں اور درختوں کے تنوں سے ٹکرایا۔ باقی سب کا بھی یہی حال ہوا۔ اس طرح وہ ٹکراتے اور گرتے پڑتے جنگل سے باہر بڑی سڑک پر پہنچے۔ الو نے سڑک کے درمیان چلنا شروع کر دیا۔ باقی سب نے بھی اس کی تقلید کی۔

تھوڑی دیر بعد ایک عقاب نے جو ہجوم کے ساتھ ساتھ اڑ رہا تھا، دیکھا کہ ایک ٹرک انتہائی تیز رفتار کے ساتھ ان کی جانب دوڑا چلا آرہا ہے۔ اس نے لومڑی کو بتایا جو الو کی سیکرٹری کے فرائض سرانجام دے رہی تھی۔

"دیوتا۔۔۔ آگے خطرہ ہے۔” لومڑی نے بڑے ادب سے الو کی خدمت میں گزارش کی۔

"اچھا؟” الو نے تعجب سے کہا۔

"کیا آپ کسی خطرے سے خوف نہیں کھاتے؟” لومڑی نے عرض کی۔

"خطرہ! خطرہ! کیسا خطرہ؟” الو نے پوچھا۔

ٹرک بہت قریب آ پہنچا تھا، لیکن الو بے خبری میں اسی طرح بڑی شان سے اٹھلاتا جا رہا تھا۔ رہبرِ فراز کے پیروکار بھی قدم سے قدم ملائے چل رہے تھے۔ ایک عجب سماں تھا۔

"واہ واہ ۔۔۔۔ ہمارا رہنما ذہین اور مدبر و دانا ہی نہیں بڑا بہادر بھی ہے۔۔۔۔” لومڑی زور سے پکاری اور باقی جانور ایک ساتھ چیخ اٹھے: "ہمارا ذہین اور مدبر۔۔۔”

اچانک ٹرک اپنی پوری رفتار سے انہیں کچلتے ہوئے گزر گیا۔ عظیم دانا اور مدبر رہنما کے ساتھ اس کے احمق پیروکاروں کی لاشیں بھی دور دور تک بکھری پڑی تھیں۔

Advertisements

Posted on ستمبر 24, 2009, in متفرقات and tagged , . Bookmark the permalink. 14 تبصرے.

  1. یہ کہانی کچھ دیکھی دیکھی، کچھ بیتی بیتی سے کیوں لگ رہی ہے بھلا؟

  2. اس کہانی کا تعلق ہماری سیاستدانوں اور انکے پیروکاروں سے ہے ۔بہت شکریہ

  3. اس کہانی ميں حکمران الو قوم الو کے پٹھے يعني جو جانور اسکے پيچھے چل رہے تھے اور ميں عقاب ہوں جو انکو تنبيہہ کر رہا تھا

    • الو اور الو کے پٹھوں والی بات تو ٹھیک ہے مگر کیا آپ واقعی عقاب ہیں؟ کہیں لومڑی تو نہیں؟
      شکریہ بہن بلاگ پر تشریف آوری کیلیے۔

  4. سعد بھائی!

    اسکا ایک بہت آسان حل ہے کہ دیگر مسلم ریاستوں کی طرح ایسی خرافات ایجاد کرنے والوں کی گردن شروع میں ہی اڑا دی جائے تو کسی کو ایسے دعوے کرنے کی جراءت نہ ہو۔ اور ایسی خرافات فتنے کا تناور درخت کبھی نہ بن پائیں جس پہ قابو پانے کے لئیے کسی ایک کی گردن اڑانے سے ہزار مرتبہ زائد توانائی خرچ کرنی پڑے اور ہر طرف سے تھُو تھُو ہو مگر پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا۔ محض اسلئیے کہ ہماری حکومتوں میں اخلاقی جرائت اور اپنے مذہب پہ مکمل یقین کی کمی ہے۔ اور اکثر پاکستانی حکومتوں کی چونکہ عوام میں جڑیں نہیں ہوتیں اسلئیے وہ ہر معاملے میں انے بیرونی ان داتا اور آقاؤن کی خوشنودی کی خاطر ان کی طرف دیکھتی ہیں۔ جس سے ہر کسے نہ کسے کو پاکستان اور مزھب سے ٹھٹھا مزاق کرنے کی سوجھتی رہتی ہے۔ رہی سہی کسراردو پہ عبور رکھنے والے کچھ ھندؤ عناصر او عربی میں خاصکر یہود، انٹرنیٹ پہ طرھ طرح کی اسلامی نام سے ویب سائٹس قائم کر کے مسلمانوں کو ورغلانے اور رسوا کرنے کا بندوبست اپنی حکومتوں کے بے تحاشہ فنڈ سے کرتے رہتے ہیں۔ جن سے متاثر ہوکر کچھ گمراہ قسم کے مسلمان بھی انکے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں۔

    اگلے چند سالوں اسلامی دنیا کے خلاف انٹر نیٹ بہت خطرناک ہتیار کے طور پہ استعمال ہوگا۔ اس غلط مگر خطرناک پروپگنڈہ کا توڑ ابھی سے کیا جانا بہت ضروری ہے۔ ورنہ آنے والے وقتوں میں بہت دشواری ہوگی۔ ایک قدرے آسان تجویز یہ بھی ہے کہ ہراسلامی ملک میں ایک ادراہ ایسا ہونا چاہئیے۔ جو انٹر نیٹ پہ اسلام کے بارے میں پھیلائی شرانگیزیوں کا صحیح ادراک کر کے اس کا تدراک کر سکے۔ جس کے تحت چوبیس گھنٹے آن لائن ایک ایسی اسلامی ویب سائٹ ہو۔ جس کے ذریعیے کوئی بھی مسلم یا غیر مسلم فرد دنیا کے کسی بھی حصے سے اسلام کے بارے میں اسلامی کہلوا کر طرح طرح کی اول فول اور خرافات بیان کرنے والوں کی کسی بھی شر انگیزی کے درست یا غلظ ہونے کے بارے میں دریافت کر سکے۔ ایسی اسلامی سرکاری سائٹ پہ ہر مسلکی اختلاف سے مبرا اور اسلام کے بارے میں درست معلومات رکھنے والے اسکالرتعینات ہونے چاہئیں۔ اوراسلام کے بارے میں ہر آن درست معلومات دینے والے اس اسلامی ویب سائٹ کی ہرتشیہر ہر ملک اسطرح سے کرے کہ یہ سائٹ اسلام کے بارے میں صحیح معلمات کے لئیے ایک پیمانے کے طور پہ مشہور ہوجائیں۔

    ہم سے جو کوئی بھی کسی بھی حوالے سے کوشش کر سکتا ہو اسے خیال کو عملی جامہ پہنانے میں اپنا اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے۔

    گوہر شاہی کے مزکورہ فتنے اوراسطرح کی دوسری خرافات کہنے والوں کے چمچے چیلوں تک کی نہ صرف حفاظت کی جاتی ہے بلکہ انھیں کسی حد تک سرکاری تعاون بھی درکار رہتا ہے۔ اور اس روش کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے۔

  5. Alhassan umaru jalloh

    is good to think about GOD always.

تبصرہ کیجیے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: