شیخ صاحب اور فقیر

فقیر: اللہ کے نام پہ کچھ دے دو صاحب!

شیخ صاحب: مانگتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آتی کیا؟ ہر روز منہ اٹھا کے مانگنے چلے آتے ہو

فقیر: ہمارے صدر کو شرم آتی ہے کیا؟ ہم بھی تو اس کی ہی رعایا ہیں

شیخ صاحب: تم کچھ کام دھندہ کیوں نہیں کر لیتے؟

فقیر: آج کل مانگنا ہی سب سے زیادہ منافع بخش دھندہ ہے

شیخ صاحب: شرم کرو

فقیر: پھر وہی بات صاحب! شرم نامی چیز کو ہمارے معاشرے سے رخصت ہوئے عرصہ ہو گیا ہے

شیخ صاحب: کبھی کوئی نیکی کا کام بھی کر لیا کرو

فقیر: نیکی کا زمانہ نہیں رہا صاحب! کبھی آپ نے زکوٰۃ نکالی؟

شیخ صاحب:  میرا سر مت کھاؤ ! چلو بھاگو یہاں سے!

فقیر: ملک سے ہی بھاگ جاؤں گا! لیکن کوئی بڑا ہاتھ مارنے کے بعد!

شیخ صاحب: آدمی سمجھدار لگتے ہو!

فقیر: جی صاحب۔ میں بی اے پاس ہوں۔۔


Advertisements

Posted on ستمبر 16, 2009, in متفرقات and tagged , , , , . Bookmark the permalink. 9 تبصرے.

  1. Faqeer Ka Tu Maloom Hai Yea Shaikh Kon Sa Hai Pindi Wala Ya Karachi Wala

  2. شگفتہ آداب بے حد آداب
    پھولوں کی مہک آبشاروں کا ترنم
    شباب کا امنگ کلیوں کا تبسم
    فضاوں میں رچی خوشبو جیسی
    سحر انگیز شگوفوں دل آویز نغموں جیسی
    بھر پور گنگناتے خیال میں
    خوش کن اداوں جیسی
    خوش ادا مچلتی گنگناتی ریشمی لہروں جیسی
    حسین یادوں کے جل تھل جیسی
    پر کشش عید آئی ہے
    اس دھنک رنگ موقع پر میری جانب سے
    عید مبارک

  3. فرحان، خرم تشریف آوری کیلیے شکریہ۔

تبصرہ کیجیے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: