خوشامد

’’خوشامد کی قینچی عقل و فہم کے پر کاٹ کر انسان کو آزادئ پرواز سے محروم کر دیتی ہے
خوشامدیوں میں گھرا ہوا انسان شیرے کے قوام میں پھنسی ہوئی مکھی کی طرح بےبس اور معذور ہوتا ہے۔
رفتہ رفتہ اس کے اپنے حواس معطل ہو جاتے ہیں اور وہ وہی کچھ دیکھتا، سنتا، بولتا، سونگھتااور محسوس کرتا ہے، جو چاپلوسی ٹٹو چاہتے ہیں۔ جو خوشامدی کیڑے کو کُون کی طرح گھس کر اس کے وجود میں پلتے رہتے ہیں۔ جس سربراہ مملکت کی کرسی کو خوشامد کی دیمک لگ جائے وہ پائیدار نہیں رہتی، اس کے فیصلے ناقص ہوتے ہیں اور اس کی رائے دوسروں کے قبضے میں چلی جاتی ہے
‘‘۔

مندرجہ بالا الفاظ قدرت اللہ شہاب کے ہیں۔ خوشامد کے ماہرین کس طرح اپنا کام نکلوا کر غائب ہو جاتے ہیں، سب ان کے فن کی داد دیتے نظر آتے ہیں۔ خوشامد کروانے والا اس موقع پر ہوا میں ہوتا ہے جب اس کی خوشامد ہو رہی ہوتی ہے۔ اسے اپنے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ جب اسے ہوش آتا ہے تب تک خوشامدی اس کو استعمال کر چکے ہوتے ہیں۔

Advertisements

Posted on جولائی 13, 2009, in اردو ادب and tagged , . Bookmark the permalink. 1 تبصرہ.

تبصرہ کیجیے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: