اقبال کا شاہین

دورِ حاضر کے ایک نقاد کے بقول حضرت علامہ اقبالؒ بلاشبہ ایک عظیم شاعر تھے مگران کی ایک بات پر مجھے شدید اعتراض ہے۔ انھوں نے اپنی شاعری میں شاہین نامی ایک فرضی پرندے کا تو بہت زیادہ ذکر کیا ہے جبکہ مرغ نامی ایک عوامی پرندے کو وہ نظرانداز کر گئے۔ شاہین فرضی پرندہ اس لیے کہ یہ پرندہ کبھی ہمارے ملک میں نظر نہیں آیا۔ اس کا ذکر ماضی بعید کی کہانیوں میں یا پھر علامہ اقبالؒ کی شاعری میں ہی ملتا ہے۔ اس کے برعکس مرغ ایک ایسا پرندہ ہے جو ہمارے اردگرد بکثرت پایا جاتا ہے۔
مرغ نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر مقبول ہے۔ اسکول میں اساتذہ بچوں کو مرغا بنا کر، دعوتوں میں لوگ اس کو شکم میں اتار کر، مرید اپنے پِیر کو چڑھا کر اور بعض ظالم اسے لڑا کر اس پرندے سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ دیہات میں نامعلوم مقاصد کیلیے سب سے زیادہ چوری ہونے والی شے بھی یہی ہے۔
مرغ انسانوں سے گہری محبت رکھتے ہیں اور اسی محبت کی بنا پر انھوں نے انسانوں کی بھی کئی عادات اپنا لی ہیں۔ پہلے مرغے فجر کے قریب بانگیں دیا کرتے تھے تاکہ لوگ جلدی اٹھ جائیں مگر اب رات کے ایک یا دو بجے کے قریب سونے سے پہلے بانگ دیتے ہیں اور سو جاتے ہیں اور پھر سورج کی تیز دھوپ ہی ان کو جگاتی ہے۔
علامہ اقبال کے برعکس سید ضمیر جعفری مرغ کے پر تک کی اہمیت سے اچھی طرح واقف تھے۔ ان کے ایک شعر سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے:
میری درویشی کے جشنِ تاجپوشی کے لیے
ایک ٹوپی اور مرغی کے کچھ پر پیدا کرو
آپ نے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مزید فرمایا کہ
حضرتِ اقبال کا شاہین تو کب کا اُڑ گیا
اب کوئی اپنا مقامی جانور پیدا کرو
انقلابی بھینسا

کسی جنگل میں ایک بھینسا رہتا تھا۔ جنگل کے جس حصے میں وہ قیام پذیر تھا وہاں گھاس کی کافی قلت تھی۔ وہ چرنے کیلیے جنگل کے دیگر قطعوں میں جانے سے ڈرتا تھا کیوں کہ وہاں دیگر جانوروں کا راج تھا اور وہ اسے ادھر پھٹکنے نہیں دیتے تھے اور اسے مار بھگاتے تھے۔ اس صورتحال کی وجہ سے بھینسا بہت کمزور ہو گیا۔
ایک رات بھینسا سویا ہوا تھا کہ اسے خواب میں ایک بزرگ بھینسے کی روح کی زیارت ہوئی۔ انہوں نے اسے حالات تبدیل کرنے کیلیے جنگل کی سیاست میں عملی حصہ لینے کا مشورہ دیا اور کامیابی کی بشارت بھی دی۔ صبح اٹھ کر بھینسے نے بزرگ بھینسے کی روح کے مشورے پر عمل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
ابتدا میں بھینسے نے اپنے قطعہ کے کمزور جانوروں کو اکٹھا کیا اور انہیں ان کے بنیادی حقوق سے آگاہ کیا۔ آہستہ آہستہ جانوروں کا ایک گروہ اس کا ہم خیال بن گیا اور انہوں نے جنگل کے دیگر قطعوں میں ابھی اپنے انقلابی نظریات کا پرچار کرنا شروع کر دیا۔ وقت گزرتا گیا اور بھینسے کے گرد بے شمار جانور اکٹھے ہو گئے جن میں اکثر خونخوار درندے بھی شامل تھے۔ اب بھینسے نے انہیں جنگل کا کنٹرول حاصل کرنے کا حکم دے دیا اور جنگل میں ایک نہ ختم ہونے والا خون خرابہ شروع ہو گیا۔
جنگ کے دوران جب بھینسے پر بھی حملے ہوئے تو وہ جان بچانے کیلیے ایک دور دراز جنگل میں بھاگ گیا اور وہاں پناہ حاصل کی۔ وہاں کی آب و ہوا اور خوراک بھینسے کو خوب راس آئی اور اس کی گردن اور منہ خوب موٹے ہو گئے اور پیٹ کا حجم تین گنا ہو گیا۔
اب بھینسا وہاں موٹاپے کی وجہ سے عجیب و غریب آواز میں ڈکراتا پھرتا ہے اور وہاں سے اپنے گروہ کو جنگی ہدایات بھیجتا رہتا ہے اور اس کے گروہ کے جانور جنگل میں اقتدار کی جنگ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بعض جانور اسے مشورہ دیتے ہیں کہ واپس اپنے جنگل میں چلے جاؤ مگر بھینسا انتہائی سیانا ہو چکا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ انقلاب اپنے رہنما کا خون مانگتا ہے اور بھینسے کو اپنی جان بہت پیاری ہے۔
سیاست دان
استاد: سیاست دان کیا کرتے ہیں؟
شاگرد ۱: عوام کو دھوکہ دیتے ہیں!
شاگرد ۲: ملکی خزانے کو لوٹتے ہیں!
شاگرد ۳: عوام کو بے وقوف بناتے ہیں!
شاگرد ۴: عوام کے ساتھ جھوٹے وعدے کرتے ہیں!
شاگرد ۵: ملک کے ساتھ غداری کرتے ہیں!
شاگرد ۶: ملک کے ٹکڑے کرتے ہیں!
شاگرد ۷: لوگوں کو قتل کرواتے ہیں!
شاگرد ۸: حرام خوری کرتے ہیں!
شاگرد ۹: بے غیرتی کرتے ہیں!
شاگرد ۱۰: ………………………………
شاگرد ۱۱: ……………………………….
…………………………………………………
استاد: آخر آپ لوگ یہ کیوں نہیں کہتے کہ وہ “سیاست” کرتے ہیں؟
شاگرد : کیونکہ ہم طالبِ علم ہیں۔ سیاستدان نہیں!
انتباہ
وکی لیکس کا پاکستان کے بارے میں ایک اور تازہ ترین انکشاف ملاحظہ فرمائیے:
چند سال قبل پاکستان کی وزاتِ بہبودِ آبادی نے ملک کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کو روکنے میں ناکامی کا اعتراف کیا۔ وفاقی وزیر نے کابینہ کو بتایا کہ محکمہ اپنے مقاصد میں بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔ ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی کو روکنا اب اس کے بس میں نہیں رہا۔ وزیر نے سفارش کی کہ ان کے محکمے کا کام ملک کی سیکیورٹی فورسز کو سونپ دیا جائے کیونکہ وہ لوگ یہ کام زیادہ بہتر طریقے سے سرانجام دے سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ خاندانی منصوبہ بندی کی گولیوں کے پیسے ہمیں دے کر ضائع کرنے کی بجائے فورسز کو دیئے جائیں تاکہ وہ زیادہ زود اثر گولیاں خرید سکیں۔ وفاقی کابینہ نے اس تجویز کا خیر مقدم کیا اور اسے فوراً منظور کر لیا گیا۔
انسانی حقوق کی کچھ تنظیموں نے پاکستانیوں سے درخواست کی ہے کہ اگر آپ لوگ چاہتے ہیں کہ آپ کے پیاروں کو آپ کیلیے رونا نہ پڑے تو وردی والوں اور ان کی گاڑیوں سے کم از کم ایک ہزار میٹر کا فاصلہ رکھیں تاکہ آپ کی جان خطرے میں نہ پڑے۔

